کیلی فورنیا، آگ سے 800 مکانات جل کر راکھ
نیویارک:(ملت آن لائن) امریکی ریاست کیلی فورنیا کے جنگلات میں 8 روز سے لگی آگ 2 لاکھ 30 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیل گئی، 800 مکانات اور عمارتیں جلنے سے دولاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوگئے اور 5 ہزار سے زائد فائر فائٹرز آگ سے لڑنے میں مصروف ہیں۔ یہ کیلی فورنیا کی تاریخ کی پانچویں بڑی آتشزدگی ہے اور اس آگ کو ’’تھوماس فائر‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔جنوبی کیلی فورنیا کے جنگلات میں لگی یہ آگ 2 لاکھ 30 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیل چکی ہے جو کہ امریکی شہروں نیویارک اور بوسٹن کے مشترکہ رقبہ سے بھی زیادہ ہے۔تیز ہوا اور دھوئیں کے بادلوں کی وجہ سے فائر فائٹرز کو اپنے کام میں مشکلات کا سامنا ہے، آگ کے سبب بہت بڑے علاقے میں بجلی کی فراہمی منقطع ہوچکی ہے، متعلقہ اداروں نے کیلی فورنیا کے دیگر شہروں لاس اینجلس اور وینچورا میں انتباہ جاری کردیا ہے۔محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ ہوا میں نمی کا تناسب کم ہونے اور تیز ہوا کے سبب آگ مزید پھیل رہی ہے جب کہ اگلے 10 روز تک بارش کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔حکام کے مطابق وینچورا اور سانتا باربرا کاؤنٹیز میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے 94 ہزار سے زائد مزید شہریوں کو اپنے گھر لازمی طور پر چھوڑنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں، سانتا باربرا کاؤنٹی میں تمام اسکولوں کو بھی بند کردیا گیا۔قبل ازیں کیلی فورنیا کے جنگلات میں 1932ء میں ایسی آگ لگی تھی تاہم وہ بھی دو لاکھ 20 ہزار ایکڑ رقبے تک پھیلی تھی لیکن تھوماس فائر اس سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔وینچورا کاؤنٹی کے شیرف نے سی این این کو بتایا کہ آگ بجھانے کی کوششوں پر اب تک 34 ملین ڈالر خرچ ہوچکے ہیں۔اس آگ سے 70 سالہ ایک معمر خاتون ہلاک ہوئی ہے، آگ مزید پھیلنے سےمختلف شہروں میں خطرات بڑھ رہے ہیں۔چار دسمبر سے لگی اس آگ کے سبب اب تک 2 لاکھ افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔800 مکانات اور عمارتیں جل کر راکھ ہوچکی ہیں، متعدد گھوڑے، گائے اور دیگر جانور بھی اس کی زد میں آکر جان سےہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
خبرنامہ
کیلی فورنیا، آگ سے 800 مکانات جل کر راکھ