عمران خان کیس کا موازنہ نواز شریف سے نہیں کیا جا سکتا: جسٹس فیصل عرب
اسلام آباد:(ملت آن لائن) سپریم کورٹ نے عمران خان اور جہانگیر ترین کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عمران خان سے متعلق فیصلہ 143 صفحات پر مشتمل ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں جسٹس فیصل عرب کا 13 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ بھی شامل ہے۔ اپنے اضافی نوٹ میں جسٹس فیصل عرب نے لکھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی مزید تشریح کرنا چاہتا ہوں۔ اگر کسی نے فراڈ کے ذریعہ اثاثے بنائے تو پھر اہلیت کا سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ منتخب رکن بننے سے پہلے دھوکہ دہی سے اثاثے بنانے پر عدالت کارروائی کر سکتی ہے۔ منتخب رکن بننے کے بعد دیکھنا ہو گا کہ اثاثے آمدن سے زائد تو نہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ نواز شریف گزشتہ 30 سال اعلیٰ عوامی عہدے پر تعینات رہے۔ اتنا عرصہ عوامی عہدہ رکھنے والا شخص صاف وشفاف ہونا چاہیے۔ نواز شریف اور اہلخانہ اثاثوں کے ذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہے۔ لندن فلیٹس، عزیزیہ سٹیل ملز اور گلف سٹیل ملز کے ذرائع آمدن بتانے میں بھی ناکام رہے۔سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ یہاں پڑھیں اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف عوامی عہدہ رکھنے سے پہلے یہ اثاثے نہیں رکھتے تھے۔ عمران خان کے کیس کا موازنہ نواز شریف کے کیس سے نہیں کیا جا سکتا۔ اثاثوں کے ذرائع آمدن سے متعلق مکمل وضاحت نہیں دی گئی۔ نواز شریف کی ایف زیڈ ای کا انکشاف جے آئی ٹی رپورٹ میں ہوا۔ نواز شریف نے ایف زیڈ ای کمپنی سے تنخواہ لینے کو ظاہر نہیں کیا تھا۔
خبرنامہ
عمران خان کیس کا موازنہ نواز شریف سے نہیں کیا جا سکتا: جسٹس فیصل عرب