منتخب کردہ کالم

امن پاک و ہند کی مجبوری ہے: نذیر ناجی (سویرے سویرے)‌

  • سیہون شریف میں لال شہباز قلندر کی درگاہ نہ کسی ایک مذہب کے لئے مقدس مقام ہے‘ نہ کسی فرقے کا مرکز عقیدت اور نہ ہی کسی رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی عبادت گاہ۔یہ ہر مذہب اور ہر عقیدے سے تعلق رکھنے والے انسانوں کی درگاہ ہے۔ یہاں اظہار عقیدت کے […]

  • بارِ دگر: ہارون الرشید (ناتمام)

    پولیس، عدلیہ اور سول انٹیلی جنس کی تشکیلِ نو اور تحرّک کے بغیر دہشت گردی کا عفریت مر نہیں سکتا۔ عسکری قیادت کو مودبانہ یہ نکتہ وزیرِ اعظم کی خدمت میں عرض کرنا چاہیے‘ کرتے رہنا چاہیے۔ شاید اپنی قوم پر انہیں ترس آئے۔ سیہون شریف میں کتنے پولیس والے ڈیوٹی پر تھے؟ عام حالات […]

  • دہشت گردی کے محاذ پر نرمی دکھانے کا شاخسانہ: ایاز میر

    کیا ہم دہشت گردی کی لہر کو بڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اور دہشت گرد تنظیمیں، جن پر ضربِ عضب نے کاری ضرب لگائی تھی، ایک مرتبہ پھر فعال ہو رہی ہیں؟ شواہد پریشان کن ضرور ہیں۔ ایک ہی دن میں پشاور اور مہمند میں حملے اور ان سے پہلے چیئرنگ کراس لاہور میں (لفظ […]

  • لاہور ہائیکورٹ کا حکم اور سی ایس ایس کا امتحان: محمد اظہار الحق (تلخ نوائی)

    لاہور ہائیکورٹ نے 2018ء سے سی ایس ایس کے امتحانات اُردو میں لینے کا حکم دیا ہے۔ اس حکم پر تکنیکی اور ماہرانہ رائے تو ان اداروں کو دینا چاہیے تھی جو اُردو زبان کے نفاذ اور ترویج کے لیے تقریباً نصف صدی سے قائم ہیں‘ مگر ان کی طرف سے اس حکم کے قابلِ […]

  • گمشدہ صفحات میں سے ملنے والا ایک صفحہ: خالد مسعود خان (کٹہرا)

    ایک زمانہ تھا جب عام عدالتوں کے بارے میں بھی لوگ کچھ تبصرہ کرتے ہوئے گھبراتے تھے۔ اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ وزیر مشیر اور دیگر سپریم کورٹ کو بھی نہیں بخشتے۔ اب اسے اقدار کی بربادی کہیں‘ عدالتوں کی بے توقیری قرار دیں یا بیان بازوں کی بہادری سمجھیں؟ میرا خیال […]

  • فرار کب تک؟ خورشید ندیم (تکبیر مسلسل)

    پانی سر سے گزر چکا۔ حقائق تلخ ہیں لیکن اب سامنا کیے بغیر چارہ نہیں۔ دہشت گردی کے تین اسباب ظاہر و باہر ہیں۔ ایک دین کی وہ تعبیر جو اس وقت غالب ہے اور کم و بیش تمام مذہبی سیاسی جماعتیں جسے قبول کرتی ہیں، یہ الگ بات کہ کھل کر اعتراف نہ کریں۔ […]