خبرنامہ

پاناما کیس کی سماعت مکمل، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

اسلام آباد(ملت آن لائن)سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت مکمل ہوچکی ہے جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ جمع کرانے کے بعد عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ آج کیس کی مسلسل پانچویں سماعت کی جس میں وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل مکمل کرلیے جب کہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے بھی دوسری مرتبہ اپنے دلائل مکمل کیے۔

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سلمان اکرم راجہ کے دلائل

سماعت کے آغاز پر سلمان اکرم راجہ نے دلائل کی ابتداء میں کہا کہ کل کی سماعت میں نیلسن اور نیسکول ٹرسٹ ڈیڈ پر بات ہوئی تھی، عدالت نے کہا تھا کہ بادی النظر میں یہ جعلسازی کا کیس ہے، میں نے کل کہا تھا اس کی وضاحت ہوگی۔ اس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو ہم بھی دیکھ سکتے ہیں کہ دستخط کیسے مختلف ہیں۔

سلمان اکرم نے دلائل میں کہا کہ ماہرین نے غلطی والی دستاویزات کا جائزہ لیا، کسی بھی صورت میں جعلی دستاویز دینے کی نیت نہیں تھی، اکرم شیخ نے کل کہا ہے کہ غلطی سے یہ صفحات لگ گئے تھے، یہ صرف ایک کلریکل غلطی تھی جو اکرم شیخ کے چیمبر سے ہوئی۔

جسٹس عظمت نے کہا کہ مسئلہ صرف فونٹ کا رہ گیا ہے، سلمان اکرم نے کہا کہ دوسرا معاملہ چھٹی کے روز نوٹری تصدیق کا ہے، لندن میں یہ معمول کا کام ہے چھٹی کے روز نوٹری تصدیق ہو جاتی ہے، سوشل میڈیا پر کل عوام نے مجھے بہت سی لیگل فرمز کے بروشرز بھیجے۔

دورانِ سماعت عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم 2 منگوایا۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ والیم نمبر 10کو بھی اوپن کریں گے، ہرچیز کو اوپن کریں گے۔ انہوں نے سلمان اکرم راجہ سے کہا آپ کی بات نوٹ کر لی کہ ہفتے کے روز بھی سالیسٹر دستیاب ہوتے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حسین نواز نے یہ کبھی نہیں کہا ان کا سالیسٹر چھٹی کے روز دستیاب ہوتا ہے، جس لا ءفرم کی دستاویزات آپ پیش کر رہے ہیں وہ تصدیق شدہ نہیں۔

عدالت نے سماعت کے آغاز کے کچھ دیر بعد ہی جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد نمبر 10 کھول دی جسے کمرہ عدالت میں سب کے سامنے کھولا گیا۔

اس موقع پر ریمارکس میں جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ دسویں جلد میں جے آئی ٹی خطوط کی تفصیل ہوگی۔ انہوں نے وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ صاحب آپ کے کہنے پر اس کو کھول کر دکھا رہے ہیں جسے سب سے پہلے آپ کو ہی دکھایا جائے گا، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت کا استحقاق ہے وہ کسی کو بھی دکھائے۔

عدالت نے دسویں والیم کا خود جائزہ لیا اور وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کو دسویں جلد کی مخصوص دستاویز پڑھنے کو دیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ابھی دسویں جلد کسی کو نہیں دکھائیں گے، انہوں نے کہا کہ عدالت سے زیادہ خواجہ صاحب کا مطمئن ہونا ضروری ہے۔

دوران سماعت بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ کیا اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ریفرنس نیب کو بھجوا دیا جائے جس پر سلمان اکرم نے مؤقف اپنایا میرا جواب ہے کہ کیس مزید تحقیقات کا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آج سلمان اکرم راجا نے اچھی تیاری کی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعظم نے پُر اسرار ثبوت اسپیکر قومی اسمبلی کو دیئے ہمیں کیوں نہیں دے رہے؟ وزیر اعظم نے ’’ہمارے اثاثے‘‘میں خود کو بھی شامل کیا تھا؟

جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ کل پوچھا تھا کیا قطری شواہد دینے کے لیے تیار ہے؟ سلمان اکرم نے دلائل میں کہا کہ قطری کی جانب سے کچھ نہیں کہہ سکتا، قطری کو وڈیو لنک کی پیشکش نہیں کی گئی، اس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ شواہد کو تسلیم کرنا نہ کرنا ٹرائل کورٹ کا کام ہے۔

سلمان اکرم نے اپنے دلائل میں مؤقف اپنایا کہ بچے اپنے کاروبار کے خود ذمے دار ہیں، بچوں کو کاروبار کے لیے وسائل ان کے دادا نے دیئے، سال 2004 تک حسن اور حسین کو سرمایہ ان کے دادا دیتے رہے، اگر بیٹا اثاثے ثابت نہ کر سکے تو ذمےداری والدین پر نہیں آسکتی۔

جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ عوامی عہدہ رکھنے والوں کی آمدن اثاثوں کے مطابق نہ ہو تو کیا ہوگا؟ سوال یہ ہے کہ پبلک آفس ہولڈر نے اسمبلی میں کہا یہ ہیں وہ ذرائع جن سے فلیٹس خریدے، اس کے بعد وزیراعظم نے کچھ مشکوک دستاویزات اسپیکر کو دیں، ہم ایک سال سے ان دستاویزات کا انتظار کر رہے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ خطاب میں کہا تھا بچوں کے کاروبار کے تمام ثبوت موجود ہیں، عوامی عہدہ رکھنے والے نے قومی اسمبلی اور قوم سے خطاب کہا تھا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ یہاں معاملہ عوامی عہدہ رکھنے والے کا ہے، وہ اپنے عہدے کے باعث جوابدہ ہیں، عدالت اگر اس نتیجے پر پہنچی تو عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 12 دو کا اطلاق ہوگا۔ سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اپنایا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ لاگو کرنے کے لیے باقاعدہ قانونی عمل درکار ہوگا۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ مریم بینیفیشل مالک ہیں یہ کیپٹن صفدر نےگوشواروں میں ظاہر نہیں کیا اس پر سلمان اکرم نے مؤقف اپنایا کہ اس سارے معاملے کے لیے قانونی عمل درکار ہوگا، بی وی آئی کے خطوط حتمی ثبوت نہیں، عدالت مطمئن ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کے 23 جون کے خط کے جواب میں کل والا خط ملا۔

وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل مکمل کرلیے جس کے بعد جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آج آپ نے اچھے دلائل دیئے۔

اسحاق ڈار کے وکیل کے دلائل

سلمان اکرم کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایک بار پھر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے دلائل شروع کیے جب کہ اس موقع پر اسحاق ڈار کا 34 سال کا ٹیکس رکارڈ کمرہ عدالت میں پہنچایا گیا۔

طارق حسن نے اسحاق ڈار کا 34 سالہ ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ یہ بڑا بڑا ’’ٹیکس رکارڈ‘‘ہمارے لیے رکھا ہے؟ یہ سارا دن ٹی وی کی زینت بنا رہے گا۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے سوچ رہا ہوں کہ یہ سیکیورٹی والوں سے کلیئر کیسے ہوگیا؟

طارق حسن نے کہا کہ سنا ہے جے آئی ٹی نے بھی ایسے ہی ڈبے پیش کیے جس پر جسٹس عظمت نے ریمارکس دیئے کیا آپ بھی جے آئی ٹی کو فالوکر رہے ہیں؟

اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے دلائل میں کہا کہ عدالت کی جانب سے کافی مشکل سوالات کاسامنا کرنا پڑا، عدالت میں دو جواب داخل کرائے ہیں، اپنے جواب میں عدالتی تحفظات دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ 5 سال میں اسحاق ڈار کے اثاثے 9 ملین سے837 ملین کیسے ہو گئے؟ اسحاق ڈار نے شیخ نہیان کے 3 خطوط کے علاوہ کوئی دستاویزات نہیں دیں، ملازمت کی شرائط کیا تھیں؟ طارق حسن نے مؤقف اپنایا کہ مجھے معلوم نہیں وہاں ملازمت سے متعلق کیا کاغذات دیئے جاتے ہیں، جے آئی ٹی نے ایسا کچھ مانگا ہی نہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ آپ کا کام تھا کہ لوجیکل دستاویزات ساتھ لف کر کے دیتے جس پر اسحاق ڈار کے وکیل نے مؤقف دیا کہ جے آئی ٹی کے پاس رکارڈ نہیں تھا تو نتائج کیسے اخذ کر لیے؟ طارق حسن کے جواب میں جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ کتنی بار کہیں کہ ہم جے آئی ٹی کے نتائج پر فیصلہ نہیں کریں گے۔

طارق حسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسحاق ڈار کسی قانونی فرم میں مشیر ہوتے تو یقیناً سب کچھ موجود ہوتا، عرب حکمرانوں کے مشیر بننے پر کیا کاغذی کارروائی ہوتی ہے اس کا علم نہیں، اسحاق ڈار 40 سال سے پروفیشنل اکاؤنٹنٹ ہیں، بطور وکیل دو لاکھ کماتا ہوں تو ظاہر کرتا ہوں۔ جسٹس عظمت نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ 2 لاکھ سالانہ کماتے ہیں تو یہ شعبہ چھوڑ دیں۔

طارق حسن نے مؤقف دیا کہ اسحاق ڈار کے خلاف کوئی مقدمہ ہے نہ شواہد، جب رکارڈ جے آئی ٹی کو دیا گیا تو حوصلہ افزائی نہیں کی گئی، اسحاق ڈار نے گوشواروں میں اپنی غیر ملکی آمدن بھی ظاہر کر دی ہے، اسحاق ڈار نے بین الاقوامی آڈیٹر سے آڈٹ کروانے کی پیشکش کر دی۔

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے آپ چاہتے ہیں یہ کیس چلتا ہی رہے اور کبھی ختم نہ ہو؟ آپ کا ایک نقطہ یہ تھا کہ جے آئی ٹی نے مینڈیٹ سے تجاوز کیا، ایک منٹ کو حدیبیہ کیس خارج ہونے کو تسلیم کر لیں تو بھی اسحاق ڈارکے خلاف کافی مواد ہے، حقیقت میں آپ اثاثوں میں اضافے پر جے آئی ٹی کو مطمئن نہیں کر سکے، یہ آپ کے خلاف نئی قانونی چارہ جوئی کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے مؤقف اپنایا کہ اسحاق ڈار اپنی اسکروٹنی کروا کروا کر تھک چکے ہیں، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے، بلاوجہ احتساب عدالت میں گھسیٹنا قبول نہیں۔ اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا آپ کا مؤقف ہے کہ حدیبیہ ملز کیس دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا، آپ کہتےہیں کہ یہ ڈرامائی کہانی ہےجو ڈرامے کی طرح ہی ختم ہو جائے؟ تمام تحریری مواد کا جائزہ لیں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اسحاق ڈار کے بیٹے نے ہل میٹل کو فنڈز فراہم کیے جس پر طارق حسن نے دلائل دیئے کہ اس نوعیت کی صرف ایک ہی ٹرانزیکشن تھی، جے آئی ٹی میں اسحاق ڈار بطور گواہ گئے تھے، یہاں لگتا ہے ملزم ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اسحاق ڈار جے آئی ٹی میں استحقاق مانگتے رہے، سمجھ نہیں آتا کہ استحقاق کس چیز کا مانگا جا رہا تھا؟

طارق حسن نے مؤقف اپنایا کہ اسحاق ڈار اس ٹرانزیکشن سے مجرم کیسے ہو گئے، انہوں نے جے آئی ٹی سے کوئی بات نہیں چھپائی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ نے جے آئی ٹی کوشیخ النیہان کے پاس تقرری کا کوئی دستاویزی ثبوت نہ دیا، کیا آپ نہیں جانتے کہ اثاثے بڑھنے کا کوئی ثبوت ہونا چاہیے؟ طارق حسن نے دلائل میں کہا کہ اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی کو ٹیکس گوشواروں کا رکارڈ فراہم کیا تھا، جے آئی ٹی کو اسحاق ڈار کی پیش کردہ دستاویزات رکارڈ میں شامل کرنی چاہیے تھیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ علی ڈار نے والد اسحاق ڈار کو تحفے میں رقم دی، جے آئی ٹی کے مطابق اسحاق ڈار نے اس رقم پر ٹیکس ادا نہیں کیا، 5 سال میں اسحاق ڈار کے اثاثوں میں 800 ملین کا اضافہ حیران کن ہے۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کر لیے جس کے بعد جسٹس عظمت سعید نے اسحاق ڈار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ طارق صاحب، آپ نے اسحاق ڈار کے ساتھ انصاف کر دیا ہے، ہمیں بھی ڈار صاحب کے ساتھ انصاف کرنے دیں، وعدہ کرتے ہیں آپ کے تحریری دلائل اور دستاویزات کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کیس میں رد عمل دیکھے بغیر صرف قانون پر چلے، اب بھی صرف قانون کا راستہ ہی اپنائیں گے، آپ سمیت سب مدعا علیہان کے بنیادی حقوق کا خیال ہے، آئین کے آرٹیکل 10 اے سمیت متعدد آرٹیکلز ہماری نظروں کے سامنے ہیں، ایسا فیصلہ نہیں کریں گے جس سے کسی کے بنیادی آئینی حقوق کی تلفی ہو جب کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آئین اور قانون سے باہر نہیں جائیں گے۔

اسحاق ڈار کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد نیب کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے مختصر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حدیبیہ کیس میں اپیل دائر کرنے کا سوچ رہے ہیں، ایک ہفتے میں حدیبیہ ملز کیس دوبارہ کھولنے سے متعلق فیصلہ کریں گے۔ اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ سوچنے کا عمل کتنا عرصہ چلے گا؟

نعیم بخاری کا جواب الجواب

تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت کے روبرو جواب الجواب میں کہا کہ نواز شریف نے ایف زیڈ ای کمپنی کو ظاہر نہیں کیا، وزیراعظم عدالت اور قوم کے سامنے صادق اور امین نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ورک پرمٹ اور چیرمین ہونا بھی چھپایا، نواز شریف نے تنخواہوں کی رسیدیں بھی چھپائیں، اس پر عدالت نے کہا کہ دوسری طرف کا مؤقف ہے کہ تنخواہ کبھی نہیں لی گئی؟ نعیم بخاری نے جواب دیا کہ تنخواہ وصول کرنے کی دستاویزات موجود ہیں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا اگر عوامی نمائندگی ایکٹ کا اطلاق ہو تو کیا یہ معاملہ الیکشن کمیشن کو نہیں جائے گا؟ کیا یہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ الیکشن کے بعد بھی ایف زیڈ ای کمپنی کو ظاہر نہیں کیا گیا، اثاثے ظاہر نہ کرنا آرٹیکل 62 اور 63 کے زمرے میں آتا ہے، نواز شریف نے اپنے حلف کی بھی خلاف ورزی کی۔

نعیم بخاری نے کہا کہ نوازشریف نے اسمبلی میں جدہ مل 63 ملین ریال میں فروخت کا جھوٹ بولا، جدہ مل سے 42 ملین ریال ملے جو 3 شیئر ہولڈرز میں تقسیم ہونے تھے جب کہ لندن فلیٹس کی خریداری کے وقت بچے کم عمر تھے، اس وقت نواز شریف کے بچوں کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں تھا، میاں شریف کو اس سے پہلے کبھی فلیٹس سے نہیں جوڑا گیا، حسین نواز نے نوازشریف کو ایک ارب روپے سے زائد کے تحائف دیئے، تمام رقم نواز شریف کو ہل میٹل کے ذریعے ملی، ہل میٹل سے ملنے والی رقم پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے، یہ ناقابل یقین ہے کہ ہل میٹل کا 88 فیصد منافع نواز شریف کو مل گیا۔

تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ امریکا سے بھی رقم موصول ہونے کے شواہد ملے، شیخ سعید نے بھی نواز شریف کو 10 ملین دیئے، سمجھ نہیں آتا ہل میٹل اتنا کماتی کہاں سے تھی؟

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا عوامی عہدہ رکھنے والے پر ملازمت کی پابندی ہے؟ جس پر نعیم بخاری نے مؤقف اپنایا کہ معاملہ مفادات کے ٹکراؤ کا ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا، کیا وزیراعظم کے ملازمت کرنے پر پابندی ہے؟ ججز پر تو آئین میں واضح پابندی موجود ہے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی اٹارنی جنرل کو عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم پر ایسی کوئی واضح پابندی عائد نہیں کی گئی۔

نعیم بخاری نے مؤقف اپنایا بہتر ہوتا نواز شریف یہ کہہ دیتے کہ فلیٹس میاں شریف نے خریدے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ مریم نواز کو بینیفشل مالک تسلیم کر بھی لیں تو زیر کفالت ہونےکامعاملہ آئے گا، مریم نواز کے زیرکفالت ہونے کے واضح شواہد نہیں ملے۔ نعیم بخاری نے جواب دیا کہ مریم نواز اپنے والد کی فرنٹ ویمن ہیں۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا دیکھنا ہوگا کہ 90 کی دہائی میں نوازشریف کے بچوں کا ذریعہ آمدن تھا یا نہیں۔ نعیم بخاری نے جواب الجواب میں کہا کہ اسحاق ڈار اور شریف خاندان نے اثاثے بڑھانے کا ایک ہی طریقہ اپنایا، پیسا پہلے ملک سے باہر گیا اور پھر ملک میں واپس آیا۔

جے آئی ٹی کے کام کی تعریف

اس موقع پر جج صاحبان کی طرف سے جے آئی ٹی کے کام کی تعریف کی گئی۔

بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ممکن ہے جےآئی ٹی سے کچھ غلطیاں ہوئی ہوں مگر مشکل ترین حالات میں زبردست کام کیا، دیکھنا ہو گا کہ جے آئی ٹی کا مواد کس حد تک قابل قبول ہے۔

شیخ رشید کے جوابی دلائل

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے عدالت میں اپنے جوابی دلائل میں کہا کہ جے آئی ٹی پر میری طرح کمزور انگلش والوں نے مٹھائی بانٹی، جے آئی ٹی کے بارے میں نواز شریف نے دھمکی آمیز بات کی ، نواز شریف توہین عدالت کے مرتکب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف پاناما سے اقامہ تک پہنچ گئے، انہوں نے دبئی والوں کو بھی چونا لگایا، نواز شریف نے دبئی والوں کو نہیں بتایا کہ پاکستان میں وزیراعظم ہیں۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ جس کی طرف دیکھو بے نامی دار ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ لاہور میں امین، گوجرانوالہ میں امین اور اسلام آباد میں چور ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے بار بار منی ٹریل مانگی جو نہیں آئی، قطری کی پاکستان میں سرمایہ کاری کا کوئی جواب نہیں آیا جب کہ اسحاق ڈار نے عالمی بینک کو بھی چونا لگایا اور پاکستان کو جرمانہ ادا کرنا پڑا۔

شیخ رشید اور سلمان اکرم میں مکالمہ

گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو میں شیخ رشید نے کہا تھا کہ سلمان اکرم راجہ نے کیس کا بیڑا غرق کردیا ہے جس پر آج شیخ رشید اور سلمان اکرم کے درمیان سماعت سے قبل مکالمہ ہوا جس میں سلمان اکرم نے کہا شیخ صاحب آپ کا کل کا بیان نظر سے گزرا، شیخ رشید نے جواب دیا کہ میں نے صرف کیس پر بات کی ہے اور آپ جانتے ہیں میں آپ کی کتنی عزت کرتا ہوں۔

سپریم کورٹ میں آج بھی کیس کی سماعت کے موقع پر فریقین، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی کے رہنما سمیت دیگر اپوزیشن اراکین کمرہ عدالت میں موجود ہیں جب کہ اس موقع پر عدالت عظمیٰ کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

گزشتہ سماعت کے موقع پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے تھے کہ ہمارے سامنے کیس بادی النظر میں جعلی دستاویزات دینے کا ہے لیکن فی الحال بادی النظر سے آگے نہیں جانا چاہتے۔

جے آئی ٹی رپورٹ جمع ہونے کے بعد 17 جولائی سے جاری کیس کی سماعت میں اب تک تحریک انصاف، جماعت اسلامی کے وکیل، شیخ رشید، وزیراعظم کے وکیل، مریم، حسین اور حسن نواز کے وکیل سمیت اسحاق ڈار کے وکیل اپنے دلائل مکمل کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر 20 اپریل کو شریف خاندان کی منی ٹریل کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی جسے 60 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا گیا۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے 10 جولائی کو دس جلدوں پر مشتمل اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کروائی جس کے مطابق شریف خاندان کے معلوم ذرائع آمدن اور طرز زندگی میں تضاد ہے۔