فوٹو کہانی

ملک برکت علی کی طقریر….سیاسی اصول یونینسٹ ممبران کو متحد نہیں کرتے

سیاسی اصول یونینسٹ ممبران کو متحد نہیں کرتے
9دسمبر ،1938کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے ونٹر سیشن پر ملک برکت علی کی پریس سٹیٹمنٹ

اس سیشن کی سب سے قابل ذکر بات میاں نور اللہ کا پانی کی آسودہ حال تقسیم کے مسئلے پراپنے پارٹی لیڈروں کی ممانعت کے باوجود جرات مندی اور بے باکی سے بولنا تھا۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جناب نوراللہ کا یونینسٹ پارٹی کے خلاف یہ احتجاج انفرادی نوعیت کا تھا لیکن میرے ذہن میں اس حوالے سے کوئی شک نہیں کہ اس اقدام سے یونینسٹ پارٹی کے زمیندار ممبران میں ایک نئی روح داخل ہو چکی ہے اور بغاوت کی سرگوشیاں اندر ہی اندر پروان چڑھ رہی ہیں ۔ مجھے اس بات سے حیرت نہیں ہو گی اگر موجودہ حکومتی پالیسی کے نتیجے میں ایک نئی پارٹی معرضِ وجود میں آتی ہے جس کا مقصد صوبے کو متحد کرنا اور تمام زمینداروں اور دوسرے طبقوں کے درمیان حائل اس مصنوعی دیوارکو ختم کرنا ہو۔

مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہوا ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسی کا ایک اہم نقطہ زمینداروں اور شہری آبادی کے درمیان نام نہاداور فرضی تقسیم قائم کرناہے ۔ یہ بناوٹی تقسیم پہلے ہی صوبے کی سیاسی ترقی کے حصول کو کافی حد تک نقصان پہنچا چکی ہے ۔میرے خیال میں یہ بات کافی حد تک واضح ہو رہی ہے کہ وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک نیشلسٹ پارٹی بنائی جائے جو صوبے کے تما م طبقوں کی نمائندگی کرے اور حکومتی جماعت کے ساتھ ان تمام مسائل پر با ت کرنے کے لیے تیار رہے جن مسائل سے صوبے کی ساکھ متاثر ہو رہی ہو۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسمبلی میں موجود زمیندار ممبران سرکاری نمائندوں اور وزیراعظم کی طاقت سے ڈرتے ہیں ۔سرکاری دفتر کا ہر ملازم ان کے لیے خدا کا درجہ رکھتا ہے ۔زمیندار ممبران سے انصاف کرتے ہوئے میں یہ ضرور کہوں گا کہ وہ ابھی تک اس تاثر کے زیرسایہ ہیں کہ صوبے کا گورنر ان کا پہلا آقا ہے اور ان کے خیال میں وزیراعظم صوبے میں گورنر کی نمائندگی کرتا ہے۔ پس ان کی ہر طرح سے اطاعت کرناان پر لازم ہے۔ کچھ پارلیمانی سیکریٹری بھی زمینداروں کے دلوں میں وقتًا فوقتاً اس یقین کو پختہ کرتے رہے ہیں کہ وزیراعظم کی ذرا سی بھی نافرنانی سے گورنر خوش نہیں ہو گا۔

یہ بات تو اٹل ہے کہ جہاں ایک خودمختار آئین نافذ ہو وہاں گورنر اور وزیراعظم کی بیان کی گئی یہ تصویر سراسرجھوٹ لگتی ہے ۔ آج کے دور میں صوبے کے گورنرحضرات کسی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے اور ان کا کسی بھی پارٹی کے ساتھ الحاق یا قربت نہیں ہونی چاہیے۔در حقیقت وہ تمام پارٹیوں سے بالا ہو نے چاہیئیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذاتی پسند یدگی یا ناپسندیدگی سے بالاتر ہوکر ااس ممبر کو بطور چیف ایڈوائزر قبول کریں جس کو اسمبلی متفقہ طور پر منتخب کرے۔یہ سچ ہے کہ موجودہ آئین کے مطابق گورنروں کی کوئی ذاتی پسند یا ناپسند نہیں ہونی چاہیے۔ ہماری دیہی سیاست سے تعلق رکھنے والے ممبران پر یہ سچ آشکار ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا لیکن جب ان پر یہ حقیقت کھل کر واضح ہو گی تب صوبے کی سیاست میں ایک نمایاں اور بڑی
تبدیلی آئے گی ۔

میرے ذہن میں اس حوالے سے کوئی شک نہیں ہے کہ اس تقسیم کی پسندیدگی کے باوجود اس کے حوالے سے پائی جانے والی بے چینی اور رنجیدگی اندر ہی اندر زور پکڑ رہی ہے اور کسی بھی دن ایک بڑا طوفان آ سکتا ہے ۔ لیکن کیا یہ طوفان اس حد تک طاقتور ہو گا کہ پہلے ہی جھٹکے میں موجودہ حکومت کو اکھیڑ دے؟ یہ میں نہیں کہہ سکتا،لیکن یہ یقیناً سر سکندر کو ایک زور دار جھٹکا ضرور دے گا اور ان کو یہ احساس دلائے گا کہ وہ ہمیشہ اس حکومت میں نہیں رہ سکتے جو ان کو حا صل اکثریت کی مرہونِ منت ہے ۔ یہ کہنا سرا سر غلط ہو گا کہ یونینسٹ پارٹی کے ممبران سیاسی اصولوں پر یکجا اور متحد ہیں ۔