اسلام آباد (ملت + آئی این پی) وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہاہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں سے پاکستان کا سماجی و اقتصادی منظرنامہ تبدیل ہو جائے گا اور لوگوں کے معیارزندگی میں بہتری آئے گی، چین پاکستان کے عوام، ملک اور حکومت کا حقیقی دوست ثابت ہوا ہے ، اقتصادی راہداری کے تحت بجلی کے منصوبوں سے ملک کے توانائی کا لائحہ عمل تیز ہوگیا ہے ،جب 2013 ء میں موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تو ملکی معیشت بحران کا شکار تھی،چین نے اس مشکل مرحلے میں معاشی بحالی میں ہماری حمایت اور مدد کی ، اقتصادی راہداری منصوبے نے پاکستان کی سیکورٹی کے بارے میں انتہائی منفی تاثر کو مثبت اقتصادی تاثر میں تبدیل کر دیاہے۔وہ بدھ کو پاکستان چین اقتصادی راہداری کے جائزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی کوششوں کے مثبت نتائج ملنا شروع ہوگئے ہیں، انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کے عوام، ملک اور حکومت کا حقیقی دوست ثابت ہوا ہے انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری کے تحت بجلی کے منصوبوں سے ملک کے توانائی کا لائحہ عمل تیز ہوگیا ہے ،جب 2013 ء میں موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تو ملکی معیشت بحران کا شکار تھی، انہوں نے کہا کہ چین نے اس مشکل مرحلے میں معاشی بحالی میں ہماری حمایت اور مدد کی انہوں نے کہا کہ چین کی بصیرت افروز قیادت نے پاکستان کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تصور کو حقیقت میں تبدیل کرنے میں مدد دی۔چین پاکستان اقتصادی راہداری کی اہمیت کو اْجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے اس جامع اقتصادی منصوبے کے آغاز نے دنیا کو بالعموم اور علاقائی ممالک کو بالخصوص اپنی طرف راغب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے نے پاکستان کی سیکورٹی کے بارے میں انتہائی منفی تاثر کو مثبت اقتصادی تاثر میں تبدیل کر دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی کامیابی سے پاکستان میں بین الاقوامی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔انھوں نے کہاکہ پاک چین راہداری پاکستان کا اقتصادی اور تذویراتی قدم ہے،اقتصادی راہداری دنیا اور خطے کے ممالک کیلئے پرکشش ہے،اقتصادی راہداری منصوبوں کی تکمیل پاکستان اور چین کی مضبوط دوستی کی عکاس ہے ،سی پیک کے ثمرات ملک کے ہر حصے کو پہنچنے چاہیے۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی حکومت اور عوام چین کی حکومت اور عوام کے مشکور ہیں۔چینی قیادت کے ویژن نے اقتصادی راہداری کو حقیقت میں بدلنے کیلئے ساتھ دیا۔اجلاس کو گوادر کی بندرگاہ کے علاہ بجلی کی ترسیلی لائنوں اور پن بجلی، کوئلہ ، ہوا ، سورج اور ایل این جی سمیت اقتصادی راہداری کے تحت توانائی منصوبوں کے بارے میں بتایا گیا۔چیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڈ نے اجلاس کو اہم شاہراوں پر جاری کام کے حوالے سے بریفنگ بھی دی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر کام کرنے والے چینی انجینئر اور ماہرین کے تحفظ کے لئے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔اجلاس میں گوادر بندرگاہ کے حوالے سے ترقیاتی منصوبوں پر غور کیا گیا جبکہ توانائی ،مواصلات کے بنیادی ڈھانچے اور صنعتی منصوبوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس کو سی پیک سے متعلق توانائی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ ایل این جی سمیت توانائی منصوبوں پر کام جاری ہے،اجلاس کو کوئلے ،پانی ،ہوا سورج سے بجلی کے منصوبوں پر بھی بریف کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بنیادی ڈھانچے سڑک،ریل اور ایوی ایشن منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے،سی پیک کے بیشتر منصوبے 2017اور 2018میں مکمل ہوجائیں گے۔شرکاء کو صنعتی شعبے میں پاکستان اور چین کے تعاون پر پیشرفت سے بی آگاہ کیا گیا ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ موجودہ حکومت کی جانب سے جدید سہولتوں سے آراستہ سڑکوں کے نیٹ ورک کی تعمیر کیلئے 10کھرب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے ۔
خبرنامہ
پاکستان کا سماجی و اقتصادی منظرنامہ تبدیل ہو جائے گا: وزیر اعظم
