Quran | Hadith | Seerat | Columns  | Newspapers  |  Photos   |E-Library |

2010ء کے دامن میں

 
 2010ء کے دامن میں,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی
 
میں کوئی نجومی یا علم غیب کا ماہر نہیں ہوں‘ صرف حالات و واقعات کی روشنی میں کچھ اندازے لگاتا رہتا ہوں۔ کوئی اندازہ تیر‘ کوئی تکا۔ 2010ء کے دامن میں مجھے بڑی اور نئی تبدیلیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ طے شدہ اصول ہے کہ طاقتور فرد ہو‘ قوم ہو یا ریاست‘ اپنی ہزیمت‘ سبکی اور توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ امریکہ دنیا کی سب سے طاقتور فوجی مشینری کا مالک ہوتے ہوئے‘ افغانستان میں جو نقصانات اٹھا رہا ہے‘ ہمارے دفاعی ماہرین کے اندازوں کے مطابق‘ وہاں سے دم دبا کر نہیں بھاگ سکتا۔ ویت نام کا زمانہ اور تھا۔ سوویت یونین امریکہ کی ٹکر کی فوجی طاقت تھی۔ چین نئی توانائیوں کے ساتھ ابھر رہا ہے اور امریکہ کی داخلی طاقتیں خصوصاً یہودی لابی اس جنگ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی تھی‘ کیونکہ جنگ سے اس کے مالی مفادات وابستہ نہیں تھے۔ یہ مفادات افغانستان سے بھی وابستہ نہیں ہیں۔ مگر جس خطے میں یہ جنگ ہو رہی ہے‘ وہ مستقبل میں وسیع تر مالی سرگرمیوں کا مرکز بننے والا ہے۔ خلیج کے گرد توانائی کے دریافت شدہ ذخائر موجود ہیں جبکہ بلوچستان اور وسطی ایشیا میں اتنے ہی بڑے ذخائر کی موجودگی ثابت ہو چکی ہے۔ امریکہ اگر افغانستان سے بھاگتا ہے‘ تو اسے مستقبل میں توانائی کے وسیع تر ذخیروں سے دور ہونا پڑے گا اور ایسا وہ ہرگز نہیں کر سکتا۔ یاد رہے امریکہ کے حالیہ انتخابات میں صدر اوباما کو یہودی ووٹروں سے 75 فیصد حصہ ملا ہے ۔ یہ خالی ازعلت نہیں۔ دنیا کے مالیاتی نظام پر کنٹرول رکھنے والی یہ لابی بہت سوچ سمجھ کر سیاسی فیصلے کرتی ہے۔
امریکہ دنیا کی سب سے بڑی مالی طاقت ہونے کے باوجود مالیاتی طاقت میں کمی کا شکار ہے۔ اس کا ڈالر دوسروں کے پاس جمع ہو رہا ہے اور وہ قرضوں کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ کوئی فوجی طاقت‘ کسی اور پہلو سے کمزور پڑنے یا دباؤ میں آنے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔ اگر اس وقت امریکہ کی مالیاتی حالت کو دیکھا جائے‘ تو دیگر ملکوں کے پاس موجود ڈالروں کے ذخیرے امریکی خزانے کے لئے چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ جاپان کے پاس اس وقت ایک ٹریلین ڈالر کا ذخیرہ ہے۔ تائیوان‘ ہانگ کانگ اور سنگاپور 500 بلین ڈالر لئے بیٹھے ہیں۔ جنوبی کوریا 200 بلین ڈالر کا مالک ہے۔ چین کے پاس 2.5 ٹریلین ڈالر کے ریزروز ہیں‘ جن کا بڑا حصہ امریکہ پر قرضوں کی صورت میں ہے۔ اگر ان ایشیائی ملکوں میں ڈالروں کے ذخیرے بڑھتے رہے اور امریکہ کے اپنے قومی اثاثے دوسرے ملکوں کی ملکیت میں جانے کا سلسلہ جاری رہا‘ تو ایک وقت آئے گا کہ امریکہ کی اپنی ہی دولت دوسروں کی طاقت میں بدلتی رہے گی اور ڈالر کی قدر میں کمی کی رفتار بڑھنے لگے گی۔ یورو دیکھتے ہی دیکھتے ڈالر سے آگے بڑھ گیا ہے جبکہ چین ڈالر کے وسیع تر ذخیروں کے ساتھ ہر سال امریکہ کے ساتھ تجارت میں اربوں ڈالر نفع کما رہا ہے۔ چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت کے ساتھ اس کی فوجی طاقت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ چین اسی رفتار سے ترقی کرتا رہا‘ تو امریکہ کے لئے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتا ہے اور مستقبل میں سوویت یونین اور چین مل کر اگر کوئی فوجی بلاک بنا لیتے ہیں‘ جس کے امکانات موجود ہیں‘ تو امریکہ دنیا کی واحد سپرپاور کے مقام سے محروم ہو سکتا ہے۔ یہ محرومی اسے گوارا نہیں ہو گی۔
1971ء میں جب جرمنی‘ برطانیہ اور فرانس تیزی سے ترقی کر رہے تھے اور ان کی معیشت کا گراف اوپر جا رہا تھا‘ تو ان کا حلیف ہونے کے باوجود امریکہ کو یہ فکر لاحق ہو گئی تھی کہ یورپ اسے چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آ کر‘ توازن طاقت میں تبدیلیاں لا سکتا ہے۔ چنانچہ تیل کا ہتھیار بروئے کار لایا گیا۔ جس کے نتیجے میں تیل کے نرخ کئی گنا بڑھ گئے۔ امریکہ کے پاس تیل حاصل کرنے کے دیگر ذرائع موجود تھے جبکہ یورپ کے یہ ملک شرق اوسط کے تیل پر انحصار کرتے تھے۔ خلیج کا تیل جتنا بھی مہنگا ہو‘ اس کے ڈالر امریکہ کو ملتے ہیں کیونکہ ایران کے سوا تیل کی باقی ساری تجارت ڈالروں میں ہوتی ہے۔ عراق پر قبضے کے بعد تو شرق اوسط کے سارے تیل کی تجارت امریکی ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔ تیل کا بحران پیدا کر کے امریکی نے یورپ کی تیزرفتاری سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں کو جھٹکا دیا۔ یورپ جو ایک بلاک بن کر امریکہ کے برابر کی طاقت بننے جا رہا تھا‘ اسے لینے کے دینے پڑ گئے۔ تب سے آج تک یورپ امریکہ کا عالمی اتحادی بنا ہوا ہے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا‘ اب جو نئی طاقتیں خصوصاً چین تیزرفتاری سے ترقی کر رہی ہیں‘ امریکہ انہیں خاموشی سے نہیں دیکھے گا۔
اس پس منظر میں اگر شرق اوسط اور جنوبی ایشیا میں امریکی سرگرمیوں پر نگاہ ڈالی جائے‘ تو 1971ء کا منصوبہ جغرافیے اور سٹریٹجک کی تبدیلی کے‘ ساتھ نئی طاقتوں کے خلاف‘ دہرایا جا سکتا ہے۔ اگر ایران میں داخلی انتشار بڑھانے اور پابندیوں میں اضافے کے عمل کو دیکھا جائے‘ تو صاف نظر آتا ہے کہ افغانستان میں فوجی طاقت بڑھا کر ایران کو غیرمعمولی صورتحال کی طرف دھکیلا جائے گا۔ چین توانائی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے‘ ایران اور شرق اوسط کی طرف دیکھ رہا ہے۔ یہ کوششیں افریقہ میں بھی جاری ہیں لیکن وہاں سے تیل کی فراہمی کی منزل ابھی دور ہے‘ اس لئے چین کا زیادہ زور ایران اور گوادر کے ذریعے تیل کی سپلائی حاصل کرنے پر ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ پاکستان اور افغانستان سے پائپ لائن کا راستہ بھی چاہتا ہے۔ اگر امریکہ خلیج سے جنگ یا بدامنی کے ذریعے تیل کی فراہمی میں خلل ڈال دیتا ہے‘ تو اس سے مشرق بعید کے سارے ملک متاثر ہوں گے‘ جن میں سے بیشتر ڈالروں کے ذخیرے لئے بیٹھے ہیں۔ خلیج سے تیل کی فراہمی معطل ہونے پر‘ امریکہ اور یورپ زیادہ متاثر نہیں ہوتے کیونکہ 1971ء کے بعد یورپ‘ روس سے توانائی حاصل کرنے کا راستہ ڈھونڈ چکا ہے۔ امریکہ کے پاس تیل کے محفوظ ذخائر اور خلیج کے بغیر تیل کی فراہمی کے انتظامات موجود ہیں۔ لیکن چین کا زیادہ انحصار شرق اوسط کے تیل پر ہے۔ جب تیل کا بحران پیدا ہو گا‘ تو قلت کے ساتھ مہنگائی بھی آئے گی‘ جس کے نتیجے میں ڈالر کی اہمیت بڑھے گی‘ کیونکہ جس قدر تیل مہنگا ہو گا‘ تیل کی تجارت پر قابض امریکی کمپنیوں کے منافعے بھی بڑھیں گے اور خلیجی ملکوں کے پاس جو دولت آئے گی‘ اس کی منزل بھی امریکی بنک ہوں گے۔ اگر اس سٹریٹجک منصوبے سے حاصل ہونے والے فوائد کا اندازہ لگایا جائے‘ تو افغانستان میں امریکہ کو پہنچنے والے نقصان کا ممکنہ فوائد سے جو تناسب ہو گا‘ اسے امریکی آسانی سے برداشت کر سکیں گے۔ چین کی تیزرفتاری کے ساتھ ترقی کرتی ہوئی معیشت کو یہ جھٹکا لگ گیا تو اس کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آئے گی‘ شرح ترقی نیچے گرے گی اور اس کی فوجی طاقت میں اضافے کی رفتار بھی متاثر ہو گی۔اس پورے کھیل کے لئے پاکستان‘ افغانستان اور ایران کے علاقے بے حد اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ علاقے امریکہ کے زیراثر نہیں آتے‘ تو یہاں بدامنی اور انارکی میں اتنا اضافہ کر دیا جائے گا کہ یہاں کوئی ترقیاتی کام یا تجارت کے راستے قابل عمل نہیں رہیں گے۔ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے‘ اگر واقعات اسی انداز سے آگے بڑھے‘ تو 2010ء کا سال ہمارے لئے کافی بڑی تبدیلیاں چھوڑ کر جائے گا۔
  


 



    Powered by Control Oye