خبرنامہ

نقیب قتل کیس؛ چیف جسٹس پاکستان کا راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

نقیب قتل

نقیب قتل کیس؛ چیف جسٹس پاکستان کا راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

اسلام آباد:(ملت آن لائن) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ سپریم کورٹ میں کراچی کے ہائی پروفائل قتل نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کے ہیومن رائٹ سیل کو سابق ایس ایس پی راؤ انوار کا خط موصول ہوا ہے، اگر یہ خط واقعی راؤ انوار کا ہے تو عدالت انہیں موقع دیتی ہے کہ وہ خود آئندہ جمعہ کے روز عدالت میں پیش ہوکر اپنا مؤقف دیں، سندھ پولیس اور اسلام آباد پولیس ان کی حفاظت کرے اور انہیں گرفتار نہ کیا جائے لیکن یہ تمام احکامات راؤ انوار کی عدالت میں آمد سے مشروط ہوں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نقیب اللہ ہمارا بھی بچہ تھا لیکن شہادت کے بغیر کسی کو مجرم نہیں کہا جاسکتا، راؤ انوار کو بھی انصاف ملنا چاہئے، خط کی تصدیق راؤ انوار ہی کرسکتے ہیں تاہم سابق ایس ایس پی کے خط پر جے آئی ٹی تشکیل دیں گے۔ کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی گئی۔ نقیب اللہ قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے نئی جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے دیا اور مقدمے میں نامزد سابق ایس ایس پی راؤ انوار کو حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے جمعہ (16 فروری) کو عدالت طلب کرلیا۔ عدالتی حکم کے مطابق جے آئی ٹی میں انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کا بریگیڈیئر لیول کاآفیسر شامل ہوگا جبکہ ایک قابل افسر کا تعین عدالت خود کرے گی۔ عدالت عظمیٰ کا مزید کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے تک راؤ انوار کو گرفتار نہ کیا جائے اور اسلام آباد پولیس انہیں سیکیورٹی فراہم کرے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نقیب قتل کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ نے آج انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ اے ڈی خواجہ، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، سیکریٹری داخلہ، چاروں صوبائی ہوم سیکریٹریز، سیکریٹری اطلاعات اور چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو طلب کیا تھا۔ دوسری جانب ڈی جی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) اور ڈی جی انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کو بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ یکم فروری کو عدالت عظمیٰ نے سندھ پولیس کو مقدمے میں نامزد سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو 10 دن میں گرفتار کرنے کی مہلت دی تھی۔
نقیب قتل ازخود نوٹس کیس: پولیس ٹیم خالی ہاتھ اسلام آباد پہنچ گئی
سپریم کورٹ میں سندھ پولیس آج خالی ہاتھ پیش ہوئی کیونکہ اس عرصے میں راؤ انوار سمیت نقیب اللہ محسود قتل کیس میں ملوث کسی پولیس اہلکار کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ پولیس نے میڈیا پر چھاپوں کی خبریں جاری کرنے، مدد کے لیے اداروں کو خط لکھنے اور غیر متعلقہ پولیس اہلکاروں کی گرفتاریوں میں کافی پھرتیاں دکھائیں مگر سب بے سود رہا، دوسری جانب جو پولیس اہلکار پکڑے گئے، تفتیشی ٹیم ان سے مقدمے کے لیے سودمند بیانات لینے میں بھی ناکام رہی۔ اس کیس کے اہم تحقیقاتی افسر اور ڈی آئی جی ایسٹ سلطان علی خواجہ گزشتہ روز عہدے کا چارج چھوڑ کر چلے گئے مگر انہیں روکنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی۔
نقیب اللہ کا ماورائے عدالت قتل اور تحقیقات
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 13 جنوری کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلے کے دوران 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، جن میں 27 سالہ نوجوان نقیب اللہ محسود بھی شامل تھا۔ بعدازاں نقیب اللہ محسود کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس کی تصاویر اور فنکارانہ مصروفیات کے باعث سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی اور پاکستانی میڈیا نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔
نقیب اللہ بے گناہ قرار، تحقیقاتی کمیٹی کی راؤ انوار کو گرفتار کرنے کی سفارش
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور وزیر داخلہ سندھ کو انکوائری کا حکم دیا۔ بعدازاں نقیب کے قتل کا مقدمہ سچل تھانے میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور دیگر پولیس افسران کے خلاف درج کیا گیا اور آئی جی سندھ کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کی، جس کے باعث انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا، جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملے کا از خود نوٹس لیا۔
نقیب قتل کیس: سپریم کورٹ کی آئی جی سندھ کو راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے 10 روز کی مہلت
گذشتہ ماہ 27 جنوری کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پولیس کو راؤ انوار کو گرفتار کرنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔ بعدازاں یکم فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مقدمے میں مفرور سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے آئی جی سندھ کو مزید 10 دن کی مہلت دی تھی اور ساتھ ہی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سندھ پولیس کی معاونت کی بھی ہدایت کی تھی۔