خبرنامہ

گنتی میں دھاندلی، حکومتی ووٹ بڑھائے، ہمارے کم کئے، سپریم کورٹ جائیں گے، انتخابی نتائج نہیں مانیں گے، متحدہ اپوزیشن

گنتی میں دھاندلی، حکومتی ووٹ بڑھائے، ہمارے کم کئے، سپریم کورٹ جائیں گے، انتخابی نتائج نہیں مانیں گے، متحدہ اپوزیشن

متحدہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران گنتی میں دھاندلی کی گئی ‘حکومتی گنتی میں تین چار ووٹ زیادہ گنے گئےجبکہ اپوزیشن کے ووٹوں کو کم ظاہر کیا گیا‘قانون سازی کوسپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے ‘ہم آج سے ہی اگلے الیکشن کے نتائج نہیں مانتے ۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم )کو ایول وشیس یعنی شیطانی مشین قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ مشین کے ذریعے یہ سلیکٹڈ حکومت اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتی ہے ‘یہ ایوان اور22کروڑ عوام دھاندلی کا شورمچارہے ہیں ‘قانون سازی کو بلڈوز کیا گیا‘تمام روایات کو انہوں نے پاؤں تلے روند دیا جبکہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کی غلام ہے اور عوام کے لیے قانون سازی کے بجائے کلبھوشن یادیوکے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے‘آئی ایم ایف کے کہنے پر پارلیمان کے ہاتھ نہیں باندھے جا سکتے‘مشترکہ اجلاس میں حکومت کی جیت نہیں ہوئی۔تفصیلات کے مطابق شہباز شریف نے بلاول بھٹواوراسعد محمود سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ قانون سازی کو بلڈوز کیا گیا‘اپوزیشن کے ووٹوں کو کم ظاہر کیا گیا‘ تمام روایت کو انہوں نے پاؤں تلے روند دیا‘شہباز شریف کا کہنا تھاکہ اسپیکرکوبتایا ہماری تعداد 200 سے اوپر تھی، ہمارےخیال میں حکومتی گنتی میں تین چار ووٹ زیادہ گنے گئے‘اس موقع پر بلاول بھٹو کا کہنا تھاکہ مشترکہ اجلاس کے اپنے رولز ہوتے ہیں نارمل سیشن کے الگ، میں نے پوری کوشش کی کہ اسپیکر کو رولز بتاؤں، جوائنٹ سیشن سے کسی بل کو منظور کرانے کیلئے 221 ووٹ کا ہونا ضروری ہے، مشترکہ اجلاس میں حکومت کی جیت نہیں ہوئی۔ان کا کہنا تھاکہ کلبھوشن کو این آراو اور الیکشن ترمیمی بل سمیت دیگربلز کو ہرفورم پر چیلنج کریں گے۔اسعد محمود کا کہنا تھاکہ اسپیکر نے جس طرح ایوان کی کارروائی چلائی اس کی مثال نہیں ملتی، اسپیکر نے اپوزیشن رہنماؤں کو بات کرنے کا موقع نہیں دیا، حکومت نے قانون سازی مینج کی ہے اسے ہرفورم پر لے جائیں گے۔قبل ازیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ حکومت آئی ایم ایف کی غلام ہے اور عوام کے لیے قانون سازی کے بجائے کلبھوشن یودیوکے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔پی ٹی آئی اور آئی ایم ایف ڈیل کا بوجھ عام آدمی اٹھا رہا ہے لیکن آئی ایم ایف کے کہنے پر پارلیمان کے ہاتھ نہیں باندھے جا سکتے۔زبردستی قانون سازی کی حکومت کی کوشش کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔اسٹیٹ بینک کو پارلیمنٹ اور عدالتوں کو جوابدہ ہونا چاہیے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ متنازع مردم شماری کو ہم نے الیکشن کی حد تک مانا تھا، ہم نے مردم شماری کے ایک حصہ کو دوبارہ چیک کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔