منتخب کردہ کالم

سرخیاں ، متن اور جمال احسانی…ظفر اقبال

سرخیاں ، متن، محمد سعید اظہر اور شاعری

سرخیاں ، متن اور جمال احسانی…ظفر اقبال

لودھراں کے عوام نے میرے زخموں پر مرہم رکھ دیا: نواز شریف
سابق اور نااہل وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ”لودھراں کے عوام نے میرے زخموں پر مرہم رکھ دیا‘‘ چنانچہ میں چاہتا ہوں کہ پورے ملک کے عوام بھی میرے لئے خاطر خواہ مرہم کا انتظام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ”مجھے معلوم نہیں کہ مجھ سے کس بات کا انتقام لیا جا رہا ہے‘‘ اس لئے میرا اگلا سلوگن اسی سے متعلق ہوگا کہ کس انتقام میں نکالا۔ انہوں نے کہا کہ ”سازش اور انتقام کا جواب عوام دے رہے ہیں‘‘ خدا کرے وہ اس پر قائم رہیں جس کا بہت کم امکان ہے کیونکہ فیصلے ہوتے ہی بہت سے فصلی بٹیرے اڑ جائیں گے جو خواہ مخواہ اندھے کے پائوں تلے آگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں ”لودھراں کے عوام کو سلام کہتا ہوں‘‘ جبکہ ان سرکاری محکموں کا بھی تہہ دل سے ممنون ہوں جنہوں نے اپنا قیمتی وقت خرچ کرتے ہوئے خود بھی مدد کی اور لوگوں کو بھی دھمکیوں سمیت بہت سی ترغیبات پیش کیں۔ انہوں نے کہاکہ ”پہلے ریفرنسز میں اگر کوئی ثبوت ہوتا تو نئے ریفرنس کی ضرورت نہ پڑتی‘‘ اگرچہ مجھے ثبوتوں کے بغیر بھی قربانی کا بکرا بنا دیا جاتا تھا، ہیں جی ؟ آپ اگلے روز پیشی کے بعد عدالت کے باہر صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
ریلوے جیسے اہم قومی ادارے کی نجکاری کا خطرہ ٹل گیا: سعد رفیق
وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ”ریلوے جیسے اہم قومی ادارے کی نجکاری کا خطرہ ٹل گیا‘‘ اور اب جو بڑا خطرہ درپیش ہے اس کے ٹل جانے کا یقین نہیں آ رہا کیونکہ نیب نے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور اپنی سابقہ سنہری روایات کے برعکس قطع رحمی کا ثبوت دے رہی ہے جس کا نیا چیئر مین مقرر کرتے وقت نواز شریف نے دوسری بار غلطی کھائی ہے جبکہ ان کی پہلی غلطی جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف مقرر کرنا تھا اور اس سے بھی بڑی غلطی انہیں باہر جانے کی اجازت دینا تھا کیونکہ عدالت نے تو کہہ دیا تھا کہ اجازت دینا نہ دینا حکومت کی اپنی صوابدید ہے۔ انہوں نے کہا کہ” ریلوے کی بحالی کی ترجیحات میں قومی مفاد میں پہلی ترجیح ہے‘‘ اور یہ ترجیح بھی انشاء اللہ اپنی ترجیحات جیسی ہے جو سابق وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ قائم کیا کرتے تھے۔ اس لئے اس سے بھی ان جیسی توقعات ہی رکھی جائیں کیونکہ ہم اپنی روایات سے رو گردانی نہیں کر سکتے۔ آپ اگلے روز ریلوے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے منعقد ہونے والے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
بلوچستان میں ہونے والی ناانصافیوں کا ازالہ کرینگے: آصف زرداری
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ”بلوچستان میں ہونے والی ناانصافیوں کا خاتمہ کریں‘‘ کیونکہ اپنے دور میں باقی پاکستان سے ہونے والی ناانصافیوں کا ازالہ اگر کر دیں تو بالکل قلاش ہو کر رہ جائیں البتہ بلوچستان میں ہونے والی ناانصافیوں کا ازالہ کسی حد تک کر بھی دیا ہے اور اس کے متعدد ارکان اسمبلی کی ضروریات کا خیال رکھا گیا ہے اور اگر حکومت ملی تو اپنی ضروریات کا خیال پہلے کی طرح ہم خود رکھ لیں گے کیونکہ ہم اپنی مدد آپ کے فارمولے پر یقین رکھتے ہیں بلکہ ہم میں سے ایک صاحب تو ہمارے ٹبر کی ضروریات کا خیال رکھ رہا تھا جس سے انہیں ایم بی بی ایس کی ڈگری بھی ملی۔ انہوں نے کہا کہ ”خوشحال بلوچستان ہمارا خواب ہے ‘‘ جو انہی خاص خاص خوابوں میں شامل ہے جو ہم نے اپنے لئے دیکھ رکھے ہیں اور جن کی تعبیر کے بیتابی سے منتظر ہیں بشرطیکہ کوئی اور مصیبت نہ آن کھڑی ہو۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں دیگر جماعتوں کے عہدیداروں کی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
سازشی عناصر کا مقابلہ کرنے کیلئے
بروقت انتخابات ضروری ہیں: حمزہ شہباز
خادم اعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے اور رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ ”سازشی عناصر کا مقابلہ کرنے کیلئے بروقت انتخابات ضروری ہیں‘‘ کیونکہ بروقت انتخابات منعقد نہ ہوئے تو پارٹی کے اندر جو سازشی عناصر ہیں انہیں سر اٹھانے کا موقع مل جائے گا اور اسی لئے ریفرنسز میں تاخیر کیلئے مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں کہ پہلے انتخابات ہو جائیں اور فیصلے بعد میں آتے رہیں کیونکہ اس وقت تک فصلی بٹیرے بھی قائم رہیں گے اور والد صاحب وزیر اعظم بھی بن جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ” ن لیگی حکومت نے زندگی کے تمام شعبوں میں ریکارڈ ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کئے‘‘ کیونکہ حالات خاصے مشکوک ہو رہے تھے اور یہی خطرہ تھا کہ کہیں لینے کے دینے ہی نہ پڑ جائیں۔ اس لئے ان کا بروقت مکمل ہونا اشد ضروری تھا جبکہ انہی بڑے منصوبوں میں بڑی خدمت بھی سرانجام دی جا رہی تھی۔ آپ اگلے روز برطانوی ہائی کمیشن کے پولیٹیکل قونصلر سے ملاقات کر ر ہے تھے۔
اور اب کراچی کے مرحوم اور صاحب طرز شاعر جمال احسانی کے کچھ اشعار:
اس ایک چھوٹے سے قصبے پہ ریل ٹھہری نہیں
وہاں بھی چند مسافر اترنے والے تھے
چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا
یہ سانحہ مرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا
مقدروں کی لکیروں سے مات کھا ہی گئے
ہم ایک دوسرے کا ہاتھ چومنے والے
ہونا نہیں اگرچہ گوارا زمین پر
لیکن اک آدمی ہے ہمارا زمین پر
مقصود صرف ڈھونڈنا کب تھا تجھے سو میں
جس سمت تُو نہیں تھا ادھر سے نکل گیا
اِک سفر میں کوئی دوبارہ نہیں لٹ سکتا
اب دوبارہ تری چاہت نہیں کی جا سکتی
یہ غم نہیں ہے کہ ہم دونوں ایک ہو نہ سکے
یہ رنج ہے کہ کوئی درمیان میں بھی نہ تھا
پیروں تلے زمین نہیں تھی سو‘ جی لئے
لیکن اب آسمان بھی سر پر نہیں رہا
بڑھا کے اس سے رہ و رسم اب یہ سوچتے ہیں
وہی بہت تھا جو رشتہ دعا سلام کا تھا
منہ اندھیرے جو نظر آتے ہیں کچھ لوگ یہاں
یا سحر خیز ہیں یا رات کے جاگے ہوئے ہیں
عین ممکن ہے چراغوں کو وہ خاطر میں نہ لائے
گھر کا گھر ہم نے اٹھا راہگزر پر رکھا
آج کامطلع
اگر اصلی نہیں تو ہو بہو جاگے ہوئے ہیں
غنیمت ہے کہ تیرے رُوبرو جاگے ہوئے ہیں