ٹرمپ امریکا کی نہیں بھارت کی زبان بول رہے ہا؛ برجیس طاہر
اسلام آباد(ملت آن لائن)وفاقی وزیر برائے اُمورکشمیر و گلگت بلتستان چوہدری محمدبرجیس طاہرنے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب سے ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بنے ہیں تب سے ہی اُن کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی جاری ہے، ٹرمپ کے بیانات سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ امریکا نہیں بھارت کی زبان بول رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد وہ روزانہ کی بنیاد پر دُنیا کے مختلف ممالک کے خلاف غیر ذمہ دارانہ بیانات کا سلسلہ شروع کیے ہوئے ہیں اور اُن کے اس غیر ذمہ دارانہ طرزعمل سے خوداُن کے دوست ممالک بھی محفوظ نہیں ہیں جس سے امریکا تنہائی کا شکار ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ڈونلڈٹرمپ کی پالیسیاں نہ صرف دُنیا میں بلکہ خود امریکا میں بھی پسپائی کا شکار ہیں اور خود امریکا کے ذی شعور عوام ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ برتاؤ اور حماقتوں سے پریشان ہیں۔انہوں نے کہاکہ ابھی حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے معاملے پر اُسے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تاریخی شکست اور نادامت کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔وفاقی وزیر نے کہاکہ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے خلاف بیان بازی اور الزام تراشی کر کے افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر نہیں ڈال سکتے۔ انہوں نے کہاکہ امریکا افغانستان میں کھربوں ڈالرز خرچ کر کے بھی افغانستان میں امن قائم نہیں کر سکا تو ایسے میں پاکستان کو دیے گئے محض 33 ارب ڈالرز کی نام نہاد امداد کا تذکرہ کرکے وہ دُنیا کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتے۔ انہوں نے کہاکہ امریکا کی اس نام نہاد33 ارب ڈالرز کی امداد کے برعکس پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں 120 ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان برداشت کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی قربانیوں کا تو یہ عالم ہے کہ اس نے دُنیا کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے یہ جنگ اپنی سرزمین پر لڑی اور ہزاروں جانوں کا نظرانہ پیش کر کے دُنیا کو دہشت گردی کے ناسور سے محفوظ بنایا۔ انہوں نے کہاکہ آج بھی پاکستان کی افواج اور سکیورٹی فورسز کے جوان اور افسران دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کسی امداد کے عوض نہیں بلکہ دُنیا کو دہشت گردی کے جن سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کررہا ہے اور آئندہ بھی کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ اگر کوئی ملک یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس قسم کے بیانات سے پاکستان یا اس کی عوام کو مرعوب کر سکتا ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جتنی قربانیاں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دیں ہیں اتنی دُنیا کے کسی اور ملک نے نہیں دیں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان کی سیا سی و فوجی قیادت نے پہلے ہی امریکا کے ڈومور کے مطالبے کا جواب نو مور سے دے دیا ہے اور واضح کہا ہے کہ پاکستان کسی ملک کی منشاء کے برعکس صرف اور صرف اپنے قومی مفادات کے تناظر میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ایک مستحکم افغانستان کے بغیر پاکستان کسی صورت میں ترقی یافتہ اور خوشحال نہیں ہوسکتا ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو جاری رکھے گااور امریکا کو بھی یہ جان لینا چاہیے کہ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے دوسرے ممالک کے ہاتھ میں کھیلنے کی بجائے افغانستان کے مسئلے کا حقیقت پر مبنی حل نکالے۔انہوں نے کہاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے خلاف بیان بازی کرتے وقت اپنی آنکھوں پر کالی پٹی چڑھا لیتے ہیں جس کی وجہ سے اُن کو پاکستان کی قربانیوں اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے نہتے کشمیریوں کا خون بہا نا نظر نہیںآتا۔انہوں نے کہاکہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا رویہ اور نظریہ یہی جاری رکھا تو وہ دن دور نہیں جب امریکا پوری دُنیا میں تنہائی کا شکار ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ خطے میں پائیدار امن کے کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار داد وں کے مطابق کیا جائے اورافغانستان میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی قربانیوں کو تسلیم کیا جائے اور خطے میں بھارت کی چوہدراہٹ قائم کرنے کی بجائے حقیقی اسٹیک ہولڈز کو بھرپور طریقے سے سپورٹ کیا جائے تاکہ جنوبی ایشیاء اور عالمی دُنیا میں دہشت گردی کے خطرات کو ختم کیا جاسکے۔