منتخب کردہ کالم

کارِ دشوار .. کالم ہارون الرشید

کارِ دشوار .. کالم ہارون الرشید

عبرت حاصل کرنے اور اپنی تصحیح کے لیے خود اپنے گریباں میں جھانکنا پڑتا ہے۔ اور یہی کارِ دشوار ہے۔
واقعہ تو کچھ اور ہوا لیکن آخرکار اس نتیجے پر پہنچا کہ عمران خان کے ساتھ زیادہ نرمی ترک کردینی چاہئے۔اسے ادراک نہیں کہ زندگی کتھارسس‘ دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے نہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ انتقامی جذبہ تباہ کن ہو سکتا ہے۔ اگر اقتدار ملا تو جلد ہی اسے معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان ایسے ملک میں حکومت چلانا کس قدر مشکل ہے۔ پولیٹیکل سائنس کے بنیادی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کچھ لوگوں کو آپ مشتعل کر دیں تو ناکام ہو جائیں گے۔
یہ حادثہ پرسوں شام رونما ہوا۔ سوشل میڈیا پر کسی نے لکھا کہ خرابی کو اگر مجسّم دیکھنا ہو تو محترمہ مریم نواز کو دیکھ لیجئے۔ اس کے بعد گالم گلوچ کے مقابلے کا آغاز ہوا۔ عام طور پر تحریکِ انصاف کے جیالے ظفریاب رہتے ہیں۔ اس روز مگر یہ جنگ نون لیگ نے پانچ چھ کے مقابلے میں بیس اکیس گول سے جیت لی۔ تحریکِ انصاف والوں کا لہجہ بھی آلودہ تھا مگر میاں صاحب کے متوالوں نے کردار کشی کا ایسا طوفان اٹھایا کہ بالآخر پی ٹی آئی والے پسپا ہو گئے۔ ایسی جنگوں میں آخری فتح کسی کی نہیں ہوتی۔ آخرکار دونوں کھیت رہتے ہیں۔ پورا معاشرہ بھی‘ اگر دونوں گروہ مضبوط ہوں۔
عمران خان کا لہجہ پہلے سے تلخ چلا آتا ہے۔ بونیر اور ڈیرہ اسماعیل خان کے جلسوں میں‘ آتش نوائی زیادہ تھی۔ وہ ایک روڈ رولر لگا‘جو بیک وقت آصف علی زرداری‘ میاں محمد نواز شریف‘ شہباز شریف‘ بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن کو روند ڈالنا چاہتا ہو۔
میاں صاحب نے اس کام کے لیے نصف درجن جنگجو پال رکھے ہیں۔ اور اب تو خود میاں شہباز شریف بھی اس صف میں شامل ہو گئے ہیں۔ عمران خان کے پاس بھی اسی طرح کے دو تین دلاور ہیں۔ وہ دلائل ‘طنز اور تحقیر تک محدود نہیں رہتے بلکہ مبالغے کی ان حدود کو چھو لیتے ہیں‘ جس میں افترا پردازی شامل ہوتی ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ غیظ و غضب کا طوفان بڑھتا جا تا ہے۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو وہ ذہنی کیفیت اپنی لپیٹ میں لیتی جا رہی ہے‘ جس میں ہوشمندی خاکستر ہوتی چلی جاتی ہے‘ صرف جنون باقی رہ جاتا ہے۔ جب دانش و دانائی تمام ہو جائیں تو نتیجہ معلوم۔ ظاہر ہے کہ آگ بھڑکے گی اور بے قابو ہوتی جائے گی۔ اس آگ کی کوئی سمت نہیں ہوتی۔ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اسے بجھایا نہیں جا سکتا۔
خود اس معاملے میں ایک چھوٹا سا تجربہ میں نے کیا‘ بری طرح جو ناکام رہا اور بالآخر اپنی شکست کا اعتراف کرلیا۔ ادھر چند ماہ سے سوشل میڈیا کا استعمال شروع کیا ہے۔ محسوس ہوا کہ اخبار نویس لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ ٹویٹ کرنے سے گریز کرتا تھا۔ اتنی فرصت کسے میسر ہے۔ پھر ایک شام اس کا ارادہ کیا۔ جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ تنقید تو بجا‘ خواہ اس سے کوفت جنم لے مگر آپ کو سیکھنے اور متوازن کرنے کا موقعہ بھی مل سکتا ہے۔ پتا چلا کہ یہ فقط سنگ باری نہیں‘ غلاظت بھی ہے۔ سوچا کہ تحمل سے کام لیا جائے۔ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ ابتدا میں کچھ نتیجہ بھی نکلتا نظر آیا۔ بیہودہ زبان برتنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ تنقید کیجئے مگر توہین کیوں۔ آپ کی ایک رائے ہے تو دوسرے کی مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ گاہے کوئی مان جاتا۔ کوئی خاموش ہو جاتا۔ ایک آدھ مردِ شریف نے تو معذرت بھی کی۔ کچھ حوصلہ بڑھا اور یہ سلسلہ جاری رکھا۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ خرافات بکنے والوں کی تعداد کم نہ ہوئی بلکہ بڑھتی گئی۔ سوچا‘برداشت ہی سے کام لینا چاہئے۔ پیغامات پڑھنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔ گمان ہوا کہ یہ نئے لوگ ہو سکتے ہیں‘ محبت سے جنہیں سمجھانا چاہئے۔ تین چار روز قبل ہمت جواب دے گئی‘ جب الزام تراشی کرنے والوں کی ایک فوج ظفر موج سے واسطہ پڑا۔ کیا یہ نون لیگ میڈیا سیل کے لوگ تھے‘ جو تنخواہ پاتے ہیں‘ جن کا مرکز و مقام ایوان وزیر اعظم سے منتقل ہو چکا؟ اللہ جانے‘ اس کھوج میں کون پڑے۔ بہرحال ایسے ہر شخص کو روکنا یعنی بلاک کرنا شروع کر دیا‘ تب سے صورتحال کچھ بہتر ہے۔ پتہ چلا کہ اگر وہ پیشہ ور نہیں تو عادی ضرور تھے۔ نرمی اور حسن ظن کو انہوں نے کمزوری سمجھا۔ اگر یہ میڈیا سیل کے کارندے تھے تو معاملہ کسی وقت پھر دگرگوں ہو سکتا ہے۔ ایسے میں بہرحال صبر اور ہوش مندی ہی کام آ سکتی ہے۔اپنے فرائض سے آدمی سبکدوش ہو سکتا ہے‘ نہ اپنی رائے بدل سکتا ہے۔ سیدنا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کے ایک قول کا مفہوم یہ ہے :اپنے خیال کو جو کسی کے خیال سے بدل لے‘ وہ اپنے خدا کو کسی خدا سے تبدیل کر لے گا۔ کوئی بات نہیں‘ اگر ان نام نہاد اخبار نویسوں کا سامنا کر سکا‘ جن میں سے بعض کا برسوں لحاظ کیا تھا‘ اگر ذاتی دوست کسی گروہ کے ہو کر یا ذاتی مفادات کے لیے کردار کشی پہ اتر آئے‘ اور انہیں گوارا کیا یا نمٹا دیا‘ تو ان لوگوں کو بھی دیکھ لیا جائے گا۔ اصول یہ ہے کہ آدمی ظلم کا مرتکب نہ ہو۔ زیادتی کا ارتکاب نہ کرے اور خود اپنا جائزہ لیتا رہے۔ خارج سے آنے والی مشکلات یا کسی کی الزام تراشی سے کچھ نہیں بگڑتا۔ اللہ پہ بھروسہ کرنا چاہئے۔ ریت کی بوریوں کو نہیں‘ ان کے پیچھے پناہ گزین حملہ آوروں کو دیکھنا چاہیے۔ کرائے کے لوگوں سے الجھنے کی ضرورت نہیں۔ جذبات اور جنون کے مارے لوگوں سے آپ کو واسطہ پڑتا ہے‘ اِن سے بھی‘ جنہیں یقین نہیں ہوتا کہ خدا انسانوں کا رزاق ہے۔ بدترین دشمن آپ کو اپنے دوستوں میں سے ملتے ہیں۔ دراصل دوست وہ ہوتے ہی نہیںبلکہ درہم و دینار کے بندے ۔انہیں سمجھانا چاہیے۔ جہاں تک ممکن ہو‘ صبر کرنا چاہیے۔ کبھی کچھ دن خاموش ہو رہنا چاہیے۔ اس کے باوجود کوئی باز نہ آئے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ ان کی طرف سے کان بند کر لینے چاہئیں گویا وہ انسانی آوازیں ہی نہیں‘ ہوتی بھی نہیں۔ وہ کیسا انسان ہے کہ جواب دینے سے گریز کیا جائے‘ پھر بھی گالی بکتا رہے۔ وہ تعصب میں اندھا ہے یا اپنے آقا کا غلام۔ پھر اس کے آقا کو دیکھنا چاہئے‘ اسے نہیں۔
عمران خان پر بہت سے اعتراضات ہیں۔ اس کی پارٹی میں پناہ پانے والے ادنیٰ اور بعض تو غلیظ لوگ۔ چار پانچ سال سے نشان دہی کر رہا ہوں۔ یہ بات مگر کبھی چھپائی نہیںکہ میاں صاحب سے یہ ناچیز بہرحال اسے بہتر سمجھتا ہے۔ لوٹ مار اس کا شیوہ نہیں؛ اگرچہ بازاریوں کو اب وہ گوارا کرنے لگا ہے مگر ایک مافیا تشکیل دینے کی آرزو‘ اس میں کبھی نہ تھی۔
عافیت کا کم از کم تقاضا یہ ہے کہ میاں صاحبان سے بگاڑی نہ جائے۔ اختیار ان کا ہے اور پوری بے دردی سے وہ اسے بروئے کار لاتے ہیں۔ خیریت درکار ہے تو بہت احتیاط سے ان پر تنقید کیجئے‘ پھر پلڑا برابر کرنے لیے ”خفیہ‘‘ طاقتوں بالخصوص افواج اور عدلیہ کی مذمت۔ تحفظ اسی میں ہے‘ لیکن پھر اپنے ضمیر اور ذوق پہ فاتحہ پڑھ لیجئے۔ خود اپنی نگاہ میں آدمی کی عزت باقی نہ رہے تو زندہ رہنے کے معانی کیا ہیں۔ پھر جی کے کیا کرنا ہے۔ لکھنے والا حکمرانوں کی مدح سرائی کرے تو وہ مردے سے بھی بدتر ہے۔ عمران خان میں خامیاں ہیں مگر یہ اس کے منہ پر گنوائی جا سکتی ہیں۔
جس چیز کا خان کو ادراک کرنا ہوگا‘ وہ یہ ہے کہ جو کوئی معاشروں کو تبدیل کرنے کے آرزومند ہوں‘ انہیں زیادہ صبر کرنا ہوتا ہے۔ اولیا اور انبیاء کی مثالیں بعض کی سمجھ میں نہیں آتیں‘ سامنے کی بات یہ ہے کہ قائد اعظم نے عمر بھر کٹھ ملائوں کو جواب نہ دیا‘ اور اشتراکیوں کو خال ہی۔
عبرت حاصل کرنے اور اپنی تصحیح کے لیے خود اپنے گریباں میں جھانکنا پڑتا ہے۔ اور یہی کارِ دشوار ہے۔