منتخب کردہ کالم

جنرل قمر اور صدر ٹرمپ میں فرق…امیر حمزہ

جنرل قمر اور صدر ٹرمپ میں فرق...امیر حمزہ

جنرل قمر اور صدر ٹرمپ میں فرق…امیر حمزہ

جسمانی قد کے لحاظ سے جنرل قمر جاوید باجوہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریباً برابر برابر ہیں۔ عمر کے لحاظ سے جنرل قمر جاوید باجوہ ساٹھ کے عشرے میں ہیں جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ستر کے عشرے کو کراس کر چکے ہیں۔ اس لحاظ سے صدر ٹرمپ کو سینئر بزرگ کہا جا سکتا ہے۔ بزرگی میں عموماً مزاج میں نرمی، حلم اور حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے مگر بدقسمتی سے صدر ٹرمپ حلم و حوصلہ سے کافی حد تک تہی دامن ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ انتہائی نرم مزاج، حوصلہ مند اور حلم کے حامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عملی انسان ہیں۔ پختہ عزم کے متواضع‘ دلیر اور بہادر ہیں۔ تاریخ میں جو بلند پایہ لیڈر اور رہنما پیدا ہوئے ہیں وہ ایسی ہی خصوصیات کے حامل تھے۔ متلوّن مزاج، تیز، ترش اور غصیلے لوگ حادثاتی اعتبار سے لیڈر بن بھی جائیں تو وہ اپنی قوم کو یا تو کسی حادثے کا شکار کر دیتے ہیں یا پھر جلد ہی سمجھ دار قوم اپنے ایسے لیڈر سے جان چھڑا لیتی ہے اور لیڈر بے نام ہو جاتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ غصے اور دھمکیاں دینے کے اعتبار سے معروف ہو چکے ہیں، چنانچہ پاکستان کو بھی دھمکیاں دے ڈالیں اور یہاں تک فرما دیا کہ پاکستان نے ہمیں پچھلے پندرہ سال سے بیوقوف بنا رکھا ہے، اب مزید نہیں بنیں گے… دنیا کی سپرپاور کا صدر اپنے آپ کو کیا کہہ گیا۔ اپنی قوم کی کس قدر توہین کر گیا۔ اپنے پیش رو صدور… صدر بش اور صدر اوباما جیسے دانشور پریذیڈنٹس کو کیا کہہ گیا۔ غصیلے صدر ٹرمپ کو احساس ہی نہیں ہوا… مزید برآں! اپنی خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی پر کس قدر سوالیہ نشان بنا گیا۔ اپنی فوج کے جرنیلوں کی ساکھ کو کہاں پھینک گیا۔ صدر ٹرمپ کو احساس ہی نہ ہوا کہ ان کے غصے نے کس قدر اپنی ہی قوم کے اداروں اور شخصیات کو ایسا رگڑا دے دیا کہ جو صدر ٹرمپ ہی دے سکتا تھا، دوسرا کوئی ایسا نہ کر سکتا تھا کہ امریکہ بہرحال ایک سپرپاور ہے۔ زوال کی جانب اگرچہ گامزن ہے مگر ظہر کی نماز کے بعد مغرب تک زوال پذیر سورج کو غروب ہونے میں وقت تو بہرحال لگتا ہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ صاحب امریکی عوام کے منتخب صدر ہیں، ایک سیاستدان ہیں، کیا ایک سیاستدان ایسا ہوتا ہے؟ امریکی قوم کے دانشور سر پکڑے بیٹھے ہیں کہ ان کا لیڈر کیسا ہے؟ پاکستان کے وزیر دفاع جناب خرم دستگیر صاحب ہیں۔ دفاعی اور سیاسی اعتبار سے انہیں ایک باوقار مگر دھڑلے کے ساتھ امریکی صدر کے بیان کا جواب دینا چاہئے تھا مگر انہوں نے اہل پاکستان کو یہ کہہ کر ڈرا دیا کہ امریکہ حملہ کر سکتا ہے۔ مزید نہلے پہ دہلا یہ مار ڈالا کہ پاکستان کے لوگوں کو پشاور سکول پر حملے میں مشکوک قرار دیا۔ یعنی وہ اپنے ایک ہی بیان میں پاکستان کے پرامن لوگوں کی طرف اشارہ کر کے انہیں دہشت گرد بنا گئے اور وہ لوگ کہ جو آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے افغانستان سے آئے تھے‘ ان خارجی دہشت گردوں کو پاک صاف کر گئے۔ کاش وہ پاکستان کے اداروں کے پاس ٹھوس ثبوت ہی دیکھ لیتے تو ایسا نہ کرتے۔ مگر ایسا نہیں کہ انہیں پتہ نہ تھا۔ معلوم تو خوب ہے مگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشنودی عزیز تھی… آہ! یہ کیسی خوشنودی تھی جو پاکستانیوں کوبے حوصلہ کر رہی تھی اور صدر ٹرمپ کو حملہ کرنے کا بہانہ دے رہی تھی۔ یہ انداز تھا ہمارے ملک کے عوامی نمائندے کا جو ایک انتہائی ذمہ دار وزارت کا قلمدان تھامے ہوئے ہیں۔
قارئین کرام! ذمہ داری فوج ہی کو ادا کرنا پڑی۔ پاک فوج کے سالار جنرل قمر جاوید باجوہ جی ایچ کیو سے اٹھے، پشاور کے کور کمانڈر کو ہمراہ لیا اور وزیرستان کے ایک گائوں میں پہنچ گئے۔ وہاں ایک ایسے بزرگ کے گھر گئے جس کا سادہ سا مکان اس کی غربت کی گواہی دے رہا ہے، اس بزرگ کے چھ بیٹے ہیں، تین بیٹے دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہو چکے، باقی تین بھی پاک فوج کا حصہ بن کر برسرپیکار ہیں۔ چھ بیٹوں کا باپ محمد علی خان جنرل باجوہ کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے، باقی تین بیٹے بھی شہادت کے لئے حاضر ہیں۔ جنرل قمر جاوید فخر سے کہتے ہیں ایسی فوج کا چیف ہونے پر مجھے فخر ہے۔ یہ ہے وہ پیغام جو جنرل باجوہ نے ان قوتوں کو دیا جنہوں نے پاکستان کو دھمکیاں دینے کا وتیرہ بنا رکھا ہے۔ پاک فوج کے جرنیل اور سپہ سالار کی دانشوری کو سلام کہ ان کے پیغام میں سادگی بلا کی ہے۔ دانشوری اور خرد مندی آسمان کو چھو رہی ہے۔ مظلومیت کی انتہا ہے کہ پاک فوج کے دس ہزار جوان دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے چکے ہیں اور دیتے چلے جا رہے ہیں۔ ستر ہزار پاکستانی شہریوں کی قربانیاں علاوہ ہیں۔ اس پیغام میں دلیری اور بہادری کی بھی انتہا ہے کہ ہمیں دھمکیاں دینے والو! ہم دبنے والے نہیں بلکہ قربانیاں پیش کر کے اپنے ملک کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ جی ہاں! دفاع کا پیغام وزیر دفاع بیچارے نے کیا دینا تھا کہ اس کا دستگیر امریکہ ہے۔ دفاع کا پیغام دیا شہیدوں کے سالار جرنیل نے اور ایسا پیغام دیا کہ اس پیغام کے نشر ہونے کی دیر تھی کہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے عالمی میڈیا کو بتایا کہ ہمارے کمانڈر جنرل جوزف نے جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب سے رابطہ کیا ہے اور ہم یہ رابطے جاری رکھیں گے اور انہیں بحال رکھیں گے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئی دھمکی نہیں دی، اپنے اسلحہ کا ذکر نہیں کیا، میزائلوں کا تذکرہ نہیں کیا، ایٹمی قوت کا خیال بھی ظاہر نہیں کیا۔ اللہ کی قسم! سفارتکاری اور جرنیل، شہداء کے وارث کے ساتھ کھڑے ہو کر عالمی سیاست کو ایسا سیاسی پیغام دیا کہ سیاستدان منہ دیکھتے رہ گئے۔ اس کا نام ہے بصیرت۔ اس کو کہتے ہیں سیاست۔ ہاں ہاں! اک جرنیل سیاسی کھیل ایسا کھیل گیا کہ امریکہ سبکی اور شرمندگی کے ڈھیر تلے دب گیا۔ اب نہ جانے کب نکل پائے گا۔ کم از کم ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں تو ناممکن دکھائی دیتا ہے… لوگو! شہادت کا پاکیزہ خون جو حق کی خاطر گرتا ہے، بڑی قوت رکھتا ہے۔ امریکہ کا خون افغانستان میں ناحق گر رہا ہے اس لئے اس میں جان نہیں ہے۔ کشمیر میں انڈیا کا خون ناحق گر رہا ہے اس لئے اس میں ظلم و ستم کی بدبو ہے… خوشبو اس خون میں ہوتی ہے جو حق کی راہ میں گرتا ہے۔ قوت اور طاقت اس خون میں ہوتی ہے جو مظلومیت کا خون ہوتا ہے۔ پاک فوج کے شیروں کا خون مظلومیت کا خون ہے، راہِ حق کا خون ہے۔ وہ کسی ملک پر قبضے کرنے نہیں گئے۔ وہ اپنے ملک کا دفاع کر رہے ہیں۔ اس دفاع میں وہ شہید ہو رہے ہیں۔ شہادت ایک ایسا لفظ ہے جو اسلام کی امانت ہے۔ میں نے تورات پڑھی ہے مگر تبدیل شدہ کتاب میں شہادت کا لفظ نہیں دیکھا۔ انجیل اور زبور میں بھی نہیں دیکھا۔ ہندوئوں کی چاروں ویدوں کو میں نے دہلی سے منگوایا، ان میں بھی نہیں دیکھا۔ یہ سارے لوگ اپنے مقتولوں کے لئے شہید کا لفظ بولتے ہیں۔ میں نے کہا، یہ تو ہماری امانت ہے۔ پاکستان کی اسلامی فوج کی امانت ہے۔ اس کے پیچھے اک نظریہ ہے، اس نظریے سے بہادری پیدا ہوتی ہے۔ بتلائو! نظریے کے بغیر ہمارا لفظ تمہاری کیا مدد کرے گا۔
میرے حضور حضرت محمد کریمﷺ نے فرمایا، قیامت کا دن ہو گا۔ شہید کے زخم تازہ ہو جائیں گے۔ رنگ تو خون جیسا سرخ ہی ہو گا مگر خوشبو کستوری کی ہو گی (بخاری)، اللہ اللہ! میرا مولا تمام انسانیت کو اپنے شہید بندے کے خون کی خوشبو کا منظر دکھلا کر اعزاز دے گا۔ قیامت کے دن تو اعزاز ملے گا ہی۔ میرے رب نے دنیا میں بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کے کردار کی صورت میں منظر دکھلا دیا۔ شہادت کے خون کی طاقتور خوشبو کا نظارہ کروا دیا۔ اے شہیدوں کے وارثو! تمہارا شکریہ۔ تمہیں سلام پیش کرتا ہوں کہ ارسلان ہو، عبدالسلام ہو، عبدالمعید، مشتاق، حسنین اور حفیظ ہو، عتیق الرحمن ہو، سب خونوں کے سالار باجوہ نے ایسا منظر دکھلایا کہ وہ پاکستان کو حیاتِ نو دے گیا۔ امن دے گیا۔ سلامتی دے گیا۔ شہیدوں کے وارثو! تمہیں سلام کہ تمہارے پیاروں کا خون پاکستان کو زندہ باد کر گیا۔ جنرل قمر اور صدر ٹرمپ میں فرق واضح کر گیا۔ شکریہ جناب شکریہ۔