خبرنامہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مساجد اور مدارس سے متعلق بڑا حکم جاری کردیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مساجد اور مدارس سے متعلق بڑا حکم جاری کردیا
اسلام آباد:(ملت آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی و دھرنا کیس کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا کہ مساجد و مدارس سے کفر کے فتوے بند کروائے جائیں جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ازخودنوٹس کی کارروائی مکمل ہونے تک ملتوی کر دی۔تفصیلات کے مطابق پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیزصدیقینے ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی اور دھرنا ختم کرانے کے حوالے سے متفرق درخواستوں کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں کودھرنے میں ماراگیا،اہلکاروں کومارنے والے پولیس وردی میں تھے،انہوں نے کہا کہ اسلام آبادپولیس کو 4ماہ کی اضافی تنخواہ دینی چاہئے، پولیس والوں کے بچوں کاکوئی پرسان حال نہیں،جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ہرپولیس اہلکارکوسہولتیں دینے تک مقدمہ ختم نہیں ہوگا۔اس پر اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے کہا کہ ریاست کافرض ہے ہرشخص کی نگہداشت ہو۔جسٹس شوکت عزیز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو سرکاری املاک کونقصان پہنچااس کاکیاہوگا؟، نقصان کاازالہ وفاق اورصوبائی حکومت کرے گی؟،بتایا جائے کہ دھرنے والوں کیخلاف دہشتگردی کی دفعات کس قانون کے تحت ختم کیں۔اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت دیں تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کردوں گا۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کو کیس جاری رکھنے سے نہیں روکا،اخلاقی طور پر کیس کی سماعت کر رہا ہوں،انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھیج دیں،آپ خودپارلیمنٹ کیبالادستی کی بات کرتے ہیں اورمیں پارلیمنٹ کو عملی طور پرطاقتور بنانا چاہتا ہوں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ کیا دھرنے والوں سے حکومت کے معاہدے کا معاملہ پارلیمنٹ کو بھیج دیں۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے جواب دیا کہ اس بات کا فوری جواب نہیں دے سکتا اور عدالت وقت دے تو جواب داخل کرادیں گے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مساجد اور مدارس سے کفر کے فتوی بند کروائے جائیں،خادم رضوی خون کیسے معاف کر سکتے ہیں؟، تحریک لبیک کا دوسرا گروپ کہہ رہا ہے کہ انہوں نے کروڑوں روپے لئے،بتایا جائے کہ معاہدے میں آرمی چیف کا نام کیوں استعمال ہوا؟۔اسلام آباد انتظامیہ اور آئی بی کی جانب سے دھرنے سے متعلق رپورٹس عدالت میں جمع کرادی گئیں جبکہ بیرسٹر ظفراللہ نے ختم نبوت حلف نامے میں ترمیم کی انکوائری سے معذرت کر لی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو 2 آپشنز دے دیئےپہلے آپشن میں کہاگیا ہے کہ دھرنے والوں کے ساتھ کیا گیا معاہدہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے دوسرے آپشنز میں کہا گیا ہے کہ وفاقی سطح پراہم اجلاس میں معاہدے کی قانونی حیثیت واضح کریں۔دوران سماعت انٹیلی جنس بیورونے رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیرسٹر ظفراللہ کو معاملے کی انکوائری کر کے رپورٹ دینے کا حکم دیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ کے سامنے راجا ظفر الحق کی رپورٹ بھی پیش کردی جائے گی۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ زخمی میں ہوا ہوں ریاست کو کیا حق ہے میری جگہ راضی نامہ کرے ، جس پولیس کو مارا گیا کیا وہ ریاست کا حصہ نہیں،اسلام آباد پولیس کو 4 ماہ کی اضافی تنخواہ دینی چاہیے، پولیس کا ازالہ نہیں کیا جاتا تو مقدمہ نہیں ختم ہونے دوں گا۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریاست کا جو نقصان ہوا وزارتوں سے کہا ہے تخمینہ لگائیں۔فاضل جج نے کہا کہ ریاست نے دھرنے والوں کے آگے سرنڈر کردیا، جو معاملہ سپریم کورٹ میں نہیں وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ بعد ازاں کیس کی سماعت 12 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔