پانامہ لیکس

شریف خاندان اور اسحاق ڈار کی جائیداد نیب ریفرنس سے منسلک، ذرائع

شریف خاندان اور اسحاق ڈار کی جائیداد نیب ریفرنس سے منسلک، ذرائع
اسلام آباد(ملت آن لائن)شریف خاندان اور اسحاق ڈار کی جائیداد نیب ریفرنس سے منسلک ہوگئیں جس کے بعد اب جائیداد کو کسی کو منتقل نہیں کیا جاسکتا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے چیرمین کی منظوری کے بعد شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر کردیئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نیب ریفرنسز کے بعدنواز شریف، ان کے بچوں اور اسحاق ڈار کی ملک بھر میں ملکیت و جائیداد نیب کے ریفرنس سے منسلک ہوگئی ہے، اب شریف خاندان اور اسحاق ڈار نیب کی پیشگی منظوری کے بغیر بینک اکاؤنٹس سے لین دین بھی نہیں کرسکتے۔
شریف خاندان اوراسحاق ڈار کے خلاف تمام ریفرنسز منظور ہوگئے ، ترجمان نیب

ذرائع کے مطابق جائیداد منسلک کرنے کا اقدام نیب کے آرڈیننس 1999 کی دفعہ 23 کے تحت کیا گیا جس کے تحت نوازشریف خاندان اور اسحاق ڈار کی بیرون ملک جائیداد کو منسلک نہیں کیا جاسکتا۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ پراسیکیوشن برانچ نے نیب کے علاقائی دفاترکی طرف سے کام کواعلیٰ درجے کی تفتیش قراردیا ہے جب کہ ایف آئی اے اور ایف بی آر کی جانب سے بھی شہادتوں کو اکٹھا کرنے پر اعلیٰ درجے کی تفتیش قرار دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق نوازشریف خاندان اور اسحاق ڈار کی بیرون ملک جائیداد منسلک کرنے کی قانون میں کوئی شق نہیں، ان کی جائیدادوں کا معاملہ نیب آرڈیننس1999 کی دفعہ 21 کے تحت آتا ہے جب کہ چیرمین نیب یا عدالت غیرملکی حکومتوں کوجائیدادوں کو منسلک کرنے کی درخواست کے پابند ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ نیب راولپنڈی نے31 اگست کوہیڈکوارٹرمیں ریفرنس جمع کرادیا تھا اور لاہورکے نیب کے دفتر سے ریفرنس 5 ستمبر کوموصول ہوا جب کہ نیب کے علاقائی دفتر نے ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش نہیں کی تاہم اگر ایسا کوئی خط عدالت کی جانب سے بھیجا جائے تو اس کا وزن زیادہ ہوگا۔
شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے اثاثے منجمد کرنے کی سفارش مسترد

دوسری جانب ترجمان نیب کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اور وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے۔

واضح رہے کہ نیب نے شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنسز پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں دائر کیے ہیں۔

شریف خاندان کے خلاف لندن پراپرٹیز اور آف شور کمپنیوں سمیت تین اور اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں پر ایک ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔