واشنگٹن (ملت آن لائن + آئی این پی) امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹیلرسن نے روس پر تنقید کرتے ہویے کہا ہے کہ روس شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں شامی حکومت کو کیمیائی حملہ کرنے سے باز رکھنے میں روس ناکام رہا ہے، روس نے اس پر رضامندی کا اظہار کیا تھا کہ وہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیروں کو تباہ کرنے کو یقینی بنائے گا تاکہ وہ حملے نہ کریں۔سی بی ایس کے پروگرام فیس دی نیشن میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس مبینہ حملے میں روس بھی حصہ دار تھا۔تاہم انھوں نے کہا کہ ‘روس اس سازش میں شامل تھا یا وہ صرف نااہل تھا یا اسے دھوکہ دیا گیا شامی حکومت کی طرف سے، وہ بین الاقوامی برادری سے کیے جانے والے اپنے وعدے میں ناکام ہو گیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس نے شامی ہتھیاروں کے ذخیرے کو تلف کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی اور اس میں اس کی ناکامی کی وجہ سے زیادہ بچے اور معصوم لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ شام کے علاقے خان شیخون میں گذشتہ ہفتے مبینہ کیمیائی حملے میں 89 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ شامی حکومت نے کیا ہے جبکہ شامی حکومت اس کی ذمہ داری باغی فورسز پر ڈالتی ہے۔خیال رہے کہ امریکہ نے اس مبینہ کیمیائی حملے کے بعد شامی فضائی اڈوں پر 59 میزائل فائر کیے ہیں۔ادھر شام نے کسی بھی کیمیائی ہتھیار کے استعمال سے انکار کیا ہے اور روس نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔روس شامی حکومت کا اہم اتحادی ہے اور اس نے سنہ 2013 میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے معاہدے میں مدد کی تھی۔
خبرنامہ انٹرنیشنل
شام میں کیمیائی حملہ روسی ناکامی کے سبب ہوا،امریکہ