خبرنامہ

گنا بحران کاذمہ دار وفاق،پنجاب سستا گنا دے تو سندھ کی ملیں یہاں کا مہنگا گنا کیوں خریدیں ؟ مراد علی شاہ

گنا بحران کاذمہ دار وفاق،پنجاب سستا گنا دے تو سندھ کی ملیں یہاں کا مہنگا گنا کیوں خریدیں ؟ مراد علی شاہ

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ میں گنے کی قیمتوں میں اضافے اور بحران کا ذمہ دار وفاقی اور پنجاب حکومت کو قرار دیتے ہوئے انوکھی منطق پیش کی ہے کہ اگر پنجاب شوگر ملوں کو سستا گنا فراہم کرے تو سندھ کی ملیں یہاں کا مہنگا گنا کیوں خریدیں گی؟ ہم نے پنجاب کے مقابلے میں گنے کا نرخ 2 روپے زیادہ مقرر کیا تاکہ کاشت کاروں کو فائدہ ہو،ہم نے 180کے مقابلے میں 182روپے فی من قیمت مقرر کی تو پنجاب میں گنا100روپے من ہو گیا،یہ ہماری غلطی نہیں پنجاب کی ہے ،وفاق بھی سبسڈی نہیں دے رہا ۔تفصیلات کے مطابق اتوار کو وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی وزیر جام خان شورو کے ہمراہ شہر کا دورہ کیا اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے صوبے میں گنے کے حالیہ بحران کا ذمہ دار وفاقی اور پنجاب حکومت کو قرار دیا۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پنجاب میں 100 روپے من گنا سندھ کی شوگر ملوں کو فراہم کیا جارہا ہے، پنجاب سے سستا گنا ملے گا تو سندھ کے کاشت کاروں کا مہنگا گنا شوگر ملیں کیوں خریدیں گی۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہم نے پنجاب کے مقابلے میں گنے کا نرخ 2 روپے زیادہ مقرر کیا تاکہ کاشت کاروں کو فائدہ ہو لیکن وہاں سے سندھ میں شوگر ملوں کو گنا 100 روپے فی من کے حساب سے دیا جارہا ہے۔سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب میں گنے کی ملیں بند ہوگئیں جس کی وجہ سے تاجر سندھ آئے جب کہ پنجاب سے پورٹ جانے والی گاڑیاں خالی آرہی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے وہ سستے کرائے پر گنا سندھ لے آتی ہیں۔وزیراعلی سندھ کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب نے گنے کی فی من قیمت 180 اور ہم نے 182 روپے مقرر کی جب کہ وفاقی حکومت نے شوگر ملوں کو تاحال سبسڈی دینے کا اعلان نہیں کیا۔ ہم نے پنجاب سے گنے کا ریٹ دو روپے زیادہ مقرر کیا تاکہ مقامی کاشتکاروں کو فائدہ ہو، پیپلزپارٹی کسانوں کے ساتھ ہے اور ان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں ہونے دیگی۔وزیراعلی سندھ کینٹ اسٹیشن پہنچے اورسڑک کی تعمیرکے کام کا جائزہ لیا، صدرکے علاقے میں الیکٹرونکس مارکیٹ اور اس کے اطراف گندگی کا ڈھیردیکھ کربرہمی کا اظہارکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوری طور پر شہرسے کچرا اٹھایا جائے اورسڑکوں کو صاف رکھا جائے۔ وزیراعلی نے شاہراہ قائدین پرشوروم مالکان کی جانب سے فٹ پاتھ پرتجاوزات اوراضافی فٹ پاتھ بنانے پراظہاربرہمی کرتے ہوئے کمشنرکراچی کو کارروائی کرنے کی ہدایت کردی۔ انہوں نے کہا کہ فٹ پاتھ پرگاڑیاں کھڑی کرنے سے ٹریفک جام ہوتا ہے، شوروم مالکان سے بات کرکے اضافی فٹ پاتھ فوری ختم کی جائے۔وزیراعلی سندھ نے کراچی کے شہریوں کوبغیر فلٹرپانی فراہم کئے جانے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے منصوبے کے تھری میں فلٹریشن سسٹم ہی نصب نہیں کیا گیا، کے تھری منصوبہ 2007 میں مکمل ہوا تھا، 2007 میں جن کی حکومت تھی وہی اب سب سے زیادہ شور کررہے ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے نارتھ ایسٹ کراچی فلٹریشن پلانٹ کا دورہ کیا جہاں سیکیورٹی عملے سمیت کئی ملازمین ڈیوٹی سے غائب تھے، جس کے بعد وزیراعلی نے پلانٹ سے اضافی اورغیرحاضرعملے کوفوری فارغ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں نے واٹر بورڈ میں ہزاروں ملازمین کو بھرتی کیا مگر وہ ڈیوٹیوں سے غائب ہیں۔مراد علی شاہ نے شہریوں کو نیو ایئرنائٹ پر سی ویو جانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شہری ذمے دار ہیں اس لیے انہیں نیو ایئر نائٹ پر سی ویو جانے سے نہ روکا جائے۔ انہوں نے ڈی آئی جی ساتھ کو سی ویو سے رکاوٹیں ہٹانے کے احکامات دے دیئے اورکہا کہ کراچی کے شہری ذمے دارہیں، مسائل پیدا نہیں کریں گے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ شہری سال نوپرخوشی ضرور منائیں مگردوسروں کی خوشی کا بھی خیال رکھیں جب کہ ہوائی فائرنگ کی کسی کو بھی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔