خبرنامہ

علمائے کرام کا معصوم زینب کے قاتل کو سر عام سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ

علمائے کرام کا معصوم زینب کے قاتل کو سر عام سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ

کراچی :(ملت آن لائن) علمائے کرام نے معصوم زینب کو درندگی کانشانہ بنانے اور قتل کرنے کےملزم کوسر عام سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ علمائے کرام کا معصوم زینب کے قاتل کو سر عام سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کردیا ہے کہ ، زینب قتل کیس کے حوالے سے علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی کا کہنا تھا کہ ایسے مجرم کو سر عام سزا دینے کا حکم ہے، زینب کےمجرم کو عبرتناک سزا ہونی چاہئے۔ مفتی محمد زبیر نے کہا کہ ایسے مجرم کو قصاص میں قتل کیا جائے، اس جرم ی تعزیری سزا بھی موت ہے۔ مفتی سہیل رضا امجدی کا کہنا تھا کہ زینب کےقاتل کوسب کے سامنے سزادی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی کوشش بھی نہ کرے، سزا دیناحکومت کااورعذاب دینا اللہ کا کام ہے۔ مفتی عمیر محمود صدیقی نے کہا کہ بچی کا اغوا، زیادتی اور قتل دہشت گردی ہے، اللہ کا حکم ہے کہ انہیں عبرتناک طریقے سے قتل کیا جائےعلامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ ایسے مجرم کو سب کے سامنے سزا دی جائے۔ علماء کی اکثریت نے اتفاق کیا کہ ایسے بیمار اور جنونی کو سرعام سخت ترین سزا دی جائے، تاکہ آئندہ کوئی اس طرح کے جرم کی جرات نہ کرسکے۔
شریعت کے مطابق ملزم کوسرعام سزادی جائے،والد زینب
خیال رہے قاتل کی گرفتاری کے بعد زینب کے والد نے مطالبہ کیا تھا کہ پوری دنیا ملزم کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کررہی ہے، شریعت کے مطابق ملزم کو سرعام سزادی جائے۔ گذشتہ روز زینب قتل کیس کے ملزم عمران علی نے اپنے اعترافی بیان میں‌ کہا تھا کہ زینب کو اس کے والدین سے ملوانے کا کہہ کرساتھ لے گیا تھا، وہ باربار پوچھتی رہی ہم کہاں جا رہے ہیں، راستےمیں دکان پر کچھ لوگ نظرآئے، تو واپس آگیا، زینب کو کہا کہ اندھیرا ہے، دوسرے راستے سے چلتے ہیں، پھر زینب کودوسرے راستےسے لے کر گیا۔ اس سے قبل ننھی زینب کے سفاک قاتل عمران علی کو سخت سیکیورٹی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں عدالت نے ملزم عمران کوچودہ دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
ننھی زینب کا سفاک قاتل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
یاد رہے کہ دو ہفتوں‌ کے انتطار کے بعد زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران کو گرفتار کیا گیا، ملزم عمران زینب کے محلہ دار تھا، پولیس نے مرکزی ملزم کو پہلے شبہ میں حراست میں لیا تھا، لیکن زینب کے رشتے داروں نے اسے چھڑوا لیا تھا۔ واضح رہے کہ 9 جنوری کو سات سالہ معصوم زینب کی لاش قصور کے کچرے کنڈی سے ملی تھی, جسے پانچ روز قبل خالہ کے گھر کے قریب سے اغواء کیا گیا تھا، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں معصوم بچی سے زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہوئی تھی، عوام کے احتجاج اور دباؤ کے باعث حکومت کی جانب سے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی۔