Quran | Hadith | Seerat | Columns  | Newspapers  |  Photos   |E-Library |

سولہ دسمبر کی طرف واپسی۔۔اسداللہ غالب

بسم اللہ
سولہ دسمبر کی طرف واپسی۔۔اسداللہ غالب

 کاش! آج کیلنڈر پر سولہ دسمبر کا ہندسہ نمودار نہ ہوتا۔اس سانحے کو اکتالیس برس گزر گئے مگر ہم وہیں ،کہیں اٹکے ہوئے ہیں، پلٹن میدان میں بھارتی فوج کے ہاتھوں پاکستان کی رسوائی کے صرف چھ سال بعد ہماری افواج کے کمانڈر انچیف جنرل ضیاالحق نے اپنے ہی ملک پر فوجی یلغار کر دی اور ایک منتخب سویلین حکومت کا تختہ الٹ کر ملک کو مارشل لا کے اندھیروں کی نذر کر دیا،ہماری بد نصیبی کی انتہا یہ ہے کہ ہمارے بیشتر قومی قائدین نے ایک غاصب فوجی آمر کا ساتھ دیا اور پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم کو پھانسی دے کر شہید کر دیا گیا، اس کی لاش راتوں رات گڑھی خدا بخش پہنچا کر دفن کر دی گئی۔اس کی نماز جنازہ میں ایک انگلی پر گنے جانے والے افراد کو شمولیت کی اجازت دی گئی۔اور ان کا منہ دیکھنے کی اجازت بھی ان کے اہل خانہ کو نہ ملی۔یہ جبر کے ایک طویل دور کا آغاز تھا، مارشل لا ڈکٹیٹر کا وعدہ تو یہ تھا کہ نوے دن کے اندر الیکشن کرا دیئے جائیں گے اور اقتدار منتخب نمائندوں کو منتقل کر دیا جائے گا لیکن آگے چل کرمثبت نتائج کی شرط عائد کر دی گئی، نو ے دن کا وعدہ نو سال بعد یوں پورا ہوا کہ کسی سیاسی جماعت کو ا س میں حصہ لینے کی اجازت نہ دی گئی، یہ غیر سیاسی بنیادوں پر انتخابات تھے۔صرف تین سال بعد اس پارلیمنٹ سے بھی مارشل لا ڈکٹیٹر اکتا گئے اور اسے عجلت میں لکھی گئی چند سطروں پر مشتمل حکم نامے کے تحت برخواست کر دیا گیا۔مجھے یہ سب کچھ اس لئے یاد آرہا ہے کہ 2011 کے سولہ دسمبر سے صرف دو روز پیشتر ملک کے ایک اور منتخب وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ اگر انہیں استعفی دینے پر مجبور کر دیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں گھر کا راستہ ناپیں اور پھر ہماری زندگیوں میں نئے الیکشن نہیں ہوں گے، وزیر اعظم نے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ لینے کی ضرورت نہیں اور اگر ایسا کیا گیا تو بہتر ہو گا کہ وہ سیاست سے کنارہ کش ہو جائیں، اگرچہ وزیر اعظم نے کسی کی طرف انگلی نہیں اٹھائی لیکن ایک امریکی شہری منصور اعجاز کے مبینہ میمو پر جو طوفان اٹھایا گیا ہے اور جس طرح غداری کا کیس چلانے کے لئے دباﺅ بڑھایا جا رہا ہے، اس سے قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی غیر ملکی کی سازش پر پاکستان میں حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ جاری کئے جائیں گے۔میڈیا نے ایک طوفان برپا کر رکھا ہے کہ میمو لکھوانے کی اصل ذمے داری صدر زرداری پر عائد ہوتی ہے، اس لئے وہ بھی غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔میڈیا کا یہ شوربھی ریکارڈ پر ہے کہ صدر زرداری اسی غداری کے مقدمے سے بچنے کے لئے بیمار پڑے ہیں اور اچانک دوبئی روانہ ہو گئے ہیں۔کوئی تو ان کی بیماری کو تسلیم ہی نہیں کرتا اور اسے محض ڈرامہ کہا جاتا ہے اور کوئی ان کے قلب و ذہن میں تانک جھانک کے بعد خطرناک بیماریوں کا انکشاف کر رہا ہے۔کسی کا کہنا ہے کہ صدر کو ایک سافٹ کو کے ذریعے چلتا کر دیا گیا ہے اور اب وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔اگرچہ صدر زرداری ہسپتال سے فراغت کے بعد اپنے دوبئی کے گھر میں منتقل ہو گئے ہیں لیکن افواہوں کا سلسلہ ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتا، کہا جارہا ہے کہ وہ اسی گھر میں آرام کریں گے اور تیل اور تیل کی دھار دیکھنے کے بعد ہی واپسی کا فیصلہ کریں گے۔ صدر زرداری نے انہی افواہوں کے توڑ کے لئے اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو سیاست کے محاذ پر سر گرم اور فعال ہونے کی ہدائت کی ہے لیکن اس اقدام کے بھی نئے سے نئے معانی تلاش کئے جارہے ہیں۔میں ذاتی طور پر پی پی پی کی چھوٹی بڑی قیادت کے قریب نہیں ، اس لئے میرے پاس ان افواہوں یا خبروں کی تصدیق یا تردید کا کوئی ذریعہ نہیں، میرے پاس جناب زرداری کا کوئی نیا یا پرانا فون نمبر بھی نہیں، اس لئے میں ان سے براہ راست رابطے کی کوشش بھی نہیں کر سکتا۔میری مجبوری یہ ہے کہ حالات و واقعات کے اندر جھانک کر ٹوہ لگانے کی کوشش کرتا رہوں، مجھے وزیر اعظم کے چند حالیہ بیانات پر سخت تشویش لاحق ہے، ایک تو انہوں نے کہا کہ میمو کے مسئلے کی ذمے داری قبول کروں گا، دوسرے انہوں نے کہا کہ وہ صدر کا دفاع کریں گے، تیسرے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پارٹی کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپ سکتے، اب ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے استعفی دیا تو کوئی دوسرا شخص ایوان کا اعتماد حاصل کر کے وزیر اعظم نہیں بن سکتا اور پھر سب کو گھر جانا پڑے گا،اوراگلے الیکشن ان کی زندگیوں میں نہیں ہوں گے۔ میں یہ سمجھنے سے عاری ہوں کہ کیا خدا نخواستہ ملک پر کوئی بیرونی قوت قابض ہو جائے گی جسے یہاں نئے الیکشن کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہو گی، اور وہ موجودہ سیاستدانوں کی زندگی کا چراغ خدا نخواستہ فوری طور پر گل کر دے گی، میں وزیر اعظم کے اس بیان کو ان کے دوسرے بیان کی روشنی میں پڑھوں جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ ملک کے اندر ہسپتال میں علاج کرانے کی صورت میں صدر زرداری کی جان کو خطرہ لاحق تھا تویہ تمام باتیں از حدتشویشناک ہیں ۔وزیر اعظم بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں اور جواب میں کوئی تسلی دینے والا نہیں کہ اس ملک کی خیر، اس ملک کے قائدین کی خیر، اس ملک کے عوام کی خیر، اس ملک کی سلامتی ، اس کی آزادی اور اس کے اقتدار اعلی کی خیر۔1971میں بھی یہی عالم تھا، ملک میں عام انتخابات ہو چکے تھے، لیکن نئی منتخب قیادت کو غداری کے الزامات کے تحت جنرل یحی خاں نے قیدو بند میں ڈال دیا تھا۔اور مشرقی پاکستان کے ان عوام کے خلاف اس وقت کی فوج نے دھاوا بول دیا تھا جنہوںنے شیخ مجیب کو وٹ دیئے تھے۔تاریخ جنرل یعقوب علی خان کو خراج عقیدت پیش کرے گی جنہوں نے اس یلغار کی کمان کرنے سے انکار کر دیا تھا۔آج بظاہر وہ حالات نہیں ہیں، موجودہ آرمی چیف ریکارڈ پر ہیں کہ وہ جمہوریت کو مستحکم کریں گے، انہوں نے انتہائی نا مساعد حالات میں اپنا عہد نبھایا اور ملک کو دہشت گردی کے فتنے سے بھی محفوظ کیا۔امریکی جارحیت کے خلاف بھی انہوں نے قوم کو متحد کیا ہے اور حکومت بھی ان کی مکمل حمائت کر رہی ہے، مجھے حکومت اور فوج کے درمیان دوری پیدا کرنے والی کوئی ایک وجہ بھی نظر نہیں آتی،حکومت کا دوسرے اداروں سے بھی کوئی ٹکراﺅ نہیں۔زیا دہ سے زیادہ امریکی سازشی اور مسلمہ وارداتئے ،منصور اعجاز نے ایک ڈرامہ رچا رکھا ہے اور اس نے پہلے تو انتہائی عیاری سے اپنے آپ کو لائق اعتماد بنا یا اور حسین حقانی کی چھٹی کروائی، میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ کی طرف دھکیلا اور اب وہ اپنے اصل روپ میں سامنے آ گیا ہے اور اس نے آئی ایس آئی پر براہ راست الزامات لگانے شروع کر دیئے ہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر وہ پہلے جھوٹا نہیں تھا تو اب بھی سچ ہی بول رہا ہے ، حالانکہ پاکستان میں اس کو نہ کو ئی پہلے سچا ماننے کو تیار تھا ، نہ اب اس کے الزامات پر کوئی بھی کان دھرنے کو تیار ہے۔وہ مکرو فریب کا پیکر ہے، وہ مانتا ہے کہ ایک امریکی شہری ہونے کے ناطے اس کی وفاداری امریکہ کے ساتھ ہے، تو پھر ہر کوئی یہی کہے گا کہ وہ امریکہ کا آلہ کار ہے اور پاکستان میں انتشار پھیلانا اس کا مقصد ہے۔ ہم اس ایک شاطر کے ہاتھوں میں کھیل کر پاکستان کو واپس سولہ دسمبرکے اندھیروں میں کیوںدھکیلنا چاہتے ہیں؟کاش! آج کیلنڈر پر سولہ کا ہندسہ نمودار نہ ہوتا اور میرے جیسے وہمی، اندیشہ ہائے دور دراز کا شکار نہ ہوتے۔



    Powered by Control Oye