خبرنامہ

چین کا بھارتی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

چین کا بھارتی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
بیجنگ؛(ملت آن لائن)چینی حکام کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ انھوں نے بھارتی ڈرون کو چین کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر مار گرایا گیاہے ۔ چین کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق فوج کے مغربی بیورو کے نائب ڈائریکٹر زانگ شوئیلی نے کہاہے کہ بھارت نے چین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے جس پر ہمیں عدم اطمینان ہے اور ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھاچینی بارڈر فوج نے پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ رویہ اپنایا اور ڈیوائس (ڈرون) کی شناخت کی توثیق کی تاہم زانگ نے اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ ڈرون کب اور کہاں مار گرایا گیا ہے ۔ چینی فوج نے بھارتی ڈرون ایک ایسے وقت میں مار گرایا ہے جب رواں برس اگست میں دونوں ملکوں کی فوج ہمالیہ پہاڑوں کے دامن میں ڈوکلام کے مقام پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئی تھیں۔ اس علاقے پر چین اور بھارت دونوں اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بعدازاں اگست کے آخر میں بھارتی فوج نے تنازع ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے فوجی اہلکاروں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دے دیا تھا۔اس حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ بیجنگ سے مذاکرات کے بعد ’مفاہمت‘ طے پا گئی ہے۔واضح رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان ریاست آروناچل پردیش کے معاملے پر 1962 میں ایک جنگ ہوچکی ہے۔
چین کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق فوج کے مغربی بیورو کے نائب ڈائریکٹر زانگ شوئیلی نے کہاہے کہ بھارت نے چین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے جس پر ہمیں عدم اطمینان ہے اور ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھاچینی بارڈر فوج نے پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ رویہ اپنایا اور ڈیوائس (ڈرون) کی شناخت کی توثیق کی تاہم زانگ نے اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ ڈرون کب اور کہاں مار گرایا گیا ہے ۔ چینی فوج نے بھارتی ڈرون ایک ایسے وقت میں مار گرایا ہے جب رواں برس اگست میں دونوں ملکوں کی فوج ہمالیہ پہاڑوں کے دامن میں ڈوکلام کے مقام پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئی تھیں۔ اس علاقے پر چین اور بھارت دونوں اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بعدازاں اگست کے آخر میں بھارتی فوج نے تنازع ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے فوجی اہلکاروں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دے دیا تھا۔