”لاوارث“۔۔عباس اطہر
سڑکوں پر ہمارے داخلی وقار کی دھوم مچی ہے اور جمیکا میں ہمارے خارجی وقار کی بلندی کا تماشا یوں لگا یا گیاکہ کوچ بھی ہمارا قتل ہوا اور مشتبہ بھی ہم ٹھہرے۔ جمعرات کو جمیکا کی پولیس نے ہماری ٹیم کے ساتھ جو سلوک کیا وہ صرف پاکستانیوں کے ساتھ ہی کیا جا سکتا تھا۔ کیونکہ ہم ملک کے اندر ہوں یا باہر لاوارث ہی ہوتے ہیں۔ پولیس نے پاکستانی کھلاڑیوں کے فنگر پرنٹس لئے اور طویل پوچھ گچھ کی گئی پھر مزید تسلی کیلئے ڈی این اے ٹیسٹ بھی لے لئے گئے ہیں۔ کھلاڑیوں میں خوف و ہراس کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے اہل خانہ سے بھی ڈر ڈر کر بات کر رہے تھے۔ جس سے ان کے خاندان الگ پریشان ہوئے۔ جمیکا پولیس باب وولمر کی موت کو قتل قرار دے چکی ہے۔ نئے شواہد کے مطابق باب وولمر کو ہفتے کی رات اور اتوار کی صبح کے درمیان گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق وولمر کی گردن کی ہڈی غدود کے قریب ٹوٹی ہوئی تھی۔ چہرے کے نچلے حصہ کی ہڈیاں بھی شکستہ تھیں۔ جمیکا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سب سے زیادہ تفتیش شاہد آفریدی اور کوچ مشتاق احمد سے کی گئی۔ مشتاق کو فوری طور پر باب وولمر کی جگہ تعینات کیا گیا تھا۔ حیرت یہ ہے کہ جمیکن پولیس نے ہوٹل کی انتظامیہ اور ملازموں پر زیادہ توجہ نہیں دی جنہیں اس معاملے کی سب سے زیادہ خبر ہو گی کہ باب وولمر کے کمرے میں ہوٹل کے اندر سے یا باہر سے کون آیا۔ ورلڈ کپ جیسے ایونٹ پر جمیکن انتظامیہ اور پولیس ہی تمام ٹیموں کے کھلاڑیوں اور عہدیداروں کی سکیورٹی کی ذمہ دار تھی۔ باب وولمر کا قتل اس کی اپنی نااہلی اور غفلت کا نتیجہ ہے لیکن ہمارے ملک کی پولیس کی طرح اس نے بھی آسان راستہ منتخب کیا ۔جس طرح ہمارے ہاں قتل یا ڈاکے وغیرہ جیسے سنگین جرائم کی تفتیش گھر والوں یا محلہ داروں سے شروع ہوتی ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ خود مدعی پارٹی کو اتنا پریشان کر دیا جائے کہ وہ انصاف مانگنے کے مطالبے سے دستبردار ہو جائے۔ یہی حکمت عملی شاید جمیکن حکام کی تھی۔ باب وولمر کے قتل کے سلسلے میں پاکستان اور پاکستانی ٹیم مدعی ہیں اور انہیں زچ کرنے کا مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ وہ سکیورٹی کی ناکامی کا سوال نہ اٹھائیں۔ گزشتہ روز ماضی کے سٹار فاسٹ باﺅلر سرفراز نواز نے پی ٹی وی کے ایک پروگرام میں ویسٹ انڈیز کے جرائم کلچر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ویسٹ انڈیز میں جرائم پیشہ افراد سامنے آ کر کسی کو نہیں لوٹتے‘ ان کا طریقہ واردات مختلف ہے۔ وہ جھاڑیوں میں چھپ کر شکار کا انتظار کرتے ہیں‘ جیسے ہی شکار ان کی رینج میں آتا ہے‘ وہ فائرکر دیتے ہیں‘ پھر وہیں چھپ کر اس کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں اور یہ تسلی کرکے اس کی تلاشی لیتے ہیں کہ وہ زندہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنا ایک واقعہ بھی بیان کیا جو یوں ہے کہ وہ ویسٹ انڈیز میں کار پر جا رہے تھے راستے میں انہوں نے گاڑی کا شیشہ نیچے کرکے اپنا بازو باہر نکال لیا‘ ان کی کلائی پر قیمتی گھڑی بندھی ہوئی تھی‘ اسی اثنا میں ایک اور گاڑی ان کے قریب آئی‘ گاڑی میں بیٹھے ایک مہذب شخص نے انہیں مخاطب کرکے کہا ”جنٹلمین تم پاگل تو نہیں“۔ سرفراز نواز نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا‘ پھر وہ خود ہی بولا ”اپنا بازو اندر کرکے شیشہ بند کر لو‘ تمہیں پتہ نہیں یہاں غنڈے کتنے بے رحم ہیں‘ وہ تمہاری گاڑی کے قریب سے گزریں گے اور محض گھڑی چھیننے کی خاطر تمہارا پورا بازو کاٹ کر لے جائیں گے“۔ یہ ہے اس ملک کی صورتحال جہاں آئی سی سی نے ورلڈ کپ منعقد کرانے کا فیصلہ کیا اور ساری دنیا کی ٹیموں کو کھیلنے کیلئے بلوایا۔ جن علاقوں میں مجرم اس طرح کھلے پھر رہے ہوں وہاں کی پولیس کے بارے میں بھی یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ اپنے کام میں کتنی ماہر ہو گی۔ ہماری کرکٹ ٹیم کی نفسیاتی کیفیت پہلے ہی یہ تھی کہ اس نے زمبابوے کے خلاف آخری میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس اطلاع پر آئی سی سی کے صدر میلکم سپیڈ فوری طور پر جمیکا پہنچے پھر پی سی بی کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے فون کے ذریعے کھلاڑیوں کو میچ کھیلنے پر آمادہ کیا۔ ہماری ٹیم کو اب جن حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہ شاید طویل عرصے تک اسے مایوسی کی کیفیت میں مبتلا رکھیں اور اسے دوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے میں بہت زیادہ وقت لگ جائے۔ سوال یہ ہے کہ جب ٹیم کے ساتھ سراسر زیادتی ہو رہی ہے‘ ہماری حکومت اور وزارت خارجہ کہاں ہے؟ ہمارے کرکٹ حکام کیا کر رہے ہیں؟ کیا آسٹریلیا‘ انگلینڈ‘ جنوبی افریقہ یا کسی دوسرے ملک کے ساتھ اس طرح کا حادثہ ہو جاتا تو وہ ملک بھی اپنی ٹیم کا اسی طرح تماشا دیکھتے رہتے جس طرح پاکستان کے ارباب اختیار دیکھ رہے ہیں۔ ہم ابھی تک احتجاج کے دو بول بھی نہیں بول سکے۔ سسٹم ایڈہاک ازم کے تحت چلائے جائیں تو ایسی ہی برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔ ملک کے اندر تماشا بننے میں تو پہلے ہی کوئی ہمارا مقابلہ نہیں تھا۔ اب پوری دنیا میں تماشا بننے کا اعزاز بھی ہمیں ہی حاصل ہوا ہے۔ اوول کے میدان میں بال ٹمپرنگ کا الزام لگے تو ہم بے قصور ہونے کے باوجود معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہمیں گرین ٹاپ پچ پر کھلا کر آئر لینڈ سے ہرا دیا جائے تب بھی ہم ایک دوسرے کا منہ تکنے لگتے ہیں۔ ہم اتنے کمزور کیوں ہیں؟ کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ ہمارے حکمران ”بیسٹ سیلر“ ہیں اور انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا میںاس ملک کی اوقات کیا رہ گئی ہے۔ 20-3-07
|