منتخب کردہ کالم

آزادی کی یہ نیلم پری …..ہارون رشید

آزادی کی یہ نیلم پری …..ہارون رشید

اسلام آباد میں میاں محمد نواز شریف روئے پیٹے۔ اپنے کارناموں کی دلدل میں گھرے ، وہ خوف و خدشات کا شکار ہیں۔ مطالبہ ان کا درست ہے کہ الیکشن بے داغ ہونے چاہئیں کہ جمہوریت کو ضرر نہ پہنچے۔ تھوڑی سی جمہوریت بلوچستان کے لیے بھی!
کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا
ختمِ نبوت کی تحریک کا غلغلہ ابھی باقی تھا کہ شریف برادران سعودی عرب طلب کیے گئے۔ ہفتہ بھر سنگین الزامات کی گرد اڑتی رہی۔ ابھی تک وہ یہ بتانے سے گریزاں ہیں کہ اس دورے کا مقصد کیا تھا۔
اب یکایک بلوچستان میں ایک طوفان اٹھا ہے۔ بظاہر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ صوبائی اسمبلی تحلیل ہونے سے صرف پانچ ماہ قبل اس تبدیلی سے ناراض حکومتی اراکین اور اپوزیشن کو کیا حاصل ہو گا۔ ایسا لگتا ہے کہ فیصلہ تعجیل میں کیا گیا۔ رفتہ رفتہ بڑھتی ناراضی بالآخر قابو سے باہر ہو گئی؛ حتیٰ کہ صبر کا پیمانہ چھلک اٹھا۔ بدھ کی شام کوئٹہ میں کچھ اور استعفوں کی بازگشت ہے۔ ایسا شاذ ہی ہوا ہو گا کہ حکمران جماعت کے اپنے ارکان کی بغاوت نے یوں در و دیوار ہلائے ہوں۔ ایک نہیں ، دو نہیں، وزیرِ اعلیٰ کے تین مشیر الگ ہو گئے۔ اندر خانہ مخالفت بہت سخت ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کے ایک برقرار مشیر نے مجھ سے یہ کہا ”اس وحشی کو ہم گھر پہنچا کر دم لیں گے‘‘۔ آخری وقت تک وہ وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ نظر آئیں گے۔ نون لیگ کے علاوہ ، قاف لیگ اور سردار اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی نے احتجاج کا پرچم بلند کر رکھا ہے۔ جمعیت علمائِ اسلام اپوزیشن میں ہے۔ پارٹی کی حیثیت سے وہ بھی یکسو نہیں۔ اس کے آدھے اراکین نے عدمِ اعتماد کی تحریک پہ دستخط کیے ہیں، جو پانچ سات روز میں زیرِ بحث آئے گی۔ معاملے کا سب سے سنگین پہلو یہ ہے کہ نون لیگ بلوچستان نے مرکزی قیادت کا جوا گردن سے اتار پھینکا ہے۔ اعلانِ جنگ صرف نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف نہیں بلکہ میاں محمد نواز شریف کی اطاعت سے بھی انکار ہے۔ عجیب منظر ہے کہ صوبے میں سب کی سب پارٹیاں اپنی قیادت سے بیزار ہیں۔
اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا طبیعت کا فساد
توڑ دی بندوں نے آقائوں کے خیموں کی طناب
قاف لیگ کے پانچ ارکان پہلے ہی چوہدری برادران سے طلاق لے چکے تھے۔ منگل کی شام پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے وزیرِ اعلیٰ کی حمایت میں اعلانِ جہاد کیا تو صرف دو ارکان ان کے پہلو میں براجمان تھے۔ کوئٹہ کے اخبار نویس کہتے ہیں کہ پارٹی وارٹی کوئی نہیں ، دراصل یہ ایک خاندان ہے۔ خاندان سے تعلق نہ رکھنے والے ارکان جماعت کے سربراہ سے نا خوش ہیں۔ حکمران نون لیگ کے علاوہ اچکزئی کی پارٹی کے نا خوش ارکان اور اپوزیشن جماعتوں کی بڑی شکایت یہ ہے کہ اختیار صرف وزیرِ اعلیٰ کے پاس ہے یا محمود اچکزئی کے ہاتھ میں۔ اچکزئی میاں محمد نواز شریف کے لاڈلے ہیں۔ ان کی ہر جائز اور ناجائز فرمائش پوری کی جاتی ہے۔ قاف لیگ کا ڈپٹی سپیکر الگ ہوا تو ان کا بنا دیا گیا ، وغیرہ وغیرہ۔
وزارتِ داخلہ کے بظاہر باوقار منصب پر فائز سرفراز بگتی کو دن بھر میں ڈھونڈتا رہا۔ فیڈریشن کا پُر جوش دفاع کرنے والا، علیحدگی پسندوں کا معتوب جواں سال بگتی پہلی بار اسمبلی کا ممبر بنا ہے۔ اس کا موبائل فون بند ہے۔ کچھ عرصہ قبل جیل خانہ جات کا محکمہ اس سے واپس لے لیا گیا تھا۔ قریبی دوستوں کے مطابق سرفراز بگتی کا کہنا یہ ہے کہ یہی ایک شعبہ تھا ، جہاں کرنے کے لیے کچھ کام موجود ہوتا۔ بلوچستان پولیس اور لیویز میں تو اس کا عمل دخل ہی نہیں۔ ایسے میں وزارت سے چمٹے رہنے کا فائدہ؟ یاد رہے کہ بلوچستان کا صرف پانچ فیصد علاقہ پولیس کے تحت ہے۔ کوئٹہ شہر اور اس کا گرد و نواح۔ 16 برس پہلے پورے صوبے کو پولیس کے تحت لانے کا فیصلہ ہوا تھا۔ طے یہ پایا تھا کہ سرداروں کے توسط سے بھرتی کیے گئے لیویز کے سپاہیوں کو تربیت دے کر پولیس فورس کا حصہ بنا دیا جائے گا۔ تربیتی نصاب مرتب ہوا، کچھ نیا اسلحہ خریدا گیا ، عمارتیں بنیں۔ سکھانے پڑھانے کے لیے بہترین افسروں کا انتخاب کیا گیا۔ دس ارب روپے کے اخراجات ہو چکے تو 2002ء کا الیکشن سر پہ آ پہنچا۔ نومنتخب اسمبلی نے اس منصوبے کو ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ لیویز میں سے اکثر ریاست کی بجائے مقامی سردار کے وفادار سمجھے جاتے ہیں۔ لکھنا پڑھنا جانتے نہیں ، تربیت برائے نام۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ، جو صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ، ان کا کردار برائے نام بھی نہیں۔ کام کے نہ کاج کے ، پائو بھر اناج کے۔
اسی لیے ایف سی کی ضرورت پڑی ہے۔ معاملہ مکمل طور پر فوج کے ہاتھ میں چلا گیا۔ سیاستدان واویلا کرتے ہیں مگر سول اداروں کی تعمیر سے گریزاں، ماضی میں زندہ۔ قیادت کے لیے ان کے ذہنوں میں تصور ایک جدید لیڈر نہیں بلکہ ایک قبائلی سردار کا ہے۔ اپنے موڈ اور مزاج سے جو فیصلے صادر کرے۔ پندرہ برس ہوتے ہیں ، جمعیت علمائِ اسلام کے ایک لیڈر نے پیپلز ورکس پروگرام کے تحت دو عدد ٹیوب ویل نصب کرنے کی منظوری حاصل کی۔ فوری طور پر ایک کمپنی بنا کر اس کا ٹھیکہ اپنے داماد کو دلوایا۔ یہ دونوں ٹیوب ویل اپنی زرعی زمین میں نصب کر دئیے۔ صوبے کے چیف انجینئر نے اعتراض کیا تو مولوی صاحب اس کے درپے ہو گئے۔ اسلام آباد میں اسے روتے بسورتے ہوئے دیکھا گیا۔ بالآخر مولانا فضل الرحمٰن کے گھٹنے چھو کر نجات پائی۔
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
میرے ”جرمِ خانہ‘‘ خراب کو تیرے ”عفوِ بندہ‘‘ نواز میں
نواب ثناء اللہ زہری اور نواب محمود اچکزئی سے بنیادی شکایت یہی ہے کہ وہ قبائلی سرداروں کی طرح بروئے کار آتے ہیں۔ جمہوریت کے عظیم مبلغ، قائدِ اعظم ثانی ، میاں محمد نواز شریف، ان کے سائبان اور سرپرست ہیں۔ نام نہاد پاکستانی لبرل ان کے حق میں دلائل کے دریا بہاتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ جمہوریت عالی جناب کے لیے ایک نعرہ ہے ، کوئی پیمان نہیں۔
کوئٹہ میں نواز شریف کا انتظار ہے۔ وہ واحد لیڈر ہیں، وہی وزیرِ اعلیٰ کی کچھ مدد کر سکتے ہیں۔ کچھ ناراض اراکین کو شاید وہ منا سکیں مگر بلوچستان کے قصد پر وہ آمادہ نہیں۔ اندیشہ انہیں یہ ہے کہ اگر یہ مہم ناکام رہی تو اور بھی ان کی بھد اڑے گی۔ ابھی کچھ دیر پہلے کسی نے بتایا کہ میاں صاحب نے برق رفتار، تیز طرار خواجہ سعد رفیق اور پروفیسر ڈاکٹر علامہ احسن اقبال پر مشتمل ایک وفد بلوچستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بے شک دونوں ذہین آدمی ہیں لیکن ضرورت تو وہاں منت سماجت کی ہو گی۔ معاملہ فہمی سے زیادہ شیریں بیانی کی۔ پرویز رشید کو بھیجا ہوتا، جو اس ہنر میں طاق ہیں۔ مشکل میں بدمزہ نہیں ہوتے۔ ناراض ارکان اپنے حلقوں میں فنڈز فراہم نہ کرنے پر نالاں ہیں اور اپنی پسند کے افسروں کا تقرر چاہتے ہیں۔ یہ سہولت مگر اچکزئی خاندان اور وزیرِ اعلیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔
دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے کہ آزادی کی ہے نیلم پری
قبائلی معاشرہ ایک مسلسل تاریخی عمل سے جدید سانچے میں ڈھلتا ہے مگر یہاں تو آغازِ کار ہی نہیں۔ درحقیقت یوں تو سارے صوبے ہی لیکن بلوچستان نرا قبائلی ہے۔
اسلام آباد میں میاں محمد نواز شریف روئے پیٹے۔ اپنے کارناموں کی دلدل میں گھرے ، وہ خوف و خدشات کا شکار ہیں۔ مطالبہ ان کا درست ہے کہ الیکشن بے داغ ہونے چاہئیں کہ جمہوریت کو ضرر نہ پہنچے۔ تھوڑی سی جمہوریت بلوچستان کے لیے بھی!
کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا