اسلام آباد ۔ 27 ستمبر (ملت ….اے پی پی) ایوان بالا میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے کہا ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کا پانی بند کیا تو یہ بھارت کی طرف سے اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔ بھارت کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی جائے، بھارت سارک کو بھی سبوتاژ کر رہا ہے۔ پارلیمان کی طرف سے متفقہ پیغام جانا چاہئے۔ منگل کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بیانات سامنے آئے ہیں، یہ سنجیدہ معاملہ ہے۔ جمعرات کو سینیٹ کی کمیٹی آف دی ہول میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے مشیر خارجہ بریفنگ دیں گے۔ قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر بھارت ایسا کوئی اقدام کرتا ہے تو یہ بھارت کی طرف سے اعلان جنگ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب سے نریندر مودی آیا ہے نئے نئے مسئلے اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ شخص بھارت اور خطے کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ مودی سرکار کا رویہ پاکستان اور ہمسایوں کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو بین الاقوامی تحفظ حاصل ہے اور اس حوالے سے بھارت کا رویہ بدقسمتی پر مبنی ہے۔ یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت کسی قسم کا ڈیم بنا کر پانی نہیں روک سکتا ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ دفتر خارجہ اس معاملے پر نظر رکھے۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ مودی کی اس دھمکی سے خطہ اور پوری دنیا متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے ایوان کی کمیٹی میں اس مسئلے کو اٹھانا خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس دھمکی کے حوالے سے دنیا کو مودی کا سیاہ چہرا دکھائے۔ چیئرمین سینیٹ نے ایوان کو بتایا کہ 29 ستمبر کو اس معاملے پر پورے ایوان کی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس ہو رہا ہے۔ تمام ممبران سے گذارش ہے کہ اس اجلاس میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔ وزیراعظم کے ایڈوائزر اور وزیر دفاع بھی کمیٹی میں آئیں گے۔ چیئرمین نے کہا کہ بھارت نے کل جو اقدام اٹھایا ہے اس کے بعد ہمیں بھارت کے ساتھ سارک کے معاہدے کے حوالے سے نظرثانی کرنی چاہئے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ مودی نے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کیا ہے۔ اگر بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو منسوخ کرتا ہے تو یہ ریڈ لائن ہے، بھارت روگ سٹیٹ ہے۔ پانی بنیادی حق ہے۔ مودی آر ایس ایس کی نمائندگی کرتا ہے جس میں اقلیتوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ ہمیں بھارت کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ ڈی جی آئی ایس آئی غیر ملکی جارحیت کی صورت میں تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دیں۔ شکر ہے ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔ ایٹمی پروگرام پر ہم سب متفق ہیں۔ بھارت اگر لائن کراس کرے تو ہمیں بھی نظرثانی کرنی چاہئے۔ بھارت سارک کو بھی سبوتاژ کر رہا ہے۔ بھارت کے حوالے سے ’’ٹکا‘‘ کے بات کرنا پڑے گی۔ بھارت ہماری جوہری صلاحیت کی وجہ سے ہمارے خلاف کچھ نہیں کر سکتا۔ تاج حیدر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ستلج اور راوی کے پانی پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا۔ سندھ طاس معاہدہ ایک ڈکٹیٹر کا کیا ہوا معاہدہ ہے۔ ہمیں اس پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ سارک میں ہمارا کوئی انٹرسٹ نہیں، اصل فورم شنگھائی تعاون تنظیم ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پانی کا مسئلہ ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ بھارت کے ساتھ جو معاہدے ہوئے ہیں ان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ بھارت افغانستان کے ساتھ معاہدے کر رہا ہے۔ اگر اس کا معاہدہ ہو گیا تو دریائے کابل بھی خشک ہو جائے گا۔ اگر دونوں سرحدوں پر کشیدگی ہوئی تو کیا ہوگا، غور کرنا ہوگا۔ ایران کے ساتھ بھی پہلے والی صورتحال نہیں ہے۔ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ مشرف دور میں امریکی دباؤ پر پالیسیاں بنی ہیں۔ ہمارے ملک پر بھارت نے ایک تہذیبی یلغار کی ہے۔ بھارتی رہنماء نے کہا تھا کہ پاکستان پر ثقافتی یلغار سب سے بہتر رہے گی۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں نے پاکستان کے ساتھ عید منائی، وہ بھارت سے بائیکاٹ پر ہیں۔ مظفر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت یکطرفہ طور پر کوئی ملک اس معاہدے کو ختم نہیں کر سکتا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مزید ڈیم بنانے کا سوچ رہا ہے تاکہ پانی کو اپنی مرضی سے استعمال کر سکے۔ سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا مطلب اعلان جنگ ہوگا۔ اس معاملہ پر پاکستان کی پارلیمان کی طرف سے متفقہ پیغام جانا چاہئے۔سینیٹر صلاح الدین ترمذی نے کہا کہ نہ بھارت جنگ کر سکتا ہے نہ سندھ طاس معاہدہ ختم کر سکتا ہے۔ وہ ہماری توجہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے ہٹا رہا ہے تاکہ کشمیر کا مسئلہ پس پشت چلا جائے۔ ہمیں تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی توجہ درست مسئلہ کے جانب رکھنی چاہئے۔سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ بھارتی عزائم ڈھکے چھپے نہیں۔ شروع سے پاکستان کے خلاف سرگرم ہے۔ بھارت پاکستان کو دباؤ میں لانا چاہتا ہے۔ بھارت اپنی سرگرمیوں کو پاکستان میں بڑھائے گا اور معاشی ترقی کے سفر کی جانب گامزن رہنے سے ہمیں روکے گا۔
خبرنامہ
بھارت نے پاکستان کا پانی بند کیا تو یہ بھارت کی طرف سے اعلان جنگ تصور کیا جائے گا،.سینیٹ ارکان
