خبرنامہ

‘ایٹمی حملے کا بٹن میری میز پر ہے’، کم جونگ نے امریکا کو ہلا دیا

‘ایٹمی حملے کا بٹن میری میز پر ہے’، کم جونگ نے امریکا کو ہلا دیا

پیونگ یانگ:(ملت آن لائن) شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے دھمکی دی ہے کہ ایٹمی حملے کا بٹن ان کی میز پر ہوتا ہے اور امریکا کبھی بھی پیونگ یانگ کے خلاف جنگ شروع کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔ سالِ نو کے موقع پر اپنے ٹی وی پیغام میں کم جونگ ان کا کہنا تھا، ‘یہ محض دھمکی نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے کہ میرے دفتر کی میز پر ایک ایٹمی بٹن موجود ہے’۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا، ‘پورا امریکا ان کے ہتھیاروں کی رینج میں ہے’۔ کسی بھی وقت بیلسٹک میزائل داغ سکتے ہیں، شمالی کوریا کم جونگ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہماری ساری توجہ بیلسٹک میزائل اور ایٹمی وارہیڈ کو آپریشنل بنانے پر ہے’۔ اپنے خطاب میں کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کو بھی مذاکرات کی دعوت دے ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا، جنوبی کوریائی دارالحکومت سیئول میں ہونے والے ونٹر اولمپکس میں اپنی ٹیم بھیج سکتا ہے۔ دوسری جانب جب کم جونگ ان کی دھمکی کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رائے پوچھی گئی تو ان کا کہنا تھا، ‘ہم دیکھیں گے’۔ امریکا-شمالی کوریا لفظی جن جنوری 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد جہاں امریکا نے بہت سے غیر معمولی اقدامات اٹھائے وہاں شمالی کوریا کے خلاف بھی سخت پابندیاں عائد کیں لیکن اس کے باوجود شمالی کوریا اپنے جوہری منصوبے کی تکمیل سے پیچھے نہ ہٹا اور امریکی پابندیوں کے ردعمل میں میزائل تجربات کرتا رہا۔ شمالی کوریا کی جانب سے گزشتہ برس ہائیڈروجن بم کا تجربہ بھی کیا گیا اور اس تجربے کے باعث جاپان، جنوبی کوریا اور خود شمالی کوریا میں زلزلے کے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے۔ بین البراعظمی میزائل تجربہ:سلامتی کونسل کی شمالی کوریا کےخلاف نئی پابندیاں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کی دھمکی دی گئی تو کم جانگ اُن کی جانب سے کہا گیا کہ پورا امریکا شمالی کوریا کے میزائلوں کے ہدف میں ہے۔ دونوں رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے کو برے القابات سے بھی پکارا گیا جب کہ امریکی صدر نے شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کو وقت کا ضیاع بھی قرار دیا۔ گذشتہ برس 29 نومبر کو شمالی کوریا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو امریکا کے کسی بھی مقام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس موقع پر امریکا نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرے کا باعث نہیں بنے گا۔ جس کے بعد 23 دسمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بین البراعظمی میزائل تجربات کے بعد شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عائد کردی تھیں۔