منتخب کردہ کالم

غذا اور شفا …. امیر حمزہ

  • بچپن میں اپنے بڑوں کے ساتھ جب بھینسوں کا چارہ کاٹنے جایا کرتا تھا تو مجھے اچھی طرح یاد ہے، جولائی اور اگست کے حبس زدہ موسم میں جب پیاس لگتی تھی تو کتنی بار ایسا ہوا کہ ہم نے کھال کا پانی پیا۔ یہ پانی ایسا ہوا کرتا تھا کہ کھال میں چالو حالت […]

  • ایک ہزار چار سو اکسٹھ دن بعد… خالد مسعود خان

    یہ بات نہیں کہ مجھے ہنسنا نہیں آتا تھا لیکن اس طرح بلا وجہ تو بہرحال میں نہیں ہنستا تھا جس طرح وہ بالکل معمولی باتوں پر ہنستی تھی۔ دو چار بار تو چلیں برداشت کیا جا سکتا تھا لیکن تادیر اس طرح ایسی معمولی معمولی باتوں پر جو مجھے تقریباً بلا وجہ لگتی تھیں […]

  • لمبا پراندہ… اظہار الحق

    سب سو رہے تھے۔ کیا مرد کیا عورتیں اور کیا بچے۔ سب لحافوں میں دبکے تھے۔ برف ہوا کے دوش پر اُڑتی ہوئی آئی اور گرنے لگی۔ بڑے بڑے سفید گالوں کی صورت! شاہراہیں برف سے ڈھک گئیں۔ چھتیں سفید ہو گئیں۔ جنگلے چھپ گئے۔ سوراخ بھر گئے۔ اونچی نیچی جگہیں برابر ہو گئیں۔ سات […]

  • منی ایپلس سے نیو یارک تک……امجد اسلام امجد

    29 اور 30ستمبر کو بالترتیب منی ایپلس اور پٹس برگ میں آخری طے شدہ پروگرام تھے جب کہ یکم اکتوبر کی رات ’’اپنا‘‘ کے شکاگو چیپٹر کا مشاعرہ تھا جس کے بعد ہمیں بذریعہ نیو یارک اور استنبول واپسی کی فلائٹ لینا تھی۔ شکاگو کے تین روزہ تقریباً آرام دہ قیام اور عرفان کی مہمان […]

  • وزیر اعظم کے ساتھ ناشتہ…مجاہد بریلوی

    باکو میں تیسرا دن ہے۔ روانگی دوپہر کی ٹھہری ہے۔ یوں اس تحریر کے چھپتے چھپتے ہم اپنے وطن عزیز میں ہوں گے۔ موسم یوں تو دونوں دن خوشگوار رہا۔ مگر آنکھ کھلتے ہی ہوٹل کی پانچویں منزل سے خنک خوشگوار ہوائوں کے ساتھ دھیمی دھیمی پھوار بڑا لطف دے رہی تھی۔ رات ہی کو […]

  • اور اب اسٹیٹ بنک…الیاس شاکر

    کراچی ایک بار پھر اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔ کراچی پر ماضی میں ایک بڑا حملہ اسلام آباد کو بسانے کے لئے کیا گیا تھا۔ اب کی بار اسٹیٹ بینک کے چار اہم شعبے کراچی سے اٹھاکر لاہور بھیجے جارہے ہیں۔ لاہور میں نہ تو کوئی بندر گاہ ہے اور نہ ہی بینکوں […]