خبرنامہ

شمالی کوریا کا ایٹمی اور میزائل تجربات روکنے کا اعلان

شمالی کوریا کا ایٹمی اور میزائل تجربات روکنے کا اعلان

پیونگ یانگ:(ملت آن لائن) شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے ایٹمی اور میزائل تجربات روکنے اور آج سے میزائل ٹیسٹ سائٹ بند کرنے کا اعلان کردیا۔ کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی یا میزائل تجربات کی اب ضرورت نہیں۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق کم جونگ نے کہا کہ آج سے ایٹمی ہتھیاروں کی تجربات کے لیے قائم تنصیبات کو بند کیا جارہا ہے اور پیونگ یانگ اب مزید کسی قسم کے ایٹمی یا میزائل تجربات نہیں کرے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب شمالی کوریا دنیا بھر میں ایٹمی تجربات ختم کرنے کی عالمی کوششوں کا حصہ بنے گا۔
امریکا کا خیر مقدم
شمالی کوریا کے سربراہ کی جانب سے ایٹمی اور میزائل تجربات روکنے کے اعلان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم پیش رفت اور ساری دنیا کے لیے اچھی خبر قرار دے دیا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں کم جونگ ان سے ملاقات کا انتظار ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر اور شمالی کورین سربراہ کے درمیان رواں برس جون میں ملاقات متوقع ہے، تاہم اس ملاقات کا مقام اور دیگر تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہیں۔ سی آئی اے کے سربراہ اور امریکا کے نامزد وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی گذشتہ ماہ شمالی کوریا کا خفیہ دورہ کیا تھا، جس کا مقصد ٹرمپ اور کم جونگ ان کی متوقع ملاقات سے پہلے گراؤنڈ ورک کرنا تھا۔ اس سے قبل رواں ہفتے ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے ہونے والے ملاقات میں فائدہ نظر نہ آیا تو وہ ملاقات ادھوری چھوڑ کر آجائیں گے۔
فائدہ نظر نہ آیا تو شمالی کورین سربراہ سے ملاقات ادھوری چھوڑ کر آجاؤں گا، ٹرمپ
جاپان کے وزیراعظم شینزو ایبے کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا کہ ‘شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں کی مکمل اور ناقابل واپسی تخفیف کرنا ہوگی، یہ نہ صرف شمالی کوریا بلکہ پوری دنیا کے لیے عظیم دن ہوگا’۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘اُس وقت تک دباؤ ڈالتے رہیں گے جب تک شمالی کوریا ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری ترک نہ کر دے’۔ امریکی صدر نے یہ بھی امید ظاہر کی تھی کہ ‘وہ دن آئے گا جب جزیرہ نما کوریا میں سب مل کر رہیں گے’۔
جنوبی کوریا اور جاپان کا ردعمل
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کی جانب سے ایٹمی اور میزائل تجربات روکنے کے فیصلے کو مثبت پیش رفت قرار دے دیا۔ جنوبی کورین صدر مون جے ان نے کہا کہ اس فیصلے سے آئندہ مذاکرات کے لیے مثبت ماحول پیدا ہوگا۔ دوسری جانب جاپان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا پر دباؤ کم کرنے کا ابھی وقت نہیں آیا۔