نئی حلقہ بندیوں کے بل پر ڈیڈ لاک برقرار
اسلام آباد(ملت آن لائن)حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان حلقہ بندیوں سے متعلق بل پر ڈیڈ لاک برقرار ہے جب کہ سینیٹ کی ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس بھی بے نتیجہ ختم ہوگیا۔
چیرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کی زیرصدارت سینیٹ کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں قومی اسمبلی کی نشستوں سے متعلق آئینی ترمیمی بل پر ڈیڈ لاک برقرار رہا جب کہ اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ مردم شماری آڈٹ کے لئے بین الاقوامی فرم کی خدمات حاصل کی جائیں جب کہ سینیٹر تاج حیدر نے سول اٹھایا ہے کہ پیپلز پارٹی کس طرح غلط اعداد و شمار پر اتفاق کرے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں پر عملدرآمد کیا جائے ۔
پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کی نشستوں سے متعلق آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے لئے معاملہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے مذاکرات سے ہی حل ہو پائے گا۔
حلقہ بندیوں سے متعلق بل کے متن کے مطابق بل میں ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیوں کا کام شروع کرے گا، جس کے تحت پنجاب میں قومی اسمبلی کی 9 نشستیں کم ہوں گی جبکہ خیبرپختونخوا میں 5، بلوچستان میں 3 اور اسلام آباد میں ایک نشست کا اضافہ ہوگا۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی پہلے ہی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیمی بل دو تہائی اکثریت سے منظور کرچکی ہے جب کہ سینیٹ سے منظوری کے لئے بل کم از کم چار بار پیش کیا گیا لیکن اس پر ووٹنگ نہ ہوسکی۔