نیب ریفرنسز، گواہ یاسر شبیر کا بیان قلمبند
اسلام آباد:(ملت آن لائن) احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے کریڈٹ انٹریزکا اصل ریکارڈ طلب کرلیا۔ سابق وزیراعظم نوازشریف بیٹی مریم نوازاورداماد کیپٹن (ر) صفدرحسین کے ہمراہ احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ نوازشریف کی احتساب عدالت میں آج 10 ویں پیشی ہے جب کہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ، ایون فیلڈ پراپرٹیزریفرنسزکی 16 سماعتیں ہوچکی ہیں۔ سماعت کے دوران نجی بینک لاہورکے آپریشنل منیجریاسرشبیرنے بیان قلمبند کرایا اورنوازشریف اورمریم نوازکے اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کی۔ مریم نوازکے اکاؤنٹ سے پہلی ٹرانزیکشن 78 لاکھ 87 ہزار814 روپے، دوسری ٹرانزیکشن ایک کروڑ 91 لاکھ 24 ہزار924، تیسری ٹرانزیکشن ایک کروڑ49 لاکھ 12 ہزار280 روپے اور چوتھی ٹرانزیکشن ایک کروڑ73 لاکھ 31746 روپے کی تھی۔ عدالت میں نوازشریف کی 12 فروری 2010ء سے30 جون 2017 تک کی بینک اسٹیٹمنٹ بھی پیش کی گئی۔
گوا کے مطابق ایسا کوئی سرٹیفکیٹ نہیں دیا کہ تمام انٹریزابھی موجود ہیں، مریم نوازاورنوازشریف کے اکاؤنٹ میں بے ضابطگی یاغیر قانونی عمل نہیں دیکھا گیا، باہرسے آنے والے پیسے پربینک نے کبھی اسٹیٹ بینک کو شکایت نہیں کی، نوازشریف کے چیک اور واؤچرز موجود ہیں، عدالت نے نوازشریف کے کریڈٹ انٹریز کا اصل ریکارڈ طلب کرلیا۔ اب تک 8 گواہان اپنے بیانات قلمبند کراچکے ہیں۔ نوازشریف عدالت پیشی کے بعد پنجاب ہاؤس اسلام آباد جائیں گے جہاں وہ پارٹی رہنماؤں سے سیاسی صورتحال سمیت مختلف امورپربات کریں گے۔ نوازشریف کا استثنیٰ 13 دسمبراورمریم نوازکا استثنیٰ 15 دسمبر کو ختم ہو گیا تھا جب کہ گزشتہ سماعت پرعدالت نے نواز شریف کے وکیل کی استدعا مسترد کرتے ہوئے نجی بینک کی منیجر نورین شہزاد کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کا حکم دے دیا تھا۔
مریم نوازکے اکاؤنٹ سے پہلی ٹرانزیکشن 78 لاکھ 87 ہزار814 روپے، دوسری ٹرانزیکشن ایک کروڑ 91 لاکھ 24 ہزار924، تیسری ٹرانزیکشن ایک کروڑ49 لاکھ 12 ہزار280 روپے اور چوتھی ٹرانزیکشن ایک کروڑ73 لاکھ 31746 روپے کی تھی۔ عدالت میں نوازشریف کی 12 فروری 2010ء سے30 جون 2017 تک کی بینک اسٹیٹمنٹ بھی پیش کی گئی۔
خبرنامہ
نیب ریفرنسز، گواہ یاسر شبیر کا بیان قلمبند