خبرنامہ

قومی بنکوں میں بائیو میٹرک میلہ…اسد اللہ غالب

کوئٹہ چرچ

قومی بنکوں میں بائیو میٹرک میلہ…اسد اللہ غالب

بیس جون آخری تاریخ تھی جو قومی بنکوں کی طرف سے اپنے اکائونٹ ہولڈروں کو بائیو میٹرک تصدیق کے لئے دی گئی تھی۔ بنکوں نے اس کے لیے ہر روز کئی کئی پیغامات بھیجے کہ بائیو میٹرک تصدیق نہیں کروائی گئی تو اکائونٹ معطل کر دیا جائے گا۔ ایسے خطرناک پیغام پڑھ کر کون کافر گھر چین سے بیٹھ سکتا تھا۔ ہر بنک میں ایک میلہ لگ گیا۔ ہجوم ٹھاٹھیں مارتے نظر آئے اور بنک افسر ہلکان تھے، کسی کی تصدیق ہو پا رہی تھی اور کسی کے انگوٹھے کے نشانوں کی تصدیق نہیں ہو رہی تھی۔ مجھے نارنگ منڈی سے ایک پچاسی سالہ بوڑھے نے فون کیا کہ اس کی تصدیق نہیں ہو سکی تو کیا کروں۔ میںنے کہا کہ فوری طور پر نادرا کے دفتر جائیں اور نئے نشانات رجسٹر کروا دیں انہوںنے پھر فون کیا کہ نادرا کے سسٹم نے بھی ان کے انگوٹھے کے نشانات نہیں پکڑے،۔ میںنے کہا کہ بھائی جی۔ جو دس پندرہ ہزار کی رقم ہے اکائونٹ سے نکلو ا لیں ناحق کیوں پریشان ہوتے ہیں۔ کہنے لگے پریشانی یہ نہیں کہ دس پندرہ ہزار ضبط ہو جائیں گے،۔ بلکہ پریشانی یہ ہے کہ ہر ماہ اس اکائونٹ میں پنشن آتی ہے۔ اس سے محروم ہو جائوں گا۔ میں بھی کئی بنکوں میں گیا اور جو شوقیہ اکائونٹ کھلوا رکھے تھے۔ انہیں بند کروا دیا،۔ ایک خاتون مینجر نے میری گھبراہٹ دیکھی تو کہنے لگیں کہ پینسٹھ سال سے اوپر کے افراد پر بائیو میٹرک تصدیق کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ہم ان کا نیا اکائونٹ بھی کھول سکتے ہیں اور پرانا اکائونٹ بھی بند نہیں کریں گے۔ میںنے نادرا کے ایک افسر سے پوچھا کہ یہ بوڑھے کیا کریں جن کے انگوٹھوں کے نشان ہر ہفتے تبدیل ہو جاتے ہیں۔ پتہ چلا کہ ایسے افراد کو سول ہسپتال کے کسی سکن سپیشلسٹ سے ایک سرٹی فیکیٹ لینا چاہئے کہ ان کے نشانات مستقل برقرار نہیں رہ سکتے۔ میںنے یہ دونوں باتیں نارنگ منڈی والے دوست کو بتائیں، شاید اس نے اس پر عمل کیا یا نہیں کیا۔ آج پوچھوں گا کہ اکائونٹ چل رہا ہے یا معطل ہو گیا ہے۔

حالیہ بجٹ تقریر میں بتایا گیا تھا کہ پورے ملک میں قومی بنکوں کے پاس چار کروڑ اکائونٹ ہولڈر ہیں۔ اگر ہر فرد کے خاندان میں پانچ افراد شمار کئے جائیں تو نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پورے پاکستان کی بیس کروڑ آبادی کے سر براہوںکو بیس جون سے پہلے بایئو میٹرک کے پل صراط سے گزرنا ہے۔ یہ تو مجھے یقین ہے کہ نادرا کا سسٹم چار کروڑ افراد کی شناخت کے عمل میں کسی دبائو کا شکار نہیں ہو گا اور جس طرح الیکشن کی رات الیکشن کمیشن کا آر ٹی ایس دبائو کا شکار ہو کر بند ہو گیا تھا، ایساتو اب نہیں ہوگا مگر یہ تو ضرور ہو گا کہ لوگوں کے انگوٹھوں کے نشانات ایک جیسے نہیں رہتے۔ ویسے کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں ہم واپس پتھر کے دور میں اپنے آپ کو دھکیل رہے ہیں اور وہی نشان انگوٹھا ثبت ہے والا نظام واپس لانے کی کوشش کر ہے ہیں۔ جب ایک بار کسی شہری کا شناختی کارڈ بن گیا اور اس میں ایک سم بھی لگا دی گئی جس میں کارڈ ہولڈر کی ہر طرح کی معلومات موجود ہیں تو پھر بار بار بائیو میٹرک تصدیق کے عمل سے کیوں گزارا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اپنے قومی شناختی کارڈ پرا عتماد نہیں کرتے اور اسے مشکوک بنا رہے ہیں۔ اصولی طور پر جس شخص کے پاس قومی شناختی کارڈ موجود ہو۔ اسے موبائیل فون سم بھی ملنی چاہئے۔ اس کا بنک اکائونٹ بھی کھلنا چاہئے۔ اس کا پاسپورٹ بھی بننا چاہئے اورا سے اسلحہ بھی جاری ہونا چاہئے، ان کاموں کے لئے اس کی بائیو میٹرک تصدیق کی کیا ضروت۔ یہ ہم نے کیا نیا جھنجھٹ پال لیا ہے۔ یہ تو نری درد سری ہے۔

چند برس قبل قوم کو موبائل سموں کی تصدیق کے لئے ابھی ایک امتحان سے گزارا گیا تھا۔ سخت گرمی کا موسم تھا۔، کوئی بارہ پندرہ کروڑ سموں کی تصدیق ہونا تھی۔ موبائل کمپنیوں کے اندراور باہر دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں مہنیوں تک ایک ہجوم لگا رہا۔ ہر چند صارفین کی سہولت کے لیے موبائل کمپنیوں نے بائیو میٹرک تصدیق کے لئے فالتو ٹیبس بھی خرید لئے تھے یا کہیں سے ادھار پکڑ لئے تھے مگر یہ عمل اس قدر طول تھا کہ کئی بار آخری تاریخ میں توسیع کرنا پڑی۔

نفسیاتی طور پر ہمارے حکمرانوںنے پوری قوم کو مجرم تصور کر لیا ہے۔ موبائل سموں کی تصدیق دہشت گردوں کو پکڑنے کے لئے کی گئی جو خود کش دھماکے کے لئے موبائل فون استعمال کرتے ہیں مگر کیا دہشت گرد اتنے ہی بھولے تھے کہ وہ اپنی سموں کی تصدیق کے لئے موبائل فون کمپنیوں کے دفاتر کے پھیرے پر پھیرے لگاتے۔

اب یہ جو بنک اکائونٹوں کی تصدیق کے نام پر بائیو میٹرک کی کوفت اٹھانا پڑ رہی ہے اور وہ بھی قوم کے بیس کروڑ عوام کے ہر خاندان کے سربراہ کو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اب ہر اکائونٹ ہولڈر کو پاپڑ والا۔ فالودے والا،گول گپے والا تصور کر لیا گیا ہے۔ ہمارے حکمرانوں اور ان کے ماتحت اداروں کی سوچ یہ ہے کہ اس ملک کا ہر شہری منی لانڈرنگ میں ملوث ہے۔ چورہے،۔ ڈاکو ہے ،لٹیرا ہے اس لئے اسے مت چھوڑا جائے،اسے جیسے بھی گھسیٹا جا سکتا ہے ، گھسیٹا جائے۔ ا سکی چیخیں نکلوا ئی جائیں اسے رلایا جائے۔ ابھی تو بنک اکائونٹ معطل ہوں گے ، پھر شاید ضبط ہوں اور آخری مرحلے میں جن اکائونٹوں کی کسی وجہ سے تصدیق نہیں ہو سکے گی ، انہیں جیلوںمیں ڈال دیا جائے۔ آج ہی سابق صدر زرداری نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ آج ان کی باری ہے کل کو کسی اور کی باری آئے گی۔ یہ قوم باریاں بھگتنے کے لئے رہ گئی ہے۔ ایک بنک میں کوئی بوڑھی خاتون پریشانی کے عالم میں بنک منیجر سے پوچھ رہی تھی کہ کیا پانچ لاکھ سے اوپر رقم ہو گی تواسے پکڑ لیا جائے گایا جبری ٹیکس لے کر چھوڑ دیا جائے گا۔ میںنے کہا ۔ بہن آپ کو پیسے کہاں سے آتے ہیں، آپ تو کسی کام کاج جوگی ہیں نہیں کہنے لگیں کہ میرا بیٹا امریکہ میں ہے اور گھر چلانے کے لئے پیسے بھیجتا رہتا ہے۔ میںنے اسے تسلی دلائی کہ امریکہ سے جو رقم آتی ہے۔ اس پر امریکی حکومت پورا پورا ٹیکس کاٹ لیتی ہے۔اور بجٹ تقریر میں کہا گیا کہ رشتے داروں کو ملنے والے پیسوں پر کوئی ٹیکس نہیں لگے گا۔پتہ نہیں اس کی تسلی ہوئی یا نہیں۔ یہ تو جولائی کے بعد پتہ چلے گا جب ہر شخص کی ریٹرن کو پرکھا جائے گا،۔ ابھی رمضان میں پنجاب حکومت نے انہی ٹیکس ریٹرنوں کی پڑتال کی ہے تو جس جس نے دو ہزار بارہ سے اب تک صوبائی زرعی انکم ٹیکس نہیں دیا،۔ اس سے ایک ساتھ آٹھ برسوں کا ٹیکس وصول کیا گیا۔ میںنے بھی اپنی پریشانی میں اے سی ماڈل ٹائون لاہور سے ملاقات کی تھی کہ ایک ساتھ آٹھ برسوں کی اتنی بڑی رقم کہاں سے لائوں، ایک اور بوڑھا رو پیٹ رہا تھا کہ اس کے پاس زرعی زمین تھی جسے اس نے قرضوں کی ادائیگی کے لئے بیچ دیا مگر اب اس پر سترہ ہزار کا ایک نوٹس آ گیا ہے،۔ اے سی صاحب نے کہا کہ وہ تو دس پندرہ روز کی مہلت دے سکتے ہیں مگر تیس جون سے پہلے پہلے انہوںنے ہرقیمت پر ٹیکس وصول کرنا ہے خواہ ا ٓپ کہیں غائب بھی کیوںنہ ہو جائیں تو اس پراس بوڑھے کے ساتھ آنے والے ایک نوجوان نے کہا کہ باپ غائب ہو گیا تو آپ مجھے پکڑ لیں گے ،ا ے سی صاحب نے بڑے تحمل سے کہا کہ میںنے تو ہرصورت میں ٹیکس لینا ہے اور یہ میں بار بار کہہ رہا ہوں۔ اب جو حکومت تلی ہوئی ہے کہ غریب عوام سے ٹیکس وصول کر کے رہنا ہے تو پھر میں نے بھی ہوش مندی کی راہ لی اور رشتے داروں، دوستوں سے پکڑ کر آٹھ برسوں کے ٹیکس نوٹسوں کوبھگتایا۔ اب رشتے داروں کو کیسے بھگتائوں گا، یہ بعد کی بات ہے، وہ کم ازکم جیل میں تو نہیں ڈالیں گے۔ یہ تو نہیں کہیں گے کہ جسے بھی جیل کی ہو اکھانا پڑی۔ اسے ٹینش ہو گئی دل کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ شوگر بڑھ گئی سر چکرا نے لگا،۔ مجھے صدر مرسی یاد آ رہے ہیں جنہیں سات برس تک قید میں رکھا گیا حتی کہ وہ موت کے منہ میں چلے گئے اور اسے خاموشی سے کہیںدفن کر دیا گیا، رشتے داروں کو چہرہ بھی نہیں دکھایا گیا۔، مجھے بھٹو یاد آئے جنہیں پھانسی دے دی گئی اور رشتے داروں کو جنازے میں بھی شرکت نہ کرنے دی گئی۔ ریاست بہت طاقتور ہوتی ہے۔ یہ حقیقت تو سقراط جیسے منطقی اور فلاسفر کو بھی قبول کرنا پڑی تھی۔ ہم چھوٹے چھوٹے بنک اکائونٹ ہولڈر ز کی کیا اہمیت، اور ہمارے انگوٹھوں کے نشان مٹ جائیں تو کسی کا کیا نقصان۔
مگر میرا پھر سوال ہے کہ یا تو قومی شناختی کارڈ پر اعتماد کیا جائے۔ یا اس کی جگہ صرف بائیو میٹرک نظام پر انحصار کیا جائے۔ قومی شناختی کارڈ کوئی خیرات میں نہیں بنتا،۔ اس پر پیسے لگتے ہیں اور قطاروں میں لگنا پڑتا ہے، یہ قابل اعتبار کیوں نہیں۔