|
| پنجاب کے ہسپتالوں میں فوج کے ڈاکٹروں کو بلانے سے ثابت ہو گیا کہ پنجاب حکومت مکمل طور پر ناکام ہو گئی ‘تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی صوبے کا سربراہ |
Monday, 02 July 2012 21:25:16
پنجاب کے ہسپتالوں میں فوج کے ڈاکٹروں کو بلانے سے ثابت ہو گیا کہ پنجاب حکومت مکمل طور پر ناکام ہو گئی ‘تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی صوبے کا سربراہ احتجاجی مظاہروں کی قیادت کر رہا ہے‘ وہ دن دور نہیں جب اس پر کمیشن بنے گا‘وزیر اعظم سے کہا ہے کہ ساری توجہ توانائی بحران کے حل پر مرکوز کر ےں۔ نائب وزیر اعظم چوہدری پرویز الٰہی کا استقبالیہ تقریب سے خطاب لاہور۔2 جولائی (اے پی پی)پاکستان مسلم لےگ کے مرکزی رہنماءونائب وزیر اعظم چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ پنجاب کے ہسپتالوں میں فوج کے ڈاکٹروں کو بلانے سے ثابت ہو گیا کہ پنجاب حکومت مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے اور یہ منتخب حکومت کے چہرے پر بد نما داغ ہے‘ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہواہے کہ کسی صوبے کا سربراہ احتجاجی مظاہروں کی قیادت کر رہا ہے اوراس دوران مسلم لیگ (ق) کے اراکین اسمبلی اور اس سے وابستہ لوگوں کے گھر جلائے گئے لیکن وہ دن دور نہیں جب اس پر کمیشن بنے گا اور یہ حقائق سامنے آئیں گے کہ ان پر تشدد مظاہروں کو کس کے کہنے پر آرگنائز کیا گیا‘وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے کہا ہے کہ ساری توجہ توانائی بحران کے حل پر مرکوز کر لیں اور اگر ہم نے انتخابات میں جانے سے قبل یہ بحران حل کر لیا تو شریف برادران اور (ن) لیگ والے منہ چھپاتے پھریں گے‘ عام انتخابات میں ہمیں سازش اور دھاندلی کے ذریعے ہرایاگیا لیکن ہم نے صبر کیا اور یہی وجہ ہے کہ آج اقتدار چل کر ہمارے پاس آیا ہے ‘ شریف برادران نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا‘ انہوں نے سعودی عرب مےںصرف چار چار شادیاں کرنا سیکھا ہے جو یہ پاکستان میں آکر کر رہے ہیں‘ رمضان المبارک تک لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں بتدریج کمی واقع ہو گی ۔ وہ پےر کے روز مسلم (ق) کے پارلیمانی لیڈر چوہدری ظہیر الدین کی طرف سے اپنے اعزاز میں دی جانے والی استقبالیہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر راجہ بشارت ‘ چوہدری ظہیر الدین‘ خالد رانجھا ‘ اکرم مسیح گل ‘ بشریٰ رحمان سمیت اراکین قومی وصوبائی اسمبلی‘ عہدیداران اور سابق تحصیل و ضلعی ناظمین کی کثیر تعداد بھی موجود تھی ۔ چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ موجودہ پنجاب حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے اسکی کوئی پالیسی یا وژن نہیں ‘کوئی بھی افسر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کیساتھ کام کرنے کو تیار نہیں اور اس وجہ سے ٹیم ہی نہیں بن سکی ۔ جب ہم نے پنجاب حکومت چھوڑی تھی تو اس وقت خزانے میں ڈیڑھ ارب روپے کیش موجود تھا اورہمارے صوبے کا اپنے ملک کی دیگر اکائیوں نہیں بلکہ خطے میں موازنہ کیا جاتا تھا لیکن آج ساڑھے چار سال بعد صوبہ 430ارب کے اوور ڈرافٹ پر چل رہا ہے اور ڈیفالٹ میں جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی عوام کے جان و مال کی حفاظت وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن وزیر اعلیٰ کی نگرانی میں احتجاجی مظاہروں میں ہمارے اراکین اسمبلی اور ہم سے وابستہ لوگوں کے گھروں کو جلایا گیا ‘ لیکن وہ دن دور نہیں جب کمیشن بنے گا اور اسکے اصل کردار سامنے آئینگے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم حکومت میں آئے تو اس وقت بھی ڈاکٹر اور اساتذہ سڑکوں پر تھے ہمیں بھی مشورے دئیے گئے کہ یہ آپکے خلاف سازش ہے انہیں ٹھیک کر دیتے ہیں لیکن ہم نے ان سے مذاکرات کئے اور ہمارے پانچ سالہ دور میں ایک مرتبہ بھی ڈاکٹر اور کسی بھی شعبے کے ملازمین سڑکوں پر نہیں آئے، موجودہ حالات کے ذمہ دار ڈاکٹر نہیں بلکہ شہباز شریف ہیں‘ آج صحت کے محکمے کا کوئی وزیر نہیں اور سارے فیصلے صرف دو بندے کر رہے ہیں ۔ سرکاری ہسپتالوں میں فوج کے ڈاکٹروں کو بلانے سے ثابت ہو گیا کہ شہباز شریف اور پنجاب حکومت ناکام ہو گئی ہے اور شریف برادران بتائیں اب انکی اہلیت کہاں گئی اور یہ منتخب حکومت کے چہرے پر بدنما داغ ہے ۔ ینگ ڈاکٹرز بھی ہمارے بچوں کی طرح انہیں بلا کر سمجھانا چاہیے تھا اور انکے جائز مطالبات تسلیم کئے جانے چاہیے تھے ‘ آج ڈاکٹروں کے ہاسٹل پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور انہیںجیلوں میں ڈالا جارہا ہے ‘ ہمار ے دور میں ہمارے رویے کی وجہ سے بیرون ممالک سے ڈاکٹر واپس آئے لیکن آج پاکستان سے بیرون ممالک جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے ملاقات میںانہیں بجلی کے بحران اور بلوچستان کے معاملات کو ترجیح بنیادوں پر حل کرنے کا کہا ہے ۔ اگر شجاعت حسین کے فارمولے پر عمل کر لیا جاتا تو توانائی بحران سے نمٹا جا سکتا تھا لیکن شہباز شریف نے جان بوجھ کر اسے ناکام بنایا تاکہ وہ اپنی نگرانی میں جلوس نکال سکیں اور ہمارے اراکین اسمبلی کے گھروں کو جلا سکیں ۔ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے شجاعت حسین کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی سفارشات پر عمل کیا جائےگا ۔انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف اپنے نالائقیوں کی اصلاح کی بجائے انہیں چھپانے کے لئے ڈراموں کا سہارا لیتے ہیں ‘ مینار پاکستان کے گراﺅنڈ میں ٹینٹ آفس لگایا گیا ایک گھنٹہ ٹینٹ آفس میں بیٹھنے کے بعد جہاز پکڑ کر مری چلے جاتے ہیں اور جب کسی نے کہا کہ اس طرح تو لوگوں کو پتہ چل جائے گا تو انہوں نے راولپنڈی میںبھی ٹینٹ آفس قائم کر لیا ہے جہاں سے وہ سیدھے مری جایا کریںگے لیکن عوام کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکی جا سکتی ۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں اچھے پولیس افسران کی ٹیم نہ ہونے کی وجہ سے جرائم میں 35فیصد اضافہ ہوا ہے ۔شہباز شریف نے ہمارے اراکین اسمبلی کے گھروں کو آگ لگا کر جو بیج بویا ہے یہ چند مہینوں میں انکے سامنے آئے گا اور یہی ایڈمنسٹریشن اسکی گواہی بھی دے گی ‘ یہ شاید بھول رہے ہیں لیکن قدرت کا بھی ایک نظام ہوتا ہے ۔ شہباز شریف اپنے دور کا ایک بھی قابل عمل منصوبہ بتا دیں‘ ہمارے دور کے منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگا رہے ہیں ۔ یہ کہتے نہیںتھکتے کہ ہم نے ریکارڈ مدت میں پل بنائے ہیں لیکن انہوںنے جتنی ریکارڈ مدت میں پل بنائے یہ اتنی ریکارڈ مدت میں گرے بھی ہیں ۔میں تو کہوں گاکہ کلمہ چوک کے پل کے نیچے اور اوپر سے کوئی بھی نہ گزرے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی سستی روٹی ‘ ییلو کیب ‘ گرین ٹریکٹر اور آشیانہ ہاﺅسنگ اور دانش سکولوں کے منصوبے بری طرح ناکام رہے ہیں ۔ شہباز شریف نے 200منی ڈیم بنانے کی بات کی تھی لیکن وہ ڈیم کہاں ہیں جبکہ ہم نے اپنے دور میں 35منی ڈیم بنائے۔ کہا جاتا ہے کہ بجلی پیدا کرنے کی اجازت نہیں لیکن ہم نے 350میگا واٹ پیداوار کے حامل منصوبوں کا آغاز کیا جنہیں بند کر دیا گیا ۔ پنجاب میں افر ا تفری کی وجہ سے کوئی بھی سرمایہ کار آنے کو تیار نہیں اور ایک بھی پیسے کی سرمایہ کاری نہیں آئی جبکہ ہمارے دور میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ۔ انہوں نے کہا کہ ماس ٹرانزٹ منصوبے کے لئے ہمیں صرف 4فیصد پر 1.5بلین روپے کا قرضہ مل رہا تھا اور اس منصوبے کی تکمیل سے ایک گھنٹے میں 30ہزار لوگوں نے سفر طے کرنا تھا لیکن اس منصوبے کو بھی بند کر دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور کے کئی فلاحی منصوبوں کو روک دیا گیا جبکہ کئی منصوبے مکمل ہیں لیکن صرف تختی لگانے کی وجہ سے انہیں آگے نہیں بڑھایا جارہا لیکن میں کہتا ہوں کہ تختی جیب میں رکھو لیکن ان منصوبوں کو چلنے دو۔
|
 |
|