ٹرمپ کا پاکستان مخالف بیان: قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج ہی طلب
اسلام آباد:(ملت آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان کے بعد وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا کل ہونے والا اجلاس آج ہی طلب کرلیا۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس آج شام طلب کیا گیا تھا جسے اب ملتوی کرکے کل طلب کیا گیا ہے جب کہ قومی سلامتی کمیٹی کا آج ہی بلایا گیا ہے۔امریکا نے 15 برسوں میں احمقوں کی طرح پاکستان کو 33 ارب ڈالر امداد دی، ٹرمپ اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان میں امریکی سفیر اعزاز چوہدری کو ہنگامی طور پر بلایا گیا اور وہ پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ اعزاز چوہدری کو امریکی صدر کے بیان پر پاکستان کا لائحہ عمل بتایا جائے گا جس سے وہ امریکا کو آگاہ کریں گےقومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں تینوں سروسز چیفس، ڈی جی ایم او اور ڈی جی آئی ایس آئی سمیت، وزارت خارجہ اور داخلہ کے سیکریٹریز بھی شرکت کریں گے۔ ڈی جی ایم او اور ڈی جی آئی ایس آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک کی کامیابیوں پر اجلاس کو بریفنگ دیں گے جب کہ وزارت خارجہ کے حکام پاکستان کے سفارتی رابطوں کے حوالے سے بریف کریں گے۔وفاقی کابینہ کا اجلاس کل ہوگا دوسری جانب وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت کل ہوگا جس میں ملکی اقتصادی معاشی صورتحال سمیت سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر امریکی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی کابینہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات سے متعلق بیان کا معاملہ بھی زیر غور آنے کا امکان ہے۔ وفاقی کابینہ 14 نکاتی ایجنڈے پر غور کرے گی، پرتگال، مصر اور بوسنیا کی حکومتوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی یاداشتوں کی منظوری ایجنڈے میں شامل ہے۔
پاکستان اسٹون ڈیولپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو، کراچی سے کابل ممنوعہ گاڑیوں کے 51 پارٹس کے کنٹیرز کو جانے کی اجازت، آرٹ اینڈ کلچر بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری اور پورٹ قاسم اتھارٹی کے چیرمین آغا جان اختر کی مدت ملازمت کی توسیع کی سمری ایجنڈے میں شامل ہے۔ٹرمپ جیسے 10 بھی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے،سیاسی رہنماؤں کا ردعمل مردم شماری کے عبوری نتائج حلقہ بندیوں کے لئے استعمال کرنے کی منظوری بھی کابینہ کے ایجنڈے کا حصہ ہے جس کی منظوری کے بعد مردم شماری کے عبوری نتائج الیکشن کمیشن کو بھجوائے جائیں گے۔خیال رہے کہ ملک میں چھٹی مردم شماری 15 مارچ سے 25 مئی 2017 کے دوران کی گئی جس کے دوران ملک کو کُل ایک لاکھ 68 ہزار بلاکس میں تقسیم کیا گیا تھا۔ٹرمپ کی پاکستان پر تنقیدڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ایک بار پھر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران اسلام آباد کو 33 ارب ڈالر امداد دے کر بے وقوفی کی۔
انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ امریکا نے گزشتہ 15 برس میں احمقوں کی طرح پاکستان کو 33 ارب ڈالر امداد کی مد میں دیے اور انہوں نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا۔امریکی صدر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان نے ہمارے حکمرانوں کو بے وقوف سمجھا، جن دہشت گردوں کو ہم افغانستان میں ڈھونڈتے رہے پاکستان نے انہیں محفوظ پناہ گاہیں دیں اور ہماری بہت کم معاونت کی، لیکن اب مزید نہیں۔ٹرمپ کے ’نومور‘ کی کوئی اہمیت نہیں، وزیر خارجہ خیال رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکا کی جانب سے پاکستان پر متعدد بار دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا جا چکا ہے جس کے جواب میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے واضح پیغام دیا تھا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور امریکا اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر گرانے کے لیے بے بنیاد الزامات عائد کر رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پاکستان کی امداد بند کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔گزشتہ برس دسمبر میں امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف بھی کیا تھا۔