بیجنگ (ملت آن لائن + آئی این پی) امریکہ میں چینی سرمایہ کاری نے 2015 میں پہلی مرتبہ چین میں کی جانے والی امریکی سرمایہ کاری کو پیچھے چھوڑ دیا ہے،۔یہ بات نیویارک میں قائم مشاورتی کمپنی روڈیم گروپ نے بتائی ہے،امریکہ میں چینی سرمایہ کاری 2016 میں ریکارڈ 45.6بلین ڈالر تک پہنچ گئی جو کہ 2015 کی رقم سے تین گنا ہے،چینی سرمایہ کاری نے امریکہ میں 104000ملازمتوں میں مدد دی ہے،لنکسٹر کاؤنٹی جنوبی کیرولینیا میں چین کا کیرگروپ رواں سال کے اواخر میں اپنے کاٹن نل کا دوسرا مرحلہ مکمل کرنے والا ہے،پراجیکٹ کے پہلے مرحلے نے 2015میں کام کرنا شروع کیا اور اس کی بدولت مقامی طور پر روزگار کے 300مواقع پیدا ہوئے،کمپنی کو یقین ہے کہ وہ 2017کے اوآخر تک مقامی روزگار کے 500 مواقع پیدا کرے گی۔جنوبی کیرولینا ڈیپارٹمنٹ آف کامرس کے تحت بین الاقوامی سٹریٹجی و تجارت کے ڈائریکٹر ایمی تھامسن نے کہا 2011کے بعد سے چینی کمپنیوں کی طرف سے 850ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے،جس کے نتیجے میں 2000سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں اس کا ہماری چھوٹی ریاست پر بہت بڑا اثر پڑا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان پیداواری لاگت کم ہونے کے ساتھ روڈیم گروپ کو توقع ہے کہ 2020تک امریکہ میں چینی سرمایہ کاری 200بلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہوسکتی ہے۔کیر گروپ کے صدر جو شان چنگ نے اعتراف کیا ہے کہ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ثقافتی خلاء کو کس طرح پر کیا جائے جب چینی کمپنیاں امریکہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرتی ہیں تو وہ ایسے امریکیوں کی کمیونٹیز تعمیر کرتی ہیں جو چین کو بہتر طور پر سمجھ سکیں یہ بات امریکہ چین تعلقات کے بارے میں قومی کمیٹی کے صدر سٹیفن اورلنس نے بتائی ہے۔۔۔۔(خ م)
خبرنامہ انٹرنیشنل
چین سرمایہ کاری کے مقابلے میں امریکہ سے بازی لے گیا