تمام مطالبات تسلیم،ڈاکٹر جلالی ،دھرنا ختم کرنیکا اعلان
. ملت آن لائن … پنجاب حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کامیاب، ڈاکٹر آصف جلالی نے دھرنا ختم کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔
پنجاب حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر آصف جلالی نے دھرنا ختم کرنے پررضامندی ظاہر کر دی ہے۔ وفاق کی جانب سے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، حکومتِ پنجاب کی جانب سے میاں مجتبیٰ اور رانا مشہود نے مذاکرات کئے۔ دوسری جانب حکومت کے ساتھ تحریکِ صراط مستقیم کی مذاکراتی ٹیم میں میاں ولید احمد شرقپوری، نوید الحسن مشہدی اور مفتی عابد جلالی شامل تھے۔
لاہور کے مال روڈ پر مذہبی جماعتوں کی جانب سے گزشتہ کئی روز سے دھرنا دیا گیا تھا۔ دو دن قبل دھرنا قائدین کی جانب سے فیض آباد دھرنے پر حکومت سے کئے گئے معاہدے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پیر افضل قادری اور مولانا خادم حسین رضوی کی جانب سے حکومت سے کیے گئے کسی معاہدے کو تسلیم نہیں کریں گے۔ رانا ثناء اللہ سمیت دیگر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیے بغیر ختم نبوت کی تحریک کو کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت پنجاب اور دھرنا قائدین کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق یہ دھرنا مظاہرین بھی وفاقی حکومت اور تحریک لبیک یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی پابندی کریں گے، پنجاب حکومت صوبائی وزیر قانون رانا ثنااللہ کے متنازع بیانات پر کمیٹی تشکیل دے گی اور راجا ظفر الحق کی رپورٹ 20 دسمبر تک سامنے لائی جائے گی۔
دھرنے کے قائد ڈاکٹر آصف جلالی نے کہا ہے کہ ہمارے تمام مطالبات کو تسلیم کرلیا گیا ہے، حلف نامے میں ترمیم کے ذمے داروں کو 20 دسمبر تک سامنے لایا جائے گا، حکومت نے شہدا، گرفتار اور زخمی افراد کی فہرستیں دی ہیں، رانا ثنا اللہ کے استعفی کا معاملہ خواجہ حمید الدین پر چھوڑ دیا ہے خواجہ حمید الدین نے 3 دسمبر تک رانا ثنا کا استعفی مانگا ہے، رانا ثنا کے استعفی کے لیے کمیٹی قائم کی جائے گی جب کہ رانا ثنا باہر جاکر وضاحت نہیں کریں بلکہ ہمارے پاس آکر اپنے بیانات کی وضاحت دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقدمات اور لاشوں کی وصولی میں ایک ماہ تک مداخلت نہیں کریں گے تاہم معاہدے پر ایک ماہ کے دوران عمل درآمد نہ ہوا تو دوبارہ سڑکوں پر آئیں گے۔