پارلیمنٹ پر لعنت ملامت کرنیوالے عمران نے وہاں سے 25 لاکھ تنخواہ لی
اسلام آباد:(ملت آن لائن) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارلیمنٹ پر لعنت ملامت کی۔ اسی پارلیمنٹ سے سالانہ تنخواہ کی مد میں انہیں 25؍ لاکھ روپے سالانہ دیئے گئے۔ عمران خان پارلیمانی سال 2016-17ء میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے 102؍ میں سے صرف دو دن شرکت کی۔ عمران اور ان کی پارٹی کے ارکان اگست 2014ء سے جون 2015ء تک 10؍ ماہ ایوان سے غیر حاضر رہے اس کے باوجود غیر حاضر ہر رکن کو ساڑھے آٹھ لاکھ روپے تنخواہ اور مراعات کی مد میں ملے۔
پارلیمنٹ کے لیے ’لعنت‘ کا لفظ بہت ہلکا ہے، عمران خان
یہ رقوم ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہوئیں۔ تحریک انصاف کے قومی اسمبلی میں 32؍ ارکان ہیں جن کی سالانہ مجموعی طور پر تنخواہ 9؍ کروڑ 60؍ لاکھ روپے بنتی ہے اسی طرح سینیٹ میں تحریک انصاف کے 7؍ ارکان کی تنخواہیں دو کروڑ دس لاکھ روپے بنیں۔ ان ارکان پارلیمنٹ کو ملا کر ایک سال میں 11؍ کروڑ 70؍ لاکھ روپے ادا ہوئے۔ قومی اسمبلی کے چوتھے پارلیمانی سال کے مطابق نواز شریف اور عمرا ن خان کی پارلیمنٹ میں حاضری کم ترین رہی۔ نواز شریف 6؍ اور عمر ان خان صرف دو بار قومی اسمبلی آئے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کے 61؍ ارکان ہیں جنہیں تنخواہوں اور مراعات کی مد میں فی کس ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ ملتے ہیں ۔ پارلیمنٹ کی بدخواہی میں شریک شیخ رشید احمد کو پارلیمانی تنخواہ اور مراعات کی مدمیں 3؍ لاکھ روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ نومبر 2016ء میں وفاقی کابینہ نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 146؍ فیصد اضافہ کیا جو 60؍ ہزار 996؍ روپے سے بڑھ کر ڈیڑھ لاکھ روپے ہوگئی۔ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ارکان کو 7؍ ہزار روپے یومیہ الائونس ملتا ہے۔ دفتری اخراجات کی مد میں 8؍ ہزار روپے ماہانہ اور دفعہ 11 کے تحت 10؍ ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ وہ 10؍ روپے فی کلومیٹر سڑک سے سفر، تین لاکھ روپے کے مفت ٹریولنگ واؤچرز اور 20؍ بزنس کلاس ریٹرن ایئر ٹکٹس کے بھی حقدار ہیں جو ارکان خاندان کو قابل منتقلی ہیں۔