خبرنامہ

ڈیفالٹ لائنز اور آرمی چیف کا سعودی دورہ…اسد اللہ غالب

ڈیفالٹ لائنز اور آرمی چیف کا سعودی دورہ…اسد اللہ غالب

بات ابھی شروع ہوئی ہے اور اس پر آنے والے وقتوں میں غور کیا جاتا رہے گا۔
مسئلہ پاکستان کا نہیں تھا۔ مسئلہ خطے کا نہیں تھا، مسئلہ عالمی ڈیفالٹ لائنز میں ارتعاش کا تھا۔ امریکی صدر پھنکار رہے تھے کہ سعودی عرب کو ہر قیمت پر اسرائیل کو تسلیم کرنا پڑے گا اور امارات کی طرح باقی عرب ملکوں کو بھی اسرائیل کے ساتھ امن کا معاہدہ کرنا ہوگا۔زلزلہ پیما آلات پر یہ افواہیں زوروں پرتھیں کہ پاکستان کو بھی سعودی عرب کی پیروی کرنا ہو گی۔ چلئے اسرائیل کو چھوڑیئے پاکستان اور سعودیہ کے تعلقات میں کچھ دراڑ تو آئی ہی تھی کہ سعودیہ نے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے جو تین ارب ڈالر دیئے تھے ان میں سے وہ ایک ارب ڈالر مع سود واپس لے چکا تھاا ور خدشہ لاحق تھا کہ باقی کے دو ارب ڈالروں کی واپسی کا مطالبہ آیا کہ آیا اور ادھار پٹرول کی سپلائی بھی بند سمجھو۔ یہ صورت حال کسی زلزلے سے کم نہیں تھی بلکہ آپ اسے سونامی بھی کہہ سکتے ہیں،۔اس سونامی کی لپیٹ میں صرف پاکستان ہی نہیں،صرف خطہ ہی نہیں بلکہ ایک دنیا آ سکتی تھی۔ اسرائیل عرب ممالک کے قلب میں ایک ناسور ہے۔ یہ فلسطینیوں کی زمین پر ایک ناجائز قبضے کے مترادف ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے تو عالم ا سلام کو قبلہ اول القدس شریف سے ہاتھ دھونے پڑ جائیں گے۔ اور مسئلہ یہیں ختم نہیں ہو گا۔ کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضہ بھی جائز تصور کیا جانے لگے گا۔
یہ مسائل بحث مباحثوں کا موضوع تو تھے مگر کرنا کیا ہے۔ اس کا جائزہ لینے کے لئے آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کو ناگہانی طور پر سعودیہ کا رخ کرنا پڑا۔ کہا تو یہی گیا اور کہا گیا تو یہ بات سچ ہی ہو گی کہ یہ دورہ پہلے سے طے تھا۔
کوئٹہ چرچ
یہ دورہ ہو چکا۔ ہمارے دونوں جرنیل واپس آ گئے، لوگ سانس روکے اگلی خبروں کے منتظر ہیں۔ جتنے منہ اتنی باتیں، کوئی کہتا ہے کہ ملاقات کا کوئی اعلامیہ جاری نہیں ہوا، کوئی کہتا ہے کہ محمد بن سلمان نے تو ان سے ملاقات کی نہیں۔ یعنی ملک کے جرنیلوں کو نیچا دکھانے کے لئے زبان درازی جاری تھی۔ کہاں لکھا ہے کہ ہر ملاقات کاا علامیہ جاری ہوتا ہے۔کہاں لکھا ہے کہ محمد بن سلمان کسی سے ملاقات کریں تو پاکستانی میڈیا کے شوریدہ سر تجزیہ کاروں کو فون کرکے بتائیں گے۔
ہیں کواکب کچھ نظرا ٓتے ہیں کچھ۔ یہ توو قت ہی بتائے گا کہ پاکستان کے دو اعلی ترین جرنیل سعودیہ گئے تو اس دورے کا حاصل کیا تھا۔ ہو سکتا ہے اب وزیر اعظم عمرے کے لئے سعودیہ کا سفر کریں اور ہو سکتا ہے کہ اس دورے کی ملاقاتوں کاا حوال بھی سامنے نہ آئے حتی کہ اس خاموش سفارت کاری کا ایک ایک پرت کھل کر لوگوں کے سامنے آجائے۔ یہ بہت بڑی بات ہے کہ منجمد تعلقات کے باوجود آرمی چیف نے جس جرات رندانہ کا مظاہرہ کیا وہ تاریخ ساز اہمیت اختیار کر لے گا۔
یہ تو ہو نہیں سکتا کہ پاکستان اور سعودیہ کے تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہو۔ برادرانہ رشتے ہوں۔ حرمین شریفین کا تقدس روحوں کو بالیدگی بخشتا ہو اور ہر مشکل گھڑی میں سعودیہ نے پاکستان کا کھل کر ساتھ نبھایا ہو تو کسی ایک غلط فہمی سب کچھ ملیا میٹ نہیں کر سکتی۔ پاکستان اور سعودیہ نے کبھی باہمی تعلقات کے توازن کو بگڑنے نہیں دیا۔
اس پس منظر کو پیش منظر بنانے کے لئے آرمی چیف نے سعودیہ کادورہ ضروری خیال کیا۔ انہوں نے یہ پروا نہیں کی کہ ان سے کون ملاقات کریگاا ور کون نہیں کرے گا،۔ بھائیوں کے درمیان ایسے تکلفات سے بالا تر رہنا پڑتا ہے۔
مگر ہمارے دونوں جرنیل محمد بن سلمان کے چھوٹے بھائی خالد بن سلمان سے ملے کیونکہ معاملہ سفارتی نہیں اسٹریٹیجک نو عیت کا تھا۔ جب امریکہ اپنی بالا دستی ہر قیمت پر قائم رکھنے پر تلا ہوا ہو اور پاکستان نیک نیتی سے سمجھتا ہو کہ دنیا میں امریکہ کے علاوہ ا یک سپر پاورا ور بھی ہے اور وہ ہے چین جس سے پاکستان کی سرحدیں ملتی ہیں۔ جوپاکستان کے راستے گوادر کی بندر گاہ کو ترقی دے کر تین برا عظموں سے تجارتی روابط استوار کرنا چاہتا ہے۔اور اس میں امریکہ کا کوئی نقصان بھی نہیں۔ تجارت میں ہر کوئی آزاد ہے۔ ہر ملک کے اپنے مفادات ہیں۔ پاکستان کو اپنے مفادات عزیز ہیں۔ یہی وہ نازک معاملات ہیں جنہیں سعودی قیادت کے سامنے رکھنا ضروری تھا ۔اور میرا تجزیہ ہے کہ آرمی چیف اپنا موقف سمجھانے میں کامیاب لوٹے ہیں۔ یہ امر واضح ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مسئلے پر پاکستانی قوم کا اجماع ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام پہلے عمل میں آنا چاہئے اور ساتھ ہی کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنا چاہئے۔ ان دو فیصلوں کے بغیر پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا اور نہ اس کے لئے ہمیں کوئی مجبور کر سکتا ہے۔ پاکستان نے تو کویت پر صدام حسین کے قبضے کی بھی مخالفت کی تھی کہ طاقت کے زور پر علاقے ہتھیانے کے عمل کو تسلیم کر لیا جائے تو پاکستان کو کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضہ بھی ماننا ہو گا، کویت اور صدام کے جھگڑے میں ہم عالم عرب کے ساتھ کھڑے تھے۔
آرمی چیف کا دورہ ہو گیا۔اب اس کے تنائج کے پرت کھلتے چلے جائیں گے اور پوری قوم آرمی چیف کی ماہرانہ سفارت کاری کی داددے گی۔