منتخب کردہ کالم

انصاف کی قیمت ادا کون کرےگا؟….آصف علی بھٹی

انصاف کی قیمت ادا کون کرےگا؟

انصاف کی قیمت ادا کون کرےگا؟….آصف علی بھٹی

70 سالہ وطن عزیز میں مختلف ادوار کےدوران عوام کو دودھ اور شہد کی نہروں میں نہلانے کادعویٰ کرنے والے آج تک اپنےسوا کسی عام شخص کی حالت بدلنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ایسے میں جب جمہوریت کا دوسرا ہنگامہ خیز جمہوری دور مکمل ہونے کو ہے ملک کی دو بڑی جماعتیں اپنے اپنے 5سالہ اقتدار کی مدت مکمل کرنے کو ہیں تاہم عوام کے ووٹوں سے منتخب نمائندے محض دعوئوں کے سوا زمینی حقائق تبدیل کرنے میں کسی طور کامیاب نظر نہیں آتے۔ ووٹروں کے نصیب بدل دینے کے انہی دعوئوں کے درمیان خود کو بابا رحمتے قرار دینے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب میاں ثاقب نثار، سوموٹو نوٹسز وایکشنز سے متحرک عدلیہ کا نجات دہندہ کے طور پر ایک نیا چہرہ عوام کے سامنے لے آئے ہیں۔ کوئی سمجھے گا کہ انہیں ہیبت اور عظمت کے برگزیدہ ٹھنڈے کمرے سے باہر نکالنے پر کس نے مجبور کیا تو اس کا سادہ سا جواب چیف جسٹس جابجا مقامات پر اپنے خطابات میں خود دے رہے ہیں، کہتےہیں ’’وہ عوامی چیف جسٹس نہیں بلکہ قوم کےچیف جسٹس ہیں، یہ زندگی اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے کے لئے ہے، وہ قوم کے لئے کچھ کرنے کا عزم کر چکے ہیں، اگر انہوں نے عوام کے حقوق کے لئےعلم بلند کیا تو کیا غلط کیا؟‘‘ سیاسی زعماء کےخدشات کے جوابات بھی چیف جسٹس آف پاکستان خود دے رہے ہیں، کہتے ہیں ’’ووٹ کی عزت

xADVERTISEMENT
لوگوں کو آئین کے تحت ان کاحق دینا ہے، جس دن قوم نے ساتھ نہ دیا وہ پیچھے ہٹ جائیں گے‘‘۔ جمہوریت کو خطرات کے وسوسوں پر بھی کاری ضرب لگاتے ہوئے محترم چیف جسٹس آف پاکستان نے واضح اعلان کیا ہے کہ ’’یہاں صرف جمہوریت ہی چلے گی، کس کی ہمت ہے مارشل لا لگائے، ایسا ہوا تو ان سمیت سپریم کورٹ کے17 ججز نہیں ہوں گے‘‘۔ اب ایک سوال عام شہری کے ذہن میں ضرور سر اٹھاتا ہے کہ جمہوری حکومت کے ہوتے ہوئے ریاست کے ایک اور اہم ادارے عدلیہ نے سب برائیوں کو ٹھیک کرنے کی بھاری ذمہ داری اپنے سر کیوں لے لی ہے؟ شاید وہ سوچتے ہیں کہ وطن عزیز کے کسی ایک حصے میں نہیں بلکہ کم وبیش ہر صوبے، ہر ضلع اور ہر شہر سمیت چھوٹے ٹائونز تک میں صاف پانی تو دور کی بات، پانی کی فراہمی ہی ممکن نہیں ہو پا رہی۔ استعمال شدہ پانی کی نکاسی کا موثر نظام تک نہیں جو جلد سے لے کر ہر قسم کی جان لیوا بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ ہر جگہ بڑے چھوٹے اسپتال کا ہونا تو کجا، صحت کے بنیادی مراکز تک نہیں، اگر کہیں ہیں تو وہاں ڈاکٹرز ہیں نہ اسٹاف، بستر ہیں نہ ادویات۔ بچوں اور بڑوں کو تعلیم سے بہرہ مند کرنے کے لئے تناسب کے حساب سے تعلیمی ادارے تک نہیں، اگر کسی علاقے میں ہیں تو بنیادی سہولتیں نہیں، نظام تعلیم بدحالی کا شکار ہے، نصاب ہے نہ غیرنصابی سرگرمیاں، پرائیویٹ تعلیمی ادارے بہترین منافع بخش بزنس بن چکے ہیں۔ پڑھے لکھوں کے لئے روزگار نہیں تو کم تعلیم یافتہ یا ان پڑھ کے لئے کہاں، اور جنہیں روزگار مل بھی گیا ہے انہیں خون پسینہ ایک کرنے کے معاوضے کی عدم ادائیگیوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اقربا پروری کی انتہا یہ ہے کہ چھوٹے سے لے کر اعلیٰ عہدوں پر من پسندوں کی اجارہ داری نے ملکی نظام کو ذاتی جاگیر میں تبدیل کر رکھا ہے۔ عام آدمی کو تحفظ اور امن دینے کی بات کرنے والے ٹیکس پئیرز پر پلنے والے درجنوں سیکورٹی اہلکاروں کے حصار میں عوام سے محفوظ رہتے ہیں۔ ان جیسے کئی اور ہزارہا مسائل میں گھرےعوام بیچارے، بےبسی کا رونا روتے ہیں کیونکہ ان کے لیڈرز بیان بازیوں کے علاوہ ان زندگیوں کو سہل اور پرسکون بنانا اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے۔
راقم نے ایک گزشتہ کالم میں نشاندہی کی تھی کہ چھوٹی بڑی عدالتوں میں پڑے لاکھوں کیسز مدتوں سے عوام کے جوتے ہی نہیں گِھسا رہے بلکہ انکی جانیں بھی گھلا رہے ہیں ایسے میں انگریز دور کے رائج کردہ نظام کے تحت گرمیوں، سردیوں اور کرسمس کی عدالتی تعطیلات کا کیا جواز؟ شاید اس تحریر کا جناب چیف جسٹس آف پاکستان نے اس قدر سنجیدگی سے نوٹس لیا کہ اپنی ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات بھی ختم کردی ہیں اور صبح وشام عدالتیں لگا رہے ہیں تاکہ انصاف کی بروقت فراہمی ممکن ہوسکے، تو کیا سارے انصاف کی فراہمی اکیلے چیف جسٹس کی ذمہ داری ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس پریکٹس کا پیغام اور اثر جب تک نچلی سطح پر بعین نہیں ہوتا حقیقی انصاف کی فراہمی کا نظام قائم نہیں ہوسکتا۔ چیف جسٹس صاحب نے بڑا کمال یہ کیا ہے کہ سب بڑوں اور ایرے غیروں کا سیکورٹی پروٹوکول بند کردیا لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ چیف صاحب کو کے پی اور پنجاب سمیت دیگر صوبوں کے دوروں کے دوران پولیس اور دیگر اداروں کی پھرتیوں کا ازخود نوٹس ضرور لینا چاہئے جو انہیں بلاجواز پروٹوکول دے کر ان کی نیک نامی پر سوال کا سبب بن رہے ہیں۔
عوام کے لئے باعث کرب ہے کہ ان کے منتخب نمائندے موجودہ متحرک عدالتی نظام پر سوال اٹھا رہے ہیں، شاید اس لئے کہ عام آدمی کے مسائل کا حل اور انکی زندگیوں میں تبدیلی لانا ان کےفرائض منصبی میں شامل نہیں۔ ان کا کام تو محض ایوانوں تک پہنچانا ہے، ایوان کو رونق بخشیں یا نہیں، تنخواہ، ٹی اے ڈی اے، رہائش، گاڑی، پیٹرول، ہوائی جہاز کے مفت ٹکٹ، منرل واٹر، بجلی، ٹیلیفون کی بغیربل لامحدود سہولتیں لینا اور عوام سمیت سرکاری نوکروں چاکروں سے خدمت کرانا ہے، یہی وطیرہ ان کے زیراثر ریاستی مشینری یعنی بیوروکریسی کا ہے جو اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے ان کو اس راستے پر ڈالتے ہیں۔
عوام تصور کرتے ہیں کہ اگر جمہوری قائدین کا ملک میں سب کچھ ٹھیک ہونے کا دعویٰ درست ہے تو یہ چیف جسٹس آف پاکستان کے ہنگامی دوروں کے دوران اسپتالوں میں شکوہ کناں تڑپتے مریض اور ان کے لواحقین کون ہیں؟ ان کی گاڑی کو روک کر دادرسی کی التجا کرنے والے کون ہیں؟ تنخواہ نہ ملنے پرعرضیاں لئے نوحہ خواں ملازمین کون ہیں؟ قوم کے معمار تیار کرنے والی یونیورسٹیوں میں منظور نظر کو عہدے دینے والے کون ہیں؟ پارکوں کو سڑکوں میں تبدیل کرنے والے کون ہیں؟ ملک وقوم کے درد میں گھٹنوں تک ڈوبے اور خدمت کے جذبے سے سرشار دہری شہریت رکھنے والے بیوروکریٹ کون ہیں؟ مہینوں نہیں سالہا سال سے انصاف کے حصول کے لئے دربدر ٹھوکریں کھانے والے کون ہیں؟ قوم کے نام پر قومی خزانہ لوٹ کر محالات اور بیرون ملک اثاثے بنانے والے کون ہیں؟ صوبے بھر کی بجائے لاہور کو پیرس اور کے پی میں نیا پاکستان بنانے کے دعویدار کون ہیں؟ ووٹوں کی تقدیس کا علم اٹھا کر ووٹروں کی تضحیک کرنے والے کون ہیں؟ عوام کا مال ہڑپ کر کے ان کی خدمت کا دعویٰ کرنے والے کون ہیں؟ شفاف انتخابات کے مطالبے پر ڈٹے سینیٹ انتخابات کے سوداگر اور بکائو مال کون ہیں؟ اگر کوئی عوامی لیڈران سوالوں کے جواب جانتا ہے تو پھر اس کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ عوام سے انصاف کی بھاری قیمت کون ادا کرے گا؟ کیا کوئی تیار ہے اپنے گریبان کی بجائے اپنی تجوریوں میں جھانکنے کے لئے؟ سب حکومت میں ہیں کیا چیف جسٹس آف پاکستان کے ایکٹوازم اور نشاندہیوں کو سنہری موقع سمجھ کر کوئی عوامی مفاد میں پہلا قدم اٹھانے کا حوصلہ کرے گا؟ شاید آسان راستہ یہ ہوگا کہ جمہوریت پسند خود کو غیرمحفوظ سمجھنے کی بجائے اپنے غلط فیصلوں کو بروقت درست کرلیں۔ کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوششوں کی بجائے اپنی اہلیت ثابت کرنا شروع کردی۔ مخدوم کی بجائے عوام کے خادم بن جائیں۔ چیف جسٹس صاحب خود کہہ چکے ہیں کہ انہیں تعریفوں کی ضرورت نہیں، وہ جانتے ہیں جس دن کرسی سے اتریں گے انہیں کوئی پہچانے گا بھی نہیں۔ شاید یہ پیغام سیاستدانوں کے لئے زیادہ اہم ہے کیونکہ سیاست دان تو عوامی نمائندے ہوتے ہیں، انہیں ہمیشہ عوام میں رہنا ہوتا ہے، انہیں موجودہ حالات کے چیلنجز کو اپنی آزمائش سمجھنا چاہئے، موجودہ مشکلات کو مصیبت کے طور پر طاری کرنے کی بجائے اس کو کچھ بہتر کر گزرنے کا موقع سمجھنا چاہئے، جمہوریت کی بقا کے لئے آپس میں لڑنے اور خود کو تقسیم کرنے کی بجائے متحد کرنا چاہئے، اپنے اپنے دامن پر لگے ہر قسم کے داغ کو شفافیت، ایمانداری اور عوامی خدمت کے عزم نو سے دھو ڈالنا چاہئے۔ عوامی انصاف کی قیمت آپ ہی کو ادا کرنا ہوگی۔ یقین کریں اس قوم کا دل بہت بڑا ہے آپ نے ایک مرتبہ کوتاہیوں کا اعتراف کر کے درست سمت میں چلنے کا فیصلہ کرلیا تو کسی دوسرے سے شکوہ شکایت تو دور کی بات کریں گے یہ جمہور آپ کو اپنے سر کا تاج بنالیں گے۔