|
| اور دستخط ہو گئے۔۔۔اسداللہ غالب | بسم اللہ اور دستخط ہو گئے۔۔۔اسداللہ غالب یہ مرحلہ بھی سر کر لیا گیا، نیٹو سپلائی کے لئے ایم او یو پر دستخط ہو گئے، اس سے پارلیمنٹ کا یہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے کہ امریکہ سے نئے تعلقات میں لکھت پڑھت ضروری ہے مگر نیٹو سپلائی شروع ہونے کے بعد پھر بند ہے،سر منڈاتے ہی اولے پڑے ، ادھر نیٹو کے لئے ٹرکو ںنے حرکت کی، ادھر سے بارودی منصوبے بھی متحرک ہو گئے، ٹرک نذرآتش ہونے لگے۔ایم او یو میں لازمی طور پر یہ لکھا جانا چاہئے کہ ان ٹرکوں کی حفاظت کون کرے گا۔اگر تو حفاظتی انتظام امریکہ نے کرنا ہے تو ان کے ڈرون، ان قافلوں کے اوپر پرواز کرتے نظر آئیں گے اور جہاں کہیں شک گزرے گا ، ٹھاہ کر دیں گے اورہم پھر چیخ و پکار کرتے رہ جائیںگے۔ مگر وہ جو آج کل پنجاب حکومت کا ماٹو ہے ، بات ہے اصول کی، اسی اصولی بات کے تحت ہم نے ایم او یو کو مانا ہے، ورنہ تو ہم امریکہ سے قطع تعلق کرنے پر تلے ہوئے تھے، جو کہ ظاہر ہے ہو نہیں سکتا۔امریکہ ٹھہرا، ایک سپر پاور، بلکہ واحد سپر پاور، اس سے کون بگاڑ کر رہ سکتا ہے، چین ، روس ، برطانیہ، فرانس ،بھارت نے اس سے بگاڑ پیدا نہیں کیا، مسلمان ملکوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو امریکی حلیف ہیں ، ہمارا سب زیادہ چہیتااور پسندیدہ ملک ترکی ، امریکہ کو بھی سب سے زیادہ چہیتا ہے، وہ کہتا ہے ساری فوجیں چلی جائیں مگر وہ افغان عوام کی خاطر اس کے بعد بھی کابل میں قیام و طعام کرتا نظر آئے گا۔ترکی تو بہت زیادہ اصولی باتیں کرتا ہے، ان دنوں وہ شام کے معاملے میں امریکہ سے زیادہ اصول پسند واقع ہوا ہے۔امریکہ تو صرف صدر بشار الاسد کے جانے کا مطالبہ کرتا ہے، مگر ترکی کے جیٹ طیارے عملی طور پر اس نیک کام میں مصروف ہیں۔جب ماحول یہ ہو تو پاکستان کیوں اور کیسے روٹھے گا، ہر چند یہاں ایک عزت دار گروہ موجود ہے جو بات بات پر غیرت کی دہائی دینے لگ جاتا ہے مگر وہ تاریخ کو سامنے نہیں رکھتا، پاکستان تو ہمیشہ سے امریکی کیمپ میں رہا ہے، سیٹو ، سنٹو ،وغیرہ میں پیش پیش دکھائی دیتا رہا، سووئت روس کے خلاف اس نے امریکہ کو جاسوسی اڈے دئیے، ایک اڈہ پشاور کے نزدیک بڈبیر میں پکڑا گیا اور روس نے پاکستان کے گرد سرخ نشان لگا لیا۔اس کے بعد پاکستان کے لئے غیر جانبدار رہنا مشکل تھا، افغانستان پر روسی جارحیت کے بعد تو پاکستان فرنٹ لائن سٹیٹ بن گیا اور ساری دنیا کے مجاہدین پاکستان کے راستے سووئت روس کے خلاف بر سر پیکار ہو گئے، اس جہاد کی پیٹھ امریکہ اور اس کے اتحادی ٹھونک رہے تھے، سووئت روس شکست سے دوچار ہو گیا اور بکھر کر رہ گیا اور امریکہ اس علاقے سے چلتے بنا، آج بھی پاکستان کو یہی خدشہ لاحق ہے کہ امریکہ ایک بار پھر پرانی تاریخ دہرائے گا اور اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلا جائے گا، بلکہ اس بار تو بھارت کو افغان امور میں بالادستی کی پوزیشن بھی دے دی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان نے نیٹو سپلائی بند کی، پارلیمنٹ کی قرارداد بعد میں آئی اور پھر اس کا حترام کیا گیا اور یہ سپلائی کئی ماہ تک بند رہی، امریکہ کو پاکستان کی ضرورت تھی، اس نے ہماری شرائط پرنیا تحریری معاہدہ کرنے کی حامی بھری تو یہ سپلائی کھلی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پاک فوج اس میں اسٹیک ہولڈر ہے، اس کو اعتماد میں لے کر ہر فیصلہ کیا جارہا ہے۔چار سال قبل نئی پارلیمنٹ معرض وجود میں آئی تو اس نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے وار آن ٹیرر کا ساراکنٹرول جنرل کیانی کو سونپ دیا تھا۔ سول حکومت اور اپوزیشن سبھی اس فیصلے میں شریک تھے ، اب امریکہ کے ساتھ ایک ایم او یو پر دستخط ہوئے ہیں تو یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ اس پر دستخطوں سے پہلے ایک فوجی جرنیل کو سیکرٹری دفاع کا محکمہ سونپ دیا جائے تا کہ سول حکومت پر کوئی شک نہ کیا جا سکے کہ اس نے اندر کھاتے امریکہ کے ساتھ کوئی خفیہ معاہدہ کر لیا ہے۔ ہمارے ہاں شکوک وشبھات کو بنیاد پر سیاست چمکائی جاتی ہے، سو حکومت نے یہ راستہ بند کر دیا، اب دھرنے اور لانگ مارچ کا کوئی جواز باقی نہیں رہا، ہاں احتجاج کرنا ہر ایک کا بنیادی حق ہے، یہ جاری بھی رہے اور قانون ہاتھ میں نہ لیا جائے تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔پنجاب حکومت بھی احتجاج کے مستقل ایجنڈے پر چل رہی ہے، اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، اسی اختلافی نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر حکومت کو اپنی پالیسیوں کی اصلاح کا موقع ملتا ہے اور فائدہ بہر صورت عوام کو پہنچتا ہے۔پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہت زیادہ اتار چڑھاﺅ دیکھنے میں آتا رہا ہے،کبھی دونوں ملک باہم شیرو شکر ہو جاتے ہیں اور امریکی صدر کی بیوی ہمارے بشیر ساربان کے اونٹ پر سفر کرتے ہوئے قہقہے بکھیرتی ہے اور کبھی امریکی افواج سلالہ چیک پوسٹ پر ہمارے فوجی جوانوں اور افسروں کو جارحانہ حملے میں شہید کر دیتی ہیں۔کبھی ہمیں امریکی خارجہ پالیسی کا سنگ میل قرار دیا جاتا ہے اور کبھی ہمیں ڈبل گیم کے طعنے ملتے ہیں اور ڈو مور کے تقاضے سننے پڑتے ہیں۔کبھی ہمارے صدر مشرف کا کیمپ ڈیوڈ میں ریڈ کارپٹ استقبال کیا جاتا ہے اور کبھی شکاگو میں ہمارے صدر زرداری کو نظر انداز کرنے کا تائثر ابھارا جاتا ہے۔امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے بھٹو صاحب کو عبرت کی مثال بنانے کی دھمکی دی تھی جسے جنرل ضیا الحق اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ سے پورا کر دکھایا ۔کبھی امریکہ کے یوم آزادی کی چھٹی پر صدر کلنٹن ، ہمارے وزیر اعظم نواز شریف کو شرف باریابی بخشتے ہیں۔سن دو ہزار میں پاکستان اور بھارت کے آٹھ ایڈیٹروں کے وفد میں ،میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ پہنچا تو صدر کینیڈی کے ساتھ بھارت کے سفر میں ملنے والی شیلڈ دکھاتے ہوئے انڈر سیکرٹری کارل انڈر فرتھ کا چہرہ وفور جذبات سے تمتما رہا تھا، اگلے روز ہمیں کانگرس کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئر مین سے ملنا تھا ۔ ہم ان کے کمرے میں پہنچے مگر وہ غائب تھے پتہ چلا کہ وہ بھارتی کاکس کے سربراہ ہیں اس لئے کسی ایسے وفد سے ملاقات نہیں کر سکتے جس میں پاکستانی بھی شریک ہوں ، یہی امریکہ نائن الیون کے حوادث کا شکار ہوا اور اسے پاکستان کی ضرورت پڑی تو ایک روز ایڈیٹروں اور کالم نویسوںکے سامنے لاہور میں اس وقت کے وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری کا چہرہ یہ بتاتے ہوئے تمتما رہا تھا کہ وہ جس امریکی عہدیدار سے چاہیں ، فون پر بات کر سکتے ہیں، پاکستان ان دنوں امریکہ کا لاڈلا بن چکا تھا۔مگرحقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ ہمیں اپنی اوقات کے اندر رہنا ہے، ہم بھارت کے ساتھ اپنا موازنہ، نہ کریں ، وہ ایشیا میں سوا ارب انسانوں کی آبادی کی وجہ سے ایک وسیع منڈی ہے، جس کو پس پشت ڈال کر کوئی ملک پاکستان کو برتر مقام نہیں دے سکتا لیکن ہماری دفاعی اور جغرافیائی اہمیت سے بھی کسی کو انکار کی مجال نہیں، جب تک ہماری کسی کو ضرورت ہے، ہماری یہ اہمیت کم نہیں کی جا سکتی اور اگر ہم کسی کا مفاد پورا نہیں کر سکتے تو کوئی ہمیں گود میں اٹھا اٹھا کر جھولا نہیں جھلا سکتا۔ پاکستان کو اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونا ہے، اپنے وسائل کے اندر رہنا ہے، غیروں کی محتاجی ختم کرنی ہے، پھر ہمیں کسی ایم او یو پر دستخط نہیں کرنے پڑیں گے۔
| Powered by Control Oye
|