عادل الجبیرکی یمن کے بحران پر بات چیت
ریاض:(ملت آن لائن) یمن کی تازہ ترین صورت حال پرغور کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا اور برطانیہ کے نمائندوں پر مشتمل اہم اجلاس گذشتہ روز امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں ہوا۔ یمن کے بحران پرغور کے لیے سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر اجلاس میں شامل تھے۔سعودی پریس ایجنسی’ایس پی اے‘ کے مطابق عادل الجبیر نے امارات، برطانیہ اور امریکا کے مندوبین کے ساتھ یمن کے بحران پر بات چیت کی ہے۔خیال رہے کہ یمن کے بحران کے حل کے لیے مذکورہ چاروں ممالک کا اتحاد جون 2016ء میں تشکیل دیا گیا تھا۔ گروپ چار میں امریکا، برطانیہ، سعودی عرب اور امارات شامل ہیں۔ گذشتہ برس دسمبر میں سلطنت اومان بھی اس گروپ میں شامل ہوگئی تھی۔ابو ظہبی میں ہونے والے اجلاس میں اماراتی وزیرخارجہ عبداللہ بن زاید آل نھیان، برطانوی وزیرخارجہ بوریس جانسن بھی شریک تھے۔برطانوی وزیرخارجہ حالیہ ایام میں مشرق وسطیٰ کے دور پرآئے تھے۔ اپنے اس دورے کے دوران وہ ایران بھی گئے اور سلطنت اومان سے ہوتے ہوئے متحدہ عرب امارات پہنچے ہیں۔یمن میں گذشتہ ہفتے سابق صدر علی عبداللہ صالح کیباغیوں کے ہاتھوں قتل کے بعد حالات مزید ابترہوگئے ہیں۔
یمن کے بحران پرغور کے لیے سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر اجلاس میں شامل تھے۔سعودی پریس ایجنسی’ایس پی اے‘ کے مطابق عادل الجبیر نے امارات، برطانیہ اور امریکا کے مندوبین کے ساتھ یمن کے بحران پر بات چیت کی ہے۔خیال رہے کہ یمن کے بحران کے حل کے لیے مذکورہ چاروں ممالک کا اتحاد جون 2016ء میں تشکیل دیا گیا تھا۔ گروپ چار میں امریکا، برطانیہ، سعودی عرب اور امارات شامل ہیں۔ گذشتہ برس دسمبر میں سلطنت اومان بھی اس گروپ میں شامل ہوگئی تھی۔ابو ظہبی میں ہونے والے اجلاس میں اماراتی وزیرخارجہ عبداللہ بن زاید آل نھیان، برطانوی وزیرخارجہ بوریس جانسن بھی شریک تھے۔برطانوی وزیرخارجہ حالیہ ایام میں مشرق وسطیٰ کے دور پرآئے تھے۔ اپنے اس دورے کے دوران وہ ایران بھی گئے اور سلطنت اومان سے ہوتے ہوئے متحدہ عرب امارات پہنچے ہیں۔
خبرنامہ
عادل الجبیرکی یمن کے بحران پر بات چیت