مشرف بھارت کی مدد کرتے کرتے بہت آگے تک چلے گئے
اسلام آباد (ملت آن لائن) سابق صدر اورآرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کہتے پھر رہے ہیں کہ حافظ سعید میرا رول ماڈل ہے ، لشکر طیبہ میری ڈارلنگ ہے۔ ان کے ایسے بیانات سے بھارت کی مدد ہو رہی ہے ۔بھارت دوسرے ممالکمیں ان کی تقاریر کی ویڈیوز بھیجتا ہیں اور کہتا ہے کہ ذرا سنیں کہ دنیا بھر میں انتہائی مطلوب حافظ سعید پاکستان کے سابق آرمی چیف کا رول ماڈل ہے۔یہ ان سے خفیہ ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ ان کی تقاریر کی بنیاد پر ہمیں دنیا بھر میں دہشتگرد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جس سے براہ راست بھارت کی مدد ہو رہی ہے۔ جی ایچ کیو کو چاہئیے کہ وہ جنرل (ر) مشرف کو کہیں کہ آپ کو یہاں سے نکالنے پر ہم پہلے ہی دباؤ میں ہیں لہٰذا آپ مہربانی کریں اور ہمارے لیے مزید مشکلات پیدا نہ کریں۔ بہت حیران کن بات ہے کہ حافظ سعید جنرل (ر) پرویز مشرف کے رول ماڈل ہیں۔ وہ لشکر طیبہ جس پر پرویز مشرف نے خود کہا تھا کہ مجھ پر ہونے والے حملے میں لشکر طیبہ شامل تھی،یاد رہے کہ لشکر طیبہ سمیت باقی تمام جماعتون پر پابندی بھی جنرل (ر) پرویزمشرف نے خود ہی 2002ء میں لگائی ہوئی تھی۔واضح رہے ایک انٹرویو کے دوران سابق صدر کا کہنا تھا کہ حافظ سعید پر پابندی عالمی دباؤ سے متاثر ہوکر لگائی گئی تھی۔ مجھے حافظ سعید اور لشکر طیبہ پر پابندی نہیں لگانی چاہیے تھی، حافظ سعید کے بارے میں امریکی مطالبہ نظر انداز کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ حافظ سعید کو 2018ء کے الیکشن میں ضرور حصہ لینا چاہیے۔ آئندہ انتخابات میں حافظ سعید اور ملی مسلم لیگ سے انتخابی اتحاد ہوسکتاہے جماعتہ الدعوہ اور لشکر طیبہ مفاد عامہ کیلئے کام کرتے ہیں۔