خبرنامہ

متحدہ مجلس عمل انتخابات پراثر انداز ہوسکتی ہے: مبصرین

متحدہ مجلس عمل انتخابات پراثر انداز ہوسکتی ہے: مبصرین
کراچی: (ملت آن لائن) بڑی مذہبی جماعتوں پر مشتمل سب سے بڑے مذہبی اتحاد متحدہ مجلس عمل ( ایم ایم اے ) کی 10 سال بعد بحالی پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات اور آئندہ عام انتخابات میں بڑے پیمانے پراثر انداز ہوسکتی ہے۔ سیاسی مبصرین نے کہا کہ ایم ایم اے کی اس ممکنہ کامیابی کا انحصار بہتر حکمت عملی، دیگر جماعتوں کے ساتھ مفاہمت اور انتخابی مہم پر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ایم ایم اے کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ (ن) لیگ اور سندھ کے شہری علاقوں میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوسکتی ہے۔ مبصرین نے مزید کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے مجلس عمل کو صرف مذہبی جماعتوں پر ہی انحصار نہیں بلکہ بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مختلف صوبوں یا علاقوں کی بنیاد پر انتخابی مفاہمت اور منظم و مربوط انتخابی مہم کو بھی یقینی بنانا ہو گا اور کسی بھی تقسیم سے بچنا ہو گا۔ اگر ایم ایم اے نے ان تمام تقاضوں کو پورا کیا تو خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کافی مثبت نتائج مل سکتے ہیں، جب کہ پنجاب اور سندھ میں بھی ماضی کے مقابلے میں صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق متحدہ مجلس عمل میں شامل بعض رہنماؤں کی خواہش ہے کہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے بعد اب ہم خیال بڑی جماعتوں کے ساتھ انتخابی مفاہمت پر بھی غور کرنا چاہیے، بعض حلقوں کی تجویز ہے کہ خیبر پختونخوا میں متحدہ مجلس عمل کا مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی اوربلوچستان میں مسلم لیگ (ن)، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈ جسٹمنٹ یا انتخابی اتحاد بڑی کامیابی کا باعث بن سکتا ہے۔ پنجاب میں اگرچہ موجودہ صورتحال میں مسلم لیگ (ن ) کے لیے کافی مشکلات ہیں تاہم ایم ایم اے کے پاس انتخابی مفاہمت کے لیے پنجاب میں (ن) لیگ کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے، (ن) لیگ کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے متحدہ مجلس عمل بہترنتائج حاصل کرسکتی ہے۔
سندھ میں اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ دیہی علاقوں میں پیپلز پارٹی اورایم ایم اے کے درمیان کوئی انتخابی مفاہمت ہو سکے، تاہم سندھ کے شہری علاقوں میں پیپلز پارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا انتخابی مفاہمت ماضی کے مقابلے میں بہتر نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق ایم ایم اے کے لیے پیپلزپارٹی کے مخالف گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے انتخابی اتحاد یا مفاہمت بہتر ثابت ہو گی۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ تنظیم سازی اور عہدوں کی تقسیم کے دوران ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوسکتے ہیں جوکہ اس اتحاد کے ٹوٹ پھوٹ کا باعث بن سکتے ہیں۔ خیال ہے کہ بعض سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں کی بھی یہ خواہش ہے کہ بڑی مذہبی جماعتوں کا یہ اتحاد منظم انداز سے انتخابی میدان میں نہ اُتر سکے ، تاہم مبصرین کے مطابق ایم ایم اے نے بہتر انتخابی حکمت عملی اختیار کی تو 2002ء سے بہتر پوزیشن حاصل ہوسکتی ہے۔