سانحہ ماڈل ٹاؤن میں کون ملوث ہے، احسن اقبال بول اٹھے
لاہور: لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چودھری احسن اقبال نے کہا کہ دھرنوں کے ذریعے حکومت الٹنے کے خواہشمند سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث ہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے پیچھے وہی قوتیں تھیں جو اگست میں لانگ مارچ کے ذریعہ حکومت کا تختہ الٹنا چاہتی تھیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران خان جیسے اناڑی ملک کیسے چلا سکتے ہیں؟ عمران سے اچھا سسٹم تو ایک کونسلر چلا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں پر تنقید کرنے والوں کے اپنے صوبے کا برا حال ہے، خیبر پختونخوا حکومت کی کرپشن کے سامنے مشرف دور بھی کچھ نہیں، عمران خان نے دعویٰ کیا تھاکہ خیبر پختونخوا کو بجلی میں خود کفیل کر دیں گے، اب تک خیبر پختونخوا نے کتنے میگا واٹ بجلی پیدا کی؟ خیبر پختونخوا میں تو آج تک احتساب کمیشن نہیں بن سکا کیونکہ احتساب کمیشن کے سربراہ نے جب عمران خان کے لوگوں کو پکڑا تو انہوں نے احتساب کمشین کو تالا لگا دیا، جسٹس وجیہ الدین نے کہا کہ پارٹی پر چوروں اور لینڈ مافیا نے قبضہ کر لیا ہے تو عمران خان نے چوروں لٹیروں کو نہیں کرپشن پر آواز اٹھانے والے جسٹس وجیہ الدین کو پارٹی سے نکال دیا۔ وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ جتنی کرپشن خیبر پختونخوا حکومت نے کی، شاید اس کا مقابلہ پرویز مشرف کے دور سے بھی نہ کیا جا سکے۔
احسن اقبال نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سینیٹ کا الیکشن ہو گیا تو پی ٹی آئی کا بھانڈا پھوٹ جائے گا، عمران خان اسی لئے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ ان کے ارکان نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ سینیٹ کے الیکشن میں اپنی مرضی سے ووٹ کاسٹ کریں گے، عمران خان سینیٹ کے الیکشن میں ہزیمت کے خوف سے جلد الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے توانائی بحران کو شکست دی، دہشتگردی کے خلاف جنگ ابھی جاری ہے، دہشتگردی کے جن کو بوتل میں بند کر رہے ہیں، پاکستان دشمنوں نے ہمارے خلاف سازشیں تیز کر دی ہیں، موجودہ حکومت نے پاکستان کو دلدل سے نکالا ہے، طاہر القادری سے اپیل کرتا ہوں کہ اے پی سی کا ایجنڈا بنائیں کہ صدر ٹرمپ کو کیا جواب دینا ہے، قوم کو یکجہتی کی ضرورت ہے، انتشار کی نہیں۔
وزیر داخلہ نے اعتراف کیا کہ ماڈل ٹاؤن کا واقعہ ہماری سیاست اور دور پر دھبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک میٹنگ میں شہباز شریف ماڈل ٹاؤن واقعہ پر رو پڑے، شہبازشریف نے کہا کہ اس کو خود پر بوجھ سمجھتا ہوں، ہماری سیاست میں گولی کی جگہ نہیں ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ اکتوبر کی بات تھی کہ وزیراعظم برطانیہ کے دورے پر جانا چاہتے تھے، ان سے کہا اپریل میں لانگ مارچ کی خبر ہے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی جائے گی۔