خبرنامہ

مسلم لیگ ہاؤس میں صحافیوں پر تشدد

مسلم لیگ ہاؤس میں صحافیوں پر تشدد

کراچی:(ملت آن لائن)وفاقی مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کراچی میں مسلم لیگ ہاؤس میں صحافیوں پر تشدد کا واقعہ پیش آنے پر معافی مانگ لی۔ مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی کو فون کرکے واقعے پر معافی مانگی۔ ان کا کہنا تھا کہ عصمت اللہ محسود اور اس کے ساتھی کو فوری طور معطل کردیا گیا ہے اور یہ مسلم لیگ کا کلچر نہیں ہے۔ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ غنڈہ گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس موقع پر کے یو جے کے سیکریٹری نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ کے یو جے کے تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں گے اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ ضرور درج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال سے رابطے میں ہیں اور اگر پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا تو اندراج کے لیے خود تھانے بھی جائیں گے۔ کراچی: مسلم لیگ ہاؤس میں صحافیوں پر تشدد، کیمرے توڑ دیے گئے گذشتہ روز کراچی کے مسلم لیگ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران نامناسب رویئے کی شکایت پر لیگی رہنماؤں نے صحافیوں پر تشدد کیا اور ان کے کیمرے توڑ دیے تھے۔ یہ واقعہ وفاقی مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی پریس کانفرنس کے دوران پیش آیا، جہاں صحافیوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما عصمت انور محسود کے رویے کی شکایت کی۔ ایک صحافی کا موقف تھا کہ عصمت اللہ محسود کے بیٹے نے معمولی بات پر صحافی کے بیٹے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر بلدیہ ٹاؤن میں یوسی چیئرمین سعید اللہ آفریدی نے صحافیوں پر تشدد شروع کردیا۔اس کے بعد عصمت انور محسود اور ان کے بیٹے بھی صحافیوں پر پل پڑے جبکہ ان کے محافظ بھی صحافیوں پر اپنی گنیں تانے کھڑے رہے۔ تشدد کے دوران جیو نیوز سمیت مختلف ٹی وی چینلز کے کیمرے بھی توڑے گئے جبکہ جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی رہیں۔ اس دوران صحافی کئی گھنٹے مسلم لیگ ہاؤس میں محصور رہے اور دھکم پیل اور شور شرابے کے باعث مفتاح اسماعیل پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔ کچھ دیر بعد پولیس اور رینجرز نے پہنچ کر صورتحال پر قابو پایا اور محصور صحافیوں کو مسلم لیگ ہاؤس سے نکالا گیا۔