خبرنامہ

ہم جنگ نہیں ہونے دیں گے…اسد اللہ غالب

ہم جنگ نہیں ہونے دیں گے…اسد اللہ غالب

سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ یہ ہے کہ پاک بھارت جنگ کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ say no to war کو ٹویٹر پر لاکھوں لوگ شیئر کر چکے ہیں۔ بھارت میں بھی لوگ کھل کر مودی کی جنگ جوئی کی مخالفت کر رہے ہیں بھارتی حکمران پارٹی کے تجزیہ کاروں نے دعوی کیا ہے کہ مودی کولوک سبھا میں دو درجن سے زیادہ سیٹیں فالتو مل جائیں گی اس پر ایک نئی بحث چھر گئی ہے کہ مودی نے ۴۴ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت اور ایک بھارتی ونگ کمانڈر کی قید اور دو مگ طیاروں کی تباہی سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے، بھارتی اپوزیشن پارتیوں نے متفقہ طور پر مودی کے جنگی جنون پر تنقید کی ہے۔ مودی جس جنتا پارٹی کی طرف سے وزیر اعظم بنا ہے اسی پارٹی کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نواز شریف کے دور میں امن کی آشا کو پروان چڑھانے کے لیے پاکستان آئے تھے، ان کی درج ذیل ایک نظم تو بہت مشہور ہوئی تھی۔
ہم جنگ نہ ہونے دیں گے
وشوشانتی کے ہم سادھک ہیں
جنگ نہ ہونے دیں گے
کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی
کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی
آسمان پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا
ایٹم سے ناگاساکی پھر نہیں جلے گا
ہتھیاروں کے ڈھیروں پر جن کا ہے ڈیرا
منہ میں شانتی بغل میں بم، دھوکے کا پھیرا
کفن بیچنے والوں سے یہ کہہ دو چلا کر
دنیا جان گئی ہے ان کا اصلی چہرہ
کامیاب ہوں ان کی چالیں بے شک نہ ہونے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے
ہمیں چاہیے شانتی، زندگی ہم کو پیاری
ہمیں چاہیے شانتی سرجن کی ہے تیاری
ہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سے
آگے آکر ہاتھ بٹائے دنیا ساری
ہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گے
ہم جنگ نہ ہونے دیں گے
بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہے
پیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہے
تین بار لڑ چکے لڑائی کتنا مہنگا سودا
روسی بم ہو یا امریکی، خون ہمارا بہتا ہے
جو ہم پر گزری بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گے
ہم جنگ نہ ہونے دیں گے
آج اٹل بہاری واجپائی کی جگہ نریند مودی وزیر اعظم ہے۔ حکمران پارٹی وہی ہے لیکن پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے ۔ مودی بھارتی افواج کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے وہ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں دو مرتبہ مسلح افواج کے سربراہوں سے ملاقات کر چکا ہے،اس پر بھارتی اپوزیشن پارٹیاں سیخ پا ہیں کہ ملک کی فوج حکمران پارٹی کو الیکشن جتوانے کے لیے کیوں استعمال ہو رہی ہے ۔ یہ سوال بھی اٹھا یا جارہا ہے کہ جب پلوامہ حملے کی وارننگ ایک ہفتہ پہلے مل چکی تھی تو بھارتی انٹیلی جنس اور فورسز نے اس حملے کو روکنے کی کیوں کوشش نہیں کی ۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ انھوں نے مودی کے اشارے پر جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے رکھیں جس کی وجہ سے پلوامہ سانحہ ہوا۔ یوں مودی کو پاکستان کے خلاف ہنگامہ کھڑا کرنے کا موقع ملا ۔اب اپنی افواج کی پشت پناہی پر مودی خونی بلا کی طرح درج ذیل نظم اپنے انتخابی جلسوں میں سنا رہا ہے
سوگند مجھے اس مٹی کی
میں دیش نہیں مٹنے دوں گا
میں دیش نہیں رکنے دوں گا
میں دیش نہیں جھکنے دوں گا
میرا وچن ہے بھارت ماں کو
مین تیراسیس نہیں جھکنے دوں گا
جاگ رہا ہے دیش میرا ہر بھارت واسی جیتے گا
مودی ماضی کی تاریخ بھول چکا ہے۔ وہ جنگی جنوں میں بد حواس ہو چکا ہے ۔ مگر اسے یاد رکھنا چاہئے کہ پینسٹھ میں فیلڈ مارشل ایوب خان کی زیر کمان ہماری افوج نے بھارت کی ننگی جارحیت پر دشمن کو قرار واقعی سزا دی تھی۔بھارت نے چوروں کی طرح سیاچین پر قبضہ کیا تو جنرل ضیا نے یہ تو کہا کہ سیا چین میں گھا س تک نہیں اگتی مگر اس کے دورسے آج تک پاک فوج سیاچین میں بھارتی جارحیت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں پارلیمنٹ نے جنرل کیا نی اور بعد میں جنرل راحیل شریف کو کاروائی کا مکمل اختیاردیا تو پاک فوج نے قیمتی جانوں کی قربانی دے کر دہشت گردی کا خاتمہ کر دکھایا۔ جنرل مشرف ہی کے دور میں ممبئی سانحے کے بعد بھارت نے پاکستان کی سرحدوں پر فوج جمع کر دی تو پاک فوج بھی ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مورچہ زن ہو گئی تھی۔ اور ہمارے میزائل عین سرحد پر نصب کر دیئے گئے تاکہ مار کی آخری حد تک پہنچ سکیں۔
آج ایک بار پھردونوں ملکوں میں خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔بھارت سرجیکل اسٹرائیک کرتا ہے تو پاکستان ا سے سرپرائزدیتا ہے اورا سکے دو جنگی طیارے مار گراتا ہے اور چھ فوجی تنصیبات بھک سے ا ڑا دیتا ہے۔ لوگ سوال پوچھتے ہیں کہ کیاکسی ایک جارحانہ کاروائی پر کوئی ملک آل آؤٹ جنگ چھیڑ سکتا ہے۔ایبٹ آباد پر امریکی حملہ ہوا تومیں نے جنرل نصیر اختر سے پوچھا تھا کہ اگر امریکی ہیلی کاپٹروں کو روکنے کی کوشش کی جاتی یا ان کو مار گرایا جاتا تو کیا پاک امریکہ جنگ چھڑ سکتی تھی ۔ انہوں نے جواب دیا تھا کہ ہر گز نہیں۔ امریکی فوج نے ایران میں ایک ناکام کمانڈو کاروائی کی مگر اس پر ایران امریکہ جنگ شروع نہیں ہوئی۔
بر صغیر میں آل آؤٹ جنگ کا تصور ہی نری حماقت ہے کیونکہ پاکستان کہہ چکا ہے کہ وہ کولڈ اسٹارٹ یا ہاٹ اسٹارٹ کے لئے تیار ہے۔ پاکستان کی طرح بھارت بھی ایک ایٹمی طاقت ہے۔ دونوں کے پاس طرح طرح کے میزائل بھی ہیں۔ مگر ان کے استعمال کا مطلب دو ارب آبادی کی موت ہے۔ ایسی تباہی کا رسک دونوں طرف کوئی بھی لینے کو تیار نہیں ہو گا۔ میرے مرشد مجید نظامی کا کہنا تھا کہ ایٹمی جنگ میں پاکستان تو نہیں بچے گا مگر دنیا میں پچاس سے زیاد ہ اسلامی ملک اور بھی موجود ہوں گے،دوسری طرف واحد ہندو ریاست کا وجود صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ یہ کام بھارت کے سوچنے کا ہے کہ خدا نخواستہ پاکستا ن کو مٹا کر وہ خود بھی مٹنے کو تیار ہے۔
منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بھارت کو کشمیریوں کے رد عمل کو برداشت کرنا پڑے گایا ان کی امنگوں کااحترام کرتے ہوئے انہیں آزادی ملنی چاہئے یا پھرپاکستان کو بھارت کی سرجیکل اسٹرائیکوں پر صبر کا گھونٹ پینا چاہئے۔
وزیر خارجہ کی بریفنگ پر میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا ۔ انہوں نے بہت تفصیلی بات کر دی ہے۔ جہاں تک انہوں نے اسلامی کانفرنس کی طرف سے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو گیسٹ آف آنر بنانے کی بات کی ہے تو میں قوم کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ مراکش میں مسجد اقصی کی آتش زنی پر اسلامی کانفرنس کا ایک ہنگامی اجلاس بلایا گیا تو اس میں بھی بھارت کے وزیر خارجہ کو مدعو کیا گیا تھا۔ مگر پاکستانی وفد کے سربراہ جنرل یحی خاں نے اپنے وفد کے ارکان سے کہا کہ وہ پیک اپ کر لیں ، جہاز کے انجن اسٹارٹ کر دیئے گئے تھے تو اسلامی کانفرنس کے منتظمین نے بھارتی وزیر خارجہ کو اجلاس سے نکال باہر کیا تھا۔
تاریخ کا چکر جاری ہے۔ کردار بھی وہی ہیں ،بس چہرے بدل گئے ہیں۔ مودی کو اپنے پیش رو واجپائی کے اس عزم کو اپنا عزم بناتا چاہئے کہ ہم جنگ نہ ہونے دیں گے۔حکومت تو آنی جانی ہے ۔ انسانوں کی بقا اصل مسئلہ ہے۔ اور یہ انسان بھی کوئی ڈیڑھ دو ارب کے قریب ہیں۔