Quran | Hadith | Seerat | Columns  | Newspapers  |  Photos   |E-Library |

16دسمبر اور 2مئی..…حامد میر

 
Share  16دسمبر اور 2مئی...قلم کمان …حامد میر 
 
 
 
مایوسی کے اندھیروں میں اُمید کی کچھ کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔ حکمران امریکی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے زور لگا رہے ہیں۔ شمسی ایئر بیس سے امریکا کو نکال دیا گیا ہے اور اسی لئے پاکستان میں ڈرون حملے بند ہو گئے ہیں تاہم امریکی میڈیا میں گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق ڈرون حملے بند ہونے کی وجہ نیٹو کی سپلائی لائن کا معطل ہونا ہے۔ جب سے حکمرانوں نے امریکا کے سامنے سر اُٹھانے کی کوشش شروع کی ہے تو پاکستان میں خودکش حملے بھی رک چکے ہیں تاہم کراچی میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں کے ذریعہ دشمن ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ اُسے چین نہیں آیا۔ یہ ریموٹ کنٹرول بم دھماکے دیکھ کر ہمیں بار بار سربجیت سنگھ یاد آ جاتا ہے جس پر لاہور اور فیصل آباد میں ایسے ہی بم دھماکے کرنے کا الزام ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اُسے موت کی سزا سنا چکی ہے لیکن کئی سال سے اُس کی سزا پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ خدشہ ہے کہ خودکش حملے رُکنے کے بعد ہماری صفوں میں چھپے ہوئے کئی سربجیت سنگھ کار بم دھماکوں کے ذریعہ پاکستان کا سکون برباد کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ہم دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ سے اپنا پیچھا نہ چھڑا سکیں۔ یاد کیجئے کہ جب گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے امریکا کی جنگ کو پاکستان کی جنگ بنا دیا تو پاکستانیوں کی اکثریت اس جنگ کی حمایت پر تیار نہ تھی۔ اس جنگ کے مخالفین کو انتہا پسند اور طالبان کا حامی قرار دے کر چپ کرانے کی کوشش کی گئی۔ جنرل پرویز مشرف کو ”سیّد مشرف“ کہنے والے شیخ رشید احمد لال سرخ ہو کر کہا کرتے تھے کہ اگر ہم نے امریکا کے ساتھ تعاون نہ کیا تو وہ ہمارا تورا بورا بنا دے گا۔ خدا کی قدرت دیکھئے کہ وہ جنگ جو پاکستان کو بچانے کے لئے شروع کی گئی تھی اس نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ پرویز مشرف نے اپنے کور کمانڈروں کو بتائے بغیر جیکب آباد، پسنی اور شمسی کے ہوائی اڈے امریکا کے حوالے کر دیئے، امریکی ڈرون طیارے ہمارے ہی اڈوں سے پرواز کر کے ہمارا تورا بورا بناتے رہے اور شیخ رشید احمد اپنے باس پرویز مشرف کے پہلو میں بیٹھ کر سگار کا دھواں اڑاتے رہے۔ جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے گزشتہ کالم میں لکھا ہے کہ پاکستانی قوم کو 16 دسمبر 1971ء کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے جب ہماری فوج کو ڈھاکہ میں بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ ڈاکٹر صاحب کا خیال ہے کہ اگر ہم 16دسمبر کے سانحے سے سبق سیکھ لیتے تو پرویز مشرف کبھی امریکا کی خوشنودی کے لئے اپنی فوج کے ذریعے اپنے لوگوں پر بمباری نہ کراتا۔ جب تک ہماری فوج امریکی جنگ کا حصہ بن کر اپنے لوگوں پر بمباری کرتی رہی تو یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ تھی جیسے ہی امریکیوں نے ہمارے فوجیوں کو مارنا شروع کیا تو یہ پاکستان کے خلاف جنگ قرار دیدی گئی۔ دیر آید درست آید۔ شکر ہے کہ آپ کو دس سال بعد سمجھ آ گئی کہ یہ جنگ پاکستان کو کمزور کر رہی تھی۔ کاش کہ ہمارے حکمرانوں نے 16 دسمبر 1971ء کے سانحے کی تحقیقات کے لئے تشکیل دیئے جانے والے حمود الرحمان کمیشن کی انکوائری رپورٹ کو چھپانے کی بجائے نصاب کا حصہ بنا دیا ہوتا تو ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ چکے ہوتے۔
حمود الرحمان کمیشن نے اسی طرح انکوائری کی تھی جس طرح ایبٹ آباد کمیشن انکوائری کر رہا ہے۔ 26دسمبر 1971ء کو چیف جسٹس آف پاکستان حمود الرحمان کی سربراہی میں تشکیل دیئے جانے والے کمیشن میں جسٹس انوارالحق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور جسٹس طفیل علی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ شامل تھے۔ اس کمیشن نے سینکڑوں فوجی افسران اور سیاستدانوں کے بیانات کے علاوہ پونے چار سو دستاویزات حاصل کیں اور جولائی 1972ء تک اپنی رپورٹ مکمل کر کے حکومت کے حوالے کر دی لیکن فوجی جرنیلوں نے حکومت سے منت سماجت کر کے اس رپورٹ کو منظر عام پر نہ آنے دیا۔ رپورٹ میں جرنیلوں کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں کی نااہلیوں کا ذکر بھی تھا لہٰذا رپورٹ کو دبا دیا گیا لیکن جرنیلوں کو بچاتے بچاتے ذوالفقار علی بھٹو انہی جرنیلوں کے ہاتھوں پھانسی پر لٹک گئے۔ اگر اس رپورٹ کی روشنی میں 16دسمبر 1971کے سانحے سے سبق لیا جاتا تو 2مئی 2011ء کو ایبٹ آباد آپریشن بھی نہ ہوتا۔ حیران مت ہوں میں آپ کو بتاتا ہوں کیسے؟
حمود الرحمان کمیشن نے 1972ء میں بڑے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ہوائی حملوں سے پیشگی آگاہی کے لئے ہمارا موجودہ نظام اصلاح طلب ہے۔ دشمن کا ہوائی جہاز ریڈار پر نظر آ بھی جائے تو آپریشن سینٹر میں کسی فیصلے تک پہنچنے میں کافی تاخیر ہو جاتی ہے اس لئے مختلف اداروں میں جلد اور موٴثر رابطوں کا نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ کمیشن نے کہا کہ سمندر پر نیچی پروازیں دیکھنے کے لئے کراچی کی بندرگاہ پر نیا ریڈار سسٹم لگایا جائے، میزائل بردار بحری جہازوں کے ذریعہ کراچی کا محاصرہ کرنے کے لئے بھارت کے منصوبوں کا توڑ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایسی سفارشات تھیں جن پر قومی بحث کی ضرورت تھی لیکن کمیشن کی رپورٹ غائب ہو گئی کیونکہ اس میں فوج کے سیاست میں ملوث ہونے کو ملک کے لئے زہر قاتل قرار دیا گیا تھا۔ کمیشن نے لکھا کہ سینئر فوجی کمانڈروں کے اخلاقی انحطاط اور نااہلی کی وجہ 1958ء کے بعد مارشل لاء کی ڈیوٹی تھی جس نے اُنہیں کرپشن، شراب اور عورتوں کی لت ڈالی۔ پلاٹوں اور مکانوں کے لالچ نے فوجی افسران میں دشمن سے لڑنے کی صلاحیت کو ختم کر دیا۔ مارشل لاء کی حکومتوں میں فوجی افسران کو ملنے والے اختیارات نے اُن کے کردار کو مسخ کر دیا۔ کمیشن نے فوج میں کرپشن کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا۔ مسعود مفتی صاحب نے اپنی کتاب ”چہرے اور مہرے“ میں کمیشن کی رپورٹ کا جو خلاصہ شامل کیا ہے وہ پڑھ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جو غلطیاں جنرل ایوب خان نے کیں وہی جنرل یحییٰ، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف نے دہرائیں۔ ایوب خان نے فوجی افسران میں سرکاری زمینیں بانٹنی شروع کیں اور یہ سلسلہ مشرف دور تک چلتا رہا۔ حمود الرحمان کمیشن نے لکھا کہ فوجی افسران زمینیں الاٹ کراتے رہے اور ایک سے زیادہ مکان بناتے رہے لیکن پاکستان کا دفاع نہ کر سکے۔ کمیشن نے جنرل یحییٰ خان، جنرل عبدالحمید خان، جنرل ایس ایم پیرزادہ، جنرل عمر، گل حسن، جنرل مٹھا اور جنرل نیازی پر عوام کے سامنے کھلا مقدمہ چلانے کی سفارش کی۔ کمیشن نے بتایا کہ فوجی جرنیلوں نے صرف مشرقی پاکستان میں ہتھیار نہ ڈالے بلکہ ضلع سیالکوٹ کی تحصیل شکر گڑھ کے پانچ سو گاؤں بغیر کسی جنگ کے دشمن کے حوالے کر دیئے اور ہیڈ مرالہ ورکس کے قریب پھک لیاں کا علاقہ بھی بھارتی فوج کو دیدیا جس پر جنرل ارشاد احمد خان اور جنرل عابد زاہد کا کورٹ مارشل ہونا چاہئے۔ اور تو اور کمیشن نے مشرقی پاکستان میں نیشنل بنک سراج گنج برانچ سے 13کروڑ روپے لوٹنے کا الزام بریگیڈیئر ارباب جہاں زیب پر لگایا جو بعد میں جرنیل بن گئے۔ غور کریں تو ان جرنیلوں کا کردار جنرل پرویز مشرف کے کردار سے کچھ مختلف نہ تھا۔ انہوں نے اپنے ہی ملک میں اپنے ہی لوگوں پر گولیاں برسا کر انہیں پاکستان کا دشمن بنایا اور مشرف نے بھی یہی کچھ کیا۔ مشرف نے اپنے فوجی اڈے امریکا کو دیدیئے لہٰذا امریکا کے لئے 2مئی کا ایبٹ آباد آپریشن زیادہ مشکل نہ تھا کیونکہ وہ تو پہلے سے پاکستان کے اندر چھپا بٹھا تھا۔ قوم کو بتائے بغیر امریکا کو پاکستان میں فوجی اڈے دینا اور پھر انہی اڈوں سے پاکستانیوں پر بمباری ایک جرم تھا جس کی کسی نہ کسی تو سزا ملنی چاہئے۔ موجودہ حکمرانوں نے قوم سے غداری کے الزام میں جنرل پرویز مشرف پر مقدمہ نہ چلایا تو ممکن ہے ان حکمرانوں کے ساتھ وہی ہو جو ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ہوا۔ بہتر ہے کہ 16دسمبر سے سبق سیکھ لیا جائے تاکہ پھر کوئی 2 مئی جیسا واقعہ پیش نہ آئے۔
 


    Powered by Control Oye