پاکستان خود کو اب امریکا سے الگ کرے، عمران خان
اسلام آباد:(ملت آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نئی امریکی قومی سلامتی پالیسی کے بعد پاکستان خود کو امریکا سے الگ کرے۔عمران خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ پرائی جنگ میں حصہ بننے کی مخالفت کی ہے، ہمیں سبق ملا ہے کہ کبھی بھی قلیل المدتی مالی مفادات کی خاطرکسی کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہئیے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ پاکستانی قوم اورریاست کی توہین کی سوچی سمجھی کوشش ہے، ہم امریکا سے الجھنا نہیں چاہتے مگرافغانستان میں اس کی ناکامیوں کا بوجھ بھی برداشت کرنے کا بھی کوئی جوازنہیں، نئی امریکی قومی سلامتی پالیسی کے بعد پاکستان خود کو امریکا سے الگ کرے.چیرمین تحریک انصاف نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم اپنی ریاست اور حکومت سے ملک کی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کی امید کرتی ہے، افغانستان کے مسئلے کے حل کے لئے چین، روس اورایران کے ساتھ مل کر تعاون کی راہیں تلاش کی جاسکتی ہیں۔
………………………..
اس خبر کو بھی پڑھیے…روکی گئی امریکی امداد ہمارے ایک دن کے اخراجات کے مساوی ہے، مشیر خزانہ
اسلام آباد:(ملت آن لائن) وزیراعظم کے مشیر خزانہ و اقتصادی امور ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کے 22؍کروڑ 50؍لاکھ ڈالرز کا روکا جانا کوئی تشویش کی بات نہیں ہے۔ یہ رقم پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے محض ایک دن کے اخراجات کے مساوی ہے۔امریکا نے 15 برسوں میں احمقوں کی طرح پاکستان کو 33 ارب ڈالر امداد دی، ٹرمپ پاکستان کے لیے نام نہاد امریکی امداد کے دعوؤں کا پول کھولتے ہوئے مشیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان کو گزشتہ سال ایک ارب ڈالرز وصول ہوئے جس میں سے 55؍کروڑ ڈالرز کولیشن سپورٹ فنڈ (سی ایس ایف) کی مد میں تھے۔اُنہوں نے وضاحت کی کہ یہ رقم امداد کے زمرے میں نہیں آتی۔ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ روکی گئی رقم کا ملکی وسائل سے انتظام کرلیا گیا ہے، مذکورہ رقم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فورسز کی استعداد بڑھانے کے لیے فوجی ہتھیار اور آلات کی خریداری پر خرچ ہونا تھی چونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے لہٰذا مالی ضروریات ہر قیمت پر پوری کی جائیں گی۔ مشیر خزانہ کے مطابق گزشتہ سال ملنے والے ایک ارب ڈالرز میں سے 45؍کروڑ ڈالرز میں سے نصف رقم فوجی امداد کی مد میں تھی۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان نے جواب میں امریکا کو افغانستان میں طالبان اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف فضائی اور زمینی سہولتیں بہم پہنچائیں اس سے زیادہ اہم بات یہ کہ نیٹو فورسز کو راہ داری فراہم کی۔