منتخب کردہ کالم

ہاشمی صاحب! مبارک ہو…حا مد میر

ہاشمی صاحب! مبارک ہو…حا مد میر
جاوید ہاشمی بڑے خوش لگ رہے تھے۔ فون پر بتا رہے تھے کہ میری صحت کافی بہتر ہو گئی ہے اور مالی مسائل پر بھی قابو پا لیا ہے۔ پھر مالی مسائل پر قابو پانے کی وجہ بھی تفصیل سے بتائی اور کہا کہ اپنی پرانی جائیداد مہنگے داموں بیچ کر میں بھی امیر ہو گیا ہوں۔ یہ بریکنگ نیوز سن کر میں نے ہاشمی صاحب کو مبارکباد دی تو کہنے لگے کہ پچھلے سال میری کتاب ’’زندہ تاریخ‘‘ شائع ہوئی تھی اُس کی تقریب رونمائی اتوار کو اسلام آباد میں رکھی ہے اور تم نے وہاں ضرور تقریر کرنی ہے کیونکہ تم اس کتاب پر پہلے ہی کالم لکھ چکے ہو۔ ’’زندہ تاریخ‘‘ کی تقریب رونمائی کا سن کر میں نے اپنے سر کو جھٹکا دیا۔ یہ کتاب تو نواز شریف، شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے تو پھر ہاشمی صاحب اس کتاب کی تقریب رونمائی کیوں کر رہے ہیں کیونکہ آج کل تو اُن کے ناقدین کو مسلم لیگ (ن) میں اُن کی واپسی ایک آنکھ نہیں بھا رہی؟
میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ جاوید ہاشمی صاحب کے پرانے لب و لہجے اور جوش و ولولے کی واپسی بتا رہی تھی کہ ریشماں پھر جوان ہو گئی ہے اور اپنی صحت یابی کا جشن منا کر اپنے حاسدین کے دل و دماغ پر بجلیاں گرانے والی ہے لیکن میرا اس جشن میں شامل ہونا مشکل تھا۔ میں نے بڑے معذرت خواہانہ انداز میں ہاشمی صاحب کو بتایا کہ مجھے ہفتہ کے دن کابل روانہ ہونا ہے۔ ہاشمی صاحب نے کہا کہ کوئی بات نہیں تم اتوار کو واپس آ جانا۔ وہ کابل کو ملتان سمجھ رہے تھے کہ ایک دن گئے اور دوسرے دن واپس آ گئے۔ میں نے بتایا کہ ہم رحیم اللہ یوسفزئی کی قیادت میں ایک وفد کی صورت میں جا رہے ہیں اور وہاں بہت سی ملاقاتیں طے ہیں لہٰذا اتوار کو واپسی مشکل ہو گی۔ میرا خیال تھا کہ اب ہاشمی صاحب فیصلہ سنائیں گے کہ تم کابل کا دورہ ملتوی کر دو اور ’’زندہ تاریخ‘‘ پر ایک تاریخی تقریر کی تیاری کرو۔ میں ذہنی طور پر رحیم اللہ یوسفزئی کو ایک بری خبر سنانے کی تیاری کرنے لگا کیونکہ ہاشمی صاحب کی ناراضگی سے میں بہت ڈرتا ہوں اگر وہ اپنا یکطرفہ فیصلہ سنا ڈالتے تو اس فیصلے کو مسترد کرنا بہت مشکل ہوتا لیکن انہوں نے کچھ دریادلی اور سخاوت دکھائی۔ مجھے کابل جانے کی اجازت دیدی۔ میں نے انہیں بتایا کہ واپس آ کر آپ کی کتاب پر کالم ضرور لکھوں گا۔ انہوں نے شانِ بے نیازی کے ساتھ اچھا ٹھیک ہے کہہ کر فون بند کر دیا۔
منگل کو کابل سے واپس آیا تو پتہ چلا کہ جاوید ہاشمی نے نواز شریف سے ملاقات کی ہے تاہم ابھی ہاشمی صاحب کی مسلم لیگ (ن) میں واپسی کا اعلان نہیں ہوا۔ ایک دوست نے یاد دلایا کہ جب 2012ء میں حفیظ اللہ نیازی اپنے پرانے دوست جاوید ہاشمی کو ورغلا کر کراچی لے گئے تھے تو عمران خان ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کرنے آئے تھے اب جاوید ہاشمی خود چل کر نواز شریف کو ملنے جا رہے ہیں۔ میں نے اپنے دوست سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جاوید ہاشمی کسی کے ورغلانے سے تحریک انصاف میں نہیں گیا تھا اسے مسلم لیگ (ن) سے دھکے دے کر نکالا گیا تھا۔ بظاہر بیگم کلثوم نواز نے اُنہیں بہت روکا لیکن ہاشمی صاحب کے شکوے شکایتیں بیگم کلثوم نواز سے نہیں نواز شریف اور شہباز شریف سے تھیں۔ میں نے بھی اُنہیں مسلم لیگ (ن) چھوڑنے سے روکا تھا لیکن وہ کچھ ایسے مخالفین کا پیچھا کر رہے تھے جو اُن سے پہلے تحریک انصاف میں پہنچ چکے تھے اور ہاشمی صاحب اُن کے کندھوں پر سواری کا شوق پورا کرنا چاہتے تھے۔ ان کا سیاسی ایڈونچر ناکام ہو گیا تو انہوں نے حالات سے سمجھوتہ کرنے کی بجائے تحریک انصاف کے اندر بھی بغاوت کر دی۔ نہ تحریک انصاف کے رہے نہ مسلم لیگ (ن) کے رہے لیکن جب مسلم لیگ (ن) پر کڑا وقت آیا تو نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ نواز شریف صاحب نے لندن روانگی سے پہلے اسلام آباد میں جاوید ہاشمی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں جاوید ہاشمی چہکتے اور مہکتے رہے۔ نواز شریف بھی مسکراتے رہے لیکن زیادہ نہیں بولے۔ نہ نواز شریف نے ہاشمی صاحب کو مسلم لیگ (ن) میں واپسی کی دعوت دی نہ ہاشمی صاحب نے یہ کہا کہ خدا کے لئے مجھے معاف کر دو اور دوبارہ اپنے گلے سے لگا لو۔ ہو سکتا ہے کہ یہ معاملات کسی اور نے طے کرنے ہوں اور باقاعدہ اعلان کسی جلسے میں ہو لیکن میری ناقص رائے میں نواز شریف کی جاوید ہاشمی سے ملاقات اور مریم بی بی کا جاوید ہاشمی کو یہ کہنا کہ آپ کو اپنے گھر واپسی مبارک ہو دراصل جاوید ہاشمی کی فتح ہے۔ یہ وہی مریم نواز تھیں جنہوں نے جاوید ہاشمی کو ’’ایک بیمار آدمی، ایک بیکار آدمی ہاشمی ہاشمی‘‘ کہا تھا۔ احسان فراموش کہا تھا۔ جھوٹا کہا تھا۔ اسی مریم نواز نے جاوید ہاشمی کو اپنے گھر واپسی پر مبارک دی اور تسلیم کر لیا کہ وہ نہ بیمار ہے نہ بیکار ہے۔ نواز شریف کے ساتھ ملاقات سے قبل ’’زندہ تاریخ‘‘ کی تقریب رونمائی میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنمائوں نے جاوید ہاشمی کو خوب خراج تحسین پیش کیا۔ ’’زندہ تاریخ‘‘ دراصل اُن ایام کی ڈائری ہے جب جاوید ہاشمی جنرل پرویز مشرف کے دور میں جیل کاٹ رہے تھے۔ وہ اپنی ڈائری میں جو لکھا کرتے تھے اُس کا علم صرف اُنہیں اور اللہ کو ہوتا تھا۔ پھر اُنہوں نے یہ ڈائری کتاب کی صورت میں شائع کر دی۔ یہ کتاب جاوید ہاشمی کا وہ موقف ہے جسے اب خود جاوید ہاشمی بھی نہیں جھٹلا سکتے۔ اس کتاب کو جھٹلائے بغیر جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ (ن) اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے تو احسان فراموش کا الزام تصدیق کی مہر کے ساتھ نواز شریف کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ ملاحظہ فرمایئے ’’زندہ تاریخ‘‘ کے صفحہ 54اور 55پر ہاشمی صاحب کیا لکھتے ہیں؟ جیل کے ایام کا حال لکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک دن مسلم لیگ (ن) کے فعال کارکن احسان پاشا جیل میں ملنے آئے۔ وہ کئی دنوں سے لندن میں تھے۔ وہ آتے ہی زار و قطار رونے لگے۔ کہنے لگے ایک دن لندن میں میاں نواز شریف نے قیصر محمود شیخ کو اپنے پاس بلایا۔ وہاں شہباز شریف اور کلثوم نواز بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ شہباز شریف نے قیصر محمود شیخ کی سختی سے سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے مقابلے پر لیڈر تیار کر رہے ہیں آپ فوری طور پر جاوید ہاشمی سے تعاون بند کریں۔
قیصر صاحب نے بتایا کہ مشرف حکومت نے ہاشمی صاحب کے بنک اکائونٹس منجمد کر دیئے ہیں، زمینوں کا پانی بند کر دیا ہے، ان کے وسائل محدود ہیں وہ پارٹی بھی چلا رہے ہیں اور جیل میں بیٹھ کر مزاحمت بھی کر رہے ہیں لیکن شہباز شریف نے کہا بس ہاشمی کی مدد بند کر دو۔ جاوید ہاشمی نے لکھا کہ پارٹی کے اندر میاں نواز شریف کا مجھ سے رویہ تکلیف دہ تھا۔ میں انہیں اپنے خلاف سازشوں کے ثبوت دیتا تھا لیکن وہ خاموش رہتے تھے۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ مجھے لمبی قید میں ڈالنے کا منصوبہ بھی پارٹی کے اندر تیار ہوا۔ اور بھی بہت کچھ ہے جو جاوید ہاشمی نے ’’زندہ تاریخ‘‘ میں شامل کر کے نواز شریف اور شہباز شریف کے کردار پر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ (ن) میں واپس لا کر شہباز شریف کی قوت برداشت کو مزید امتحان میں ڈالنا مقصود ہو لیکن شریف برادران جاوید ہاشمی کی ’’زندہ تاریخ‘‘ سے اتنی آسانی کے ساتھ جان نہ چھڑا سکیں گے۔ انہیں یہ تو بتانا ہو گا کہ جب جاوید ہاشمی ایک ڈکٹیٹر کے خلاف جیل میں بیٹھ کر مزاحمت کر رہا تھا تو آپ نے لندن میں بیٹھ کر اُس کی پیٹھ میں خنجر کیوں گھونپا؟ اگر اس سوال کا جواب دیئے بغیر جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ (ن) میں شامل کر لیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا ہاشمی صاحب نے جو بھی لکھا بالکل سچ لکھا۔ ہاشمی صاحب پیشگی مبارکباد قبول فرمایئے۔