خبرنامہ

نقیب کیس میں 4 دہشتگرد مارے، اعتراض ایک پر ہوا، راؤ انوار

نقیب کیس میں 4 دہشتگرد مارے،

نقیب کیس میں 4 دہشتگرد مارے، اعتراض ایک پر ہوا، راؤ انوار

کراچی(ملت آن لائن) سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا کہنا ہے کہ نقیب اللہ محسود مقابلے میں ملوث پولیس پارٹی کے خلاف تحقیقات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا جبکہ مقابلے میں 4 دہشت گرد مارے تھےاور ان میں سے صرف ایک پر اعتراض ہوا۔ نقیب اللہ مقابلہ کیس میں تفتیشی کمیٹیوں کے سامنے پیشی سے بھاگنے والے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے فون کے ذریعے میڈیا پر اینٹری دی اور کہا کہ نہ میں نے ملزمان کو پکڑا نہ مارا، اگر مقابلہ غلط ہے تو میں خود ملوث اہلکاروں کو سزا دیتا اور پولیس مقابلے کاسارا ملبہ مجھ پہ ڈال دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج میرےخلاف سازش کے تحت پروپیگنڈا کیا جارہا ہےاور میری قربانیوں کو بالائے طاق رکھ کر مجھے مجرم بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ راؤ انوار نے کہا کہ جہاز سے بم باری میں بھی معصوم لوگ مارے جاتے ہیں، نقیب اللہ کے معاملے میں غلطی ہو سکتی ہے لیکن ان کی کوئی بددیانتی شامل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کےبھی بچے ہیں، انہیں کیا پاگل کتے نے نہیں کاٹا ہے کہ وہ جعلی مقابلے کرتے پھریں۔

………………………..

اس خبر کو بھی پڑھیے…ایس ایس پی راؤ انوار کی دبئی فرار کی کوشش ناکام

اسلام آباد:(ملت آن لائن) ایس ایس پی راؤ انوار کی دبئی فرار کی کوشش ناکام، نقیب اللہ محسود قتل کیس میں ملوث ایس ایس پی راؤ انوار کی دبئی فرار ہونے کی کوشش ناکام بنادی گئی۔ بے نظیرانٹرنیشنل ایئرپورٹ پر قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود قتل کیس میں ملوث ایس ایس پی راؤ انوار کی دبئی فرار ہونے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ اسپیشل برانچ کی نشاندہی پر رات 2 بجے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو ہوائی اڈے پر روکا گیا جو نجی ائرلائن کی پرواز 615 سے دبئی جانا چاہتے تھے۔ ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق راؤ انوار کو گرفتارنہیں کیا گیا اور صرف بیرون ملک جانے سے روکا گیا جس کے بعد وہ واپس اسلام آباد چلے گئے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق راؤ انوار نے اپنی سفری دستاویزات قریبی ساتھی کے ذریعے ایئرپورٹ بھجوائیں، جن میں 20 جنوری کو جاری کیا گیا سندھ حکومت کا این او سی (اجازت نامہ) بھی شامل تھا۔ انکاؤنٹر اسپیشلسٹ راؤ انوار روپوش ہوگئے نقیب اللہ کی ماورائے عدالت ہلاکت میں ملوث پولیس افسر راؤ انوار گزشتہ روز تک اپنا موبائل فون نمبر بند کرکے روپوش ہوگئے تھے اور کسی سے بھی رابطہ نہیں کررہے تھے۔