خبرنامہ

سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنا پاکستان کے خلاف جنگ سمجھا جائے گا. سرتاج عزیز

اسلام آباد ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت یا سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنا نہ صرف سندھ طاس معاہدے بلکہ عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔ ایسے اقدام کو پاکستان کے خلاف جنگ سمجھا جائے گا۔ بھارت معاہدے کے مطابق پاکستان کے حصے کے پانی پر رن آف ریور بجلی کے منصوبے تو لگا سکتا ہے لیکن اس پانی کو ذخیرہ یا اس کا رخ نہیں موڑ سکتا۔ ورلڈ بینک اس معاہدے میں سہولت کار ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں ڈاکٹر شیریں مزاری اور دیگر کے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارت کے مخاصمانہ رویئے اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی دھمکی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھرپور آواز اٹھانے پر بھارت سٹپٹا گیا ہے اور وہ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہا ہے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی تفصیلات سے بھی ایوان کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے۔ اگر بھارت پاکستان کے پانی روکنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ نہ صرف اس معاہدے کی خلاف ورزی بلکہ عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔ ایسے اقدام کو پاکستان کے خلاف جنگ سمجھا جائے گا۔ ایسا اقدام پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچنے کی کوشش ہے۔ اگر بھارت ایسا کرتا ہے تو ہم یہ معاملہ اقوام متحدہ میں لے کر جا سکتے ہیں۔ شیریں مزاری کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سندھ طاس معاہدے کا سہولت کار عالمی بنک ہے، ہم سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران سے بھی اس حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ وہ معاہدے کی خلاف ورزی کریں گے تو ہم بھرپور ردعمل اور انڈس کمیشن کے سسٹم کو فعال بنائیں گے۔ اب یہ خبریں آ رہی ہیں کہ بھارت اس معاہدے کے تحت پاور ہاؤس لگانے کا سوچ رہا ہے۔ منزہ حسن کے سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے بتایا کہ ہم بھارت کی پاکستان کی مداخلت کے تمام ثبوت دیں گے۔ پھر اسے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور دیگر ممالک کو دیں گے۔ بھارت کے افغانستان کے ذریعے بلوچستان میں مداخلت اور بھارتی جاسوس کی تفصیلات اس ڈوزیئر میں دیں گے۔ عمران خٹک اور امیر اﷲ مروت کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ بھارت رن آف ریور پانی معاہدے کے مطابق استعمال کر سکتا ہے۔ اس کو ذخیرہ یا راستہ تبدیل نہیں کر سکتا۔ سرتاج عزیز نے بتایا کہ معاہدے میں ورلڈ بینک سہولت کار تھا۔ معاہدے میں اس کے رول کے بارے میں جائزہ لے کر آگاہ کریں گے۔ اگر بھارت معاہدے سے انحراف کرتا ہے تو ورلڈ بینک اس میں کردار ادا کر سکتا ہے۔