خبرنامہ

نیب ریفرنسز میں نوازشریف، مریم نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر احتساب عدالت پیش

نیب ریفرنسز میں نوازشریف، مریم نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر احتساب عدالت پیش
اسلام آباد(ملت آن لائن) شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز میں نواز شریف اور مریم نواز نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں میں تبدیلی کی درخواست جمع کرا دی۔ مریم نواز نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ حاضری سے استثنیٰ کی مدت 5 دسمبر سے 5 جنوری کی جائے۔ استغاثہ کے گواہ محمد رشید نے اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔ وکیل صفائی خواجہ حارث نے جرح کرتے ہوئے کہا پہلےکبھی نیب نےآپ کی کمپنی کوخط لکھا؟، جس پر گواہ محمد رشید نے جواب دیا 5 ستمبر سے پہلے کوئی خط نہیں لکھا گیا، 6 ستمبر 2017 کےعلاوہ کبھی نیب کے سامنے پیش نہیں ہوا۔ سماعت کے دوران خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر میں گرما گرمی بھی ہوئی۔ نیب پر اسیکیوٹر نے کہا گواہ کو کنفیوژ کیا جا رہا ہے، جس پر وکیل صفائی خواجہ حارث نے کہا بے جا مداخلت پر اعتراض ہے، جب تک گواہ نہ بولے یہ کیوں لقمہ دیتے ہیں؟۔ نیب پراسیکیورٹر افضل قریشی نے کہا ہم لقمہ دینے کے لیے ہی کھڑے ہیں، خواجہ صاحب کچھ بھی پوچھیں اور ہم خاموش رہیں؟۔ وکیل صفائی نے کہا سادہ سوال ہے فوٹو کاپیوں پر کیا ہونا ہے؟۔ اس دوران جج احتساب عدالت محمد بشیر نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے لڑنا ہے تو پھر میں چلا جاتا ہوں، یہ سادہ سا گواہ ہے، جھوٹ بولیں گے تو 10 سوال اور ہوں گے، سیدھا جواب دیں۔سابق وزیراعظم میاں نوازشریف، انکی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر احتساب عدالت میں پہنچے تو لیگی کارکنوں نے ان کا اسقبال کیا۔ آصف کرمانی، مریم اورنگیزیب سمیت لیگی رہنما بھی ہمراہ تھے۔ عدالت نے آج استغاثہ کے مزید 4 گواہان کو طلب کر رکھا ہے جن میں ملک طیب، شہباز، مظہر، بنگش راشد شامل ہیں۔ جوڈیشل کمپلیکس اور اطراف میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ اب تک سابق وزیر اعظم نواز شریف 6 مرتبہ، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر 8، 8 مرتبہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ حسن اور حسین نواز ایک مرتبہ بھی عدالت نہیں آئے جس پر انہیں اشتہاری ملزم قرار دے دیا گیا ہے۔ عدالت ملزمان کے دائمی وارنٹ جاری کرنے کا بھی حکم دے گی۔ نواز شریف پر ان کے نمائندے ظافر خان کی موجودگی میں 19 اکتوبر کو 2 ریفرنسز جبکہ 20 اکتوبر کو ایک ریفرنس میں فرد جرم عائد کی گئی۔عدالت نے گزشتہ سماعت پر کمشنر ان لینڈ ریونیو جہانگیر احمد اور ایس ای سی پی کی افسر سدرہ منصور کے بیانات ریکارڈ کئے جبکہ 2 مزید گواہان کو طلبی کے سمن جاری کئے۔ عدالت نے نواز شریف کو ایک ہفتہ جبکہ مریم نواز کو ایک ماہ کے لئے حاضری سے استثنیٰ دے رکھا ہے۔