خبرنامہ

سردار اسلم سکھیرا کی امر مسکراہٹ کو موت کیسے آ سکتی ہے…اسداللہ غالب

کوئٹہ چرچ

سردار اسلم سکھیرا کی امر مسکراہٹ کو موت کیسے آ سکتی ہے…اسداللہ غالب

ان کی شدید بیماری کی خبر شائع ہوئی، پھر بریکنگ نیوز چلیں کہ وہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ میرا دل ان خبروں کی صداقت پر یقین کرنے کو تیار نہ تھا۔ میںچالیس برس سے ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دیکھ رہا ہوں،تو یہ میں کیسے یقین کر لوں کہ مسکراہٹ کو موت آ گئی۔ میں ان کے گھر پہنچا۔ وہ چارپائی پر گو خاموش تھے مگر ایک الوہی بشاشت ان کے لبوں پر کھیل رہی تھی۔

یں پچھلے کئی برس سے ان کے گھر جا رہاہوں ۔ وہ لائونج میں بیٹھے ہوتے۔ ٹی وی کی بڑی اسکرین پر خبریں دیکھتے اور ساتھ باتیںبھی کرتے جاتے۔ پھر ملنا ہوا تو انہوںنے بیڈ روم میں بلا لیا۔ یہاں بھی انہوںنے روایتی مسکراہٹ سے استقبال کیا۔ ان کی طبیعت کی کمزوری صاف عیاں تھی مگر ان کے لہجے کی کھنک اور حاضر دماغی میں کوئی فرق واقع نہ ہوا تھا۔

میں بعض اوقات تاریخ کی ستم گری کا ماتم کرتا ہوں۔ سردار اسلم سکھیرا جاپان میں تھے کہ ان کے والد گرامی وفات پا گئے۔ ان دنوں کوئی ایسا ذریعہ بھی نہ تھا کہ سردار صاحب کو جاپان میں اطلاع دی جا سکتی ۔ وہ وطن واپس آئے تو پتہ چلا کہ والد گرامی منوں مٹی کی ڈھیری کے نیچے محو خواب ہیں۔

اتفاقات زمانہ دیکھئے کہ سردار احمد نواز سکھیرا وزیراعظم عمران خان کے ساتھ چین کے دورے پر تھے کہ پیچھے سے والد محترم انتقال فرما گئے۔ احمد نواز نے وزیراعظم سے واپسی کی اجازت لی اور پہلی فلائٹ پکڑی مگر جب تک وہ گھر پہنچے۔ ان کے والد کو دفن کیا جاچکا تھا،۔ ایک حسرت نے سردار احمد نواز کے دل ودماغ کا احاطہ کر لیا کہ والد کی قبر پر ایک مٹھی مٹی ڈالنے کی سعادت بھی نہ مل سکی، تقدیر کے لکھے سے کون ٹکرا سکتا ہے۔

میں سردارا سلم سکھیرا سے جب بھی ملا تو ہمیشہ انہوں نے بات کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ ایک بار وہ ایسا مضمون لکھ کر نوائے وقت کے دفتر پہنچے جو ان کے خیال میں شائع نہیں ہو سکتا تھا مگر میںنے اس پر ایک نظر ڈالی اور اسے اگلے روز کے نوائے وقت میں چھاپ دیا۔ وہ بار بار مجھ سے فون کر کے پوچھتے کہ کہیں حکومت کی خفگی کا کوئی اشارہ تو نہیں ملا۔ میںپوچھتا کہ حکومت کے ایک آرٹیکل کی اشاعت پر ناراض ہونے کی وجہ کیا ہے۔ کہنے لگے آپ بڑے معصوم بنتے ہیں آپ کو بھی پتہ ہے کہ اس کی اشاعت پر اخبار کے خلاف غداری کا کیس بن سکتا ہے۔ میںنے کہا کہ پھر کیا ہوا۔ میں نے تو وہ کیا جو میری دانست میں درست تھا۔ کچھ ایساہی واقعہ میرے ساتھ ایک اور اخبار میںبھی پیش آیا جہاں میرے استاد ارشاد حقانی نے ایک کالم لکھا ۔ میرے لئے اسے شائع کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ میں اس اخبار کے ادارتی صفحہ کا ایڈیٹر تھا۔ مگر مجھے لحاظ تھا اپنے استاد محترم کا۔

یہ مضمون تو چھپا مگر ملک میں ہا ہا کار مچ گئی ۔ ملیحہ لودھی نے مجھے فون کیا کہ جیل جانے کی تیاری کرو، میںنے وہی جواب دیا جو سکھیرا صاحب کو دیا تھا کہ پھر کیا ہوا، میںنے اپنا فرض منصبی نبھایا۔ اب غداری کا کیس آتا ہے تواس سے بھی نبٹ لوں گا۔

صحافت کانٹوں سے اٹا ہوا میدان ہے۔ اس خارزار میں وہ آئے جو آبلہ پائی سے خوف نہ کھائے،جو ان زخموں کو پھول سمجھے۔ میں کہتا ہوں کہ سرداراسلم سکھیرا نے جب بھی لکھا، بڑی دلیری سے لکھا اور عوام کے مسائل پر لکھا۔ وہ سرکاری نوکری میںکئی عہدوں پر فائز رہے اور کئی علاقوں میں خدمات انجام دیتے رہے۔انہیںہر نوع کے انسانوں سے ملنے کا اتفاق ہوا اس لئے انہوںنے ہر موقع پر کچھ نہ کچھ اخذ کیا اور لوگوں کے دکھ درد کا درماں کرنے کی کوشش کی۔

سردار اسلم سکھیرانے جو کچھ لکھا وہ نوائے وقت ہی کے لئے لکھا ۔ جب وہ لکھنے کے قابل نہ رہے تو میں نے ان کے کالموںکے تینوںمجموعے ان سے لئے اور ان سے خوشہ چینی کر کے لکھتا رہا۔ سردار صاحب نے جو لکھا وہ وقتی موضوعات پر نہ تھا بلکہ انسانیت کو درپیش مستقل مشکلات کے بارے میں تھا۔ کسانوں کے مسائل کبھی نہیں بدلے۔ مزدروں اور ہاریوں کے مسائل کبھی نہیں بدلے۔ گورننس کے مسائل کبھی نہیں بدلے اور بھارت کاپاکستان کے ساتھ رویہ بھی کبھی نہ بدلا، عالمی طاقتوں کی سازشیں بھی کبھی نہ بدلیں۔ کھلاڑی نئے ہوتے ہیں،۔ چہرے نئے ہوتے ہیں ، مگر کھیل انوکھانہیں ہوتا ہے اور اسی شطرنج کا نقشہ سردار صاحب کی تینوں کتابوں میں کھینچا گیا ہے۔جوش جنوں، سلگتے راز، اور عرض تمنا۔ یہ تین کتابیں سرداراسلم سکھیرا کے نام نامی کو زندہ جاوید رکھنے کے لئے کافی ہیں۔ عرض تمنا ان کے کالم کا عنوان بھی تھا۔یہ سب کالم نوائے وقت میں شائع ہوئے۔وہ بستر پر بھی تھے تو نوائے وقت ہی پڑھتے۔ انہوںنے زندگی بھر کوئی اور اخبار نہیں خریدا۔ نوائے وقت کی پیشانی پر حمید نظامی اور مجید نظامی کا نام دیکھ کر انہیں ایک گونہ روحانی اطمیان حاصل ہوتا تھا۔ وہ میرے مرشد محترم مجید نظامی کے کلاس فیلو تھے اور بتایاکرتے تھے کہ کس طرح انہوںنے نظامی صا حب کو یوینورسٹی کے شعبہ سیاسیات کی یونین کا صدر بنانے میں سرگرم کردارادا کیا تھا۔ نوائے وقت میں اگر کوئی صاحب بلا دھڑک جناب مجید نظامی کے کمرے میں داخل ہو سکتے تھے تو وہ سردار اسلم سکھیرا تھے۔ حمید نظامی۔ مجید نظامی اور سردار اسلم سکھیر ایک ہی رنگ میں رنگے ہوئے تھے اور یہ رنگ تھا نظریہ پاکستان کا ، حب الوطنی کا اور پاکستانیت کا۔

میں نے پہلے بھی ایک کالم میں لکھا تھا کہ میںموت کو ایک نئی زندگی تصورکرتا ہوں۔ ہماری دنیاوی زندگی سے پہلے بھی ایک زندگی تھی اور یہاں سے کوچ کے بعد بھی ہم ایک ابدی زندگی کے مرحلے میں داخل ہوجائیں گے۔ اس اعتبار سے مجھے سردار صاحب کی موت کا کوئی دکھ نہیں۔ ایک عارضی وقفے سے ہم سب نے ایک دوسرے سے ملنا ہے اور دعا یہ کرنی چاہئے کہ اچھے حالوں میں ملیں۔ اس کا انحصار ہمارے اعمال پر ہے۔ سردار اسلم سکھیرا تو نیک اعمال کا ڈھیر اپنے ساتھ لے گئے، خدا انہیں خوش رکھے اور راحت میں رکھے۔ میری آنکھوں کے سامنے تو ان کے ہونٹوں پر کھیلنے والی سدا بہار مسکراہٹ قوس قزح کی طرح رنگ بکھیر رہی ہے۔ میں تو سوچ بھی نہیں سکتا کہ مسکراہٹ کوموت آ سکتی ہے۔